
سوئے / سویا
نام :
عربی میں شبت۔ سندھی میں سوا۔ کشمیری میں سوئی۔ اور ہندی میں सोआ کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Dill
Scientific name: Anethum graveolens
Family: Apiaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مدر حیض، کاسر ریاح، ہاضم، دافع درد، مدر بول | ہند و پاک | گرم تر | غدی اعصابی | عضلاتی امراض و علامات |
تعارف:
سوئے ایک خوشبودار یک سالہ جڑی بوٹی ہے جو عموماً 40 سے 100 سینٹی میٹر تک بلند ہوتی ہے۔ اس کا تنا باریک، کھوکھلا، ہلکا سبز اور شاخ دار ہوتا ہے۔ پتے نہایت باریک، دھاگے نما اور نرم ہوتے ہیں جن کی بناوٹ سونف کے پتوں سے مشابہ دکھائی دیتی ہے۔ پورا پودا خوشبودار ہوتا ہے اور ہاتھ سے ملنے پر مخصوص تیز خوشبو پیدا کرتا ہے۔ اس کے پھول چھوٹے، زرد رنگ کے اور چھتری نما گچھوں (Umbels) میں لگتے ہیں۔ پھل بیضوی اور چپٹے ہوتے ہیں جن کا رنگ پکنے پر بھورا یا زرد مائل بھورا ہو جاتا ہے۔ بیج خوشبودار، ہلکے بھورے رنگ کے اور لمبوترے ہوتے ہیں جنہیں دوا اور مصالحے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
سویا ایک معروف خوشبودار پودا ہے جو صدیوں سے خوراک اور طب دونوں میں استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ اس کا اصل تعلق جنوب مغربی ایشیا اور بحیرہ روم کے علاقوں سے سمجھا جاتا ہے، تاہم آج یہ دنیا کے بیشتر گرم اور معتدل خطوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔ اس کے پتے اور بیج دونوں استعمال ہوتے ہیں اور مختلف کھانوں، اچاروں، سلادوں اور ادویاتی تیاریوں میں شامل کیے جاتے ہیں۔سوئے اپنے خوشبودار ضروری تیلوں اور ہاضم خصوصیات کی وجہ سے خاص شہرت رکھتا ہے۔ یونانی، آیورویدک اور روایتی طب میں اسے معدے کی تقویت، ہاضمے کی بہتری اور پیٹ کے بھاری پن کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے نرم سبز پتے سبزی کے طور پر جبکہ بیج مصالحے اور دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سونف
یہ بھی پڑھیں: سنکھیا
یہ بھی پڑھیں: سونا مکھی

کیمیاوی و غذائی اجزا:
ضروری تیل (Essential Oil) کے اجزاء
کاروون (Carvone) لیمونین (Limonene) الفا فیلینڈرین (α-Phellandrene) ڈِل ایتھر (Dill Ether)
مائرسٹیسن (Myristicin) کیمفر (Camphor) سابینین (Sabinene) الفا پائینین (α-Pinene)
بیٹا مائرسین (β-Myrcene) اینیتھول (Anethole)
فلیونوئیڈز (Flavonoids)
کوئرسیٹن (Quercetin) کیمپفیرول (Kaempferol) آئسورہامنٹن (Isorhamnetin) وِسینن (Vicenin)
فینولک ایسڈز (Phenolic Acids)
کلوروجینک ایسڈ (Chlorogenic Acid) کیفیئک ایسڈ (Caffeic Acid) فیرولک ایسڈ (Ferulic Acid)
پی کومیرک ایسڈ (p-Coumaric Acid) پروٹوکیٹیچوئک ایسڈ (Protocatechuic Acid)
وینیلک ایسڈ (Vanillic Acid) سائرنجک ایسڈ (Syringic Acid) روزمیرینک ایسڈ (Rosmarinic Acid)
او کومیرک ایسڈ (o-Coumaric Acid) ٹرانس سنامک ایسڈ (Trans-Cinnamic Acid)
کومیرنز (Coumarins)
امبیلی فیرون (Umbelliferone) اسکوپولیٹن (Scopoletin) برگاپٹن (Bergapten) زینتھوٹوکسین (Xanthotoxin)
دیگر بائیو ایکٹو اجزاء
پولی فینولز (Polyphenols) ٹیرپینوئیڈز (Terpenoids) مونوٹرپینز (Monoterpenes)
سسکوئی ٹیرپینز (Sesquiterpenes) ٹرائی ٹرپینز (Triterpenes) الکلائیڈز (Alkaloids)
گلائکوسائیڈز (Glycosides) ایریڈوئیڈ گلائکوسائیڈز (Iridoid Glycosides) سیپوننز (Saponins)
ٹیننز (Tannins) ریزنز (Resins) سٹیرائڈز (Steroids)
غذائی حیاتیاتی اجزاء
پروٹین، غذائی ریشہ (Dietary Fiber)، ضروری امینو ایسڈز، وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن ای، فولیٹ، کیلشیم، پوٹاشیم، میگنیشیم، فاسفورس، آئرن، مینگنیز، زنک۔
یہ اجزاء سوا (Anethum graveolens) کے بیجوں، پتوں اور ضروری تیل میں مختلف مقداروں میں پائے جاتے ہیں اور اس کی خوشبو، غذائی اہمیت اور طبی خصوصیات میں کردار ادا کرتے ہیں۔

اثرات:
سوئے غدد میں تحریک، عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تقویت پیدا کرتے ہیں۔ مدر حیض، محلل و کاسر ریاح، ہاضم، دافع درد، مدر بول اثرات کے حامل ہیں۔

خواص و فوائد:
سویا کاسر ریاح ہونے کی وجہ سے گیس کو خارج کرتے ہے، اسی لیے اس کے پتوں کو دھنیا کے پتوں کی طرح سالن پر ڈال کر کھایا جاتا ہے، اس کی اہم خوبی یہ ہے کہ یہ سوداوی اثرات کو ختم کردیتا ہے، خون کے گاڑھے پن کو ختم کرتا ہے، مقوی و مسکن اعصاب ہونے کی وجہ سے سوئے کی خوشبو سونگھنے سے نیند آجاتی ہے۔ عضلاتی تحریک رکے ہوئے رحم کے فضلات کو خارج کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے مدر حیض کہتے ہیں، حالانکہ یہ خون زیادہ لانے کی بجائے رحم کی عضلاتی سوزش کو دفع کرتا ہے اور رحم کو طاقتور بنا کر نطفہ قبول کرنے کی قوت پیدا کرتا ہے۔درد گردہ، درد رحم کے لیے اس کا جوشاندہ بہت مفید ہے۔ اس کا عرق گرائپ واٹر بنانے میں کام آتا ہے۔
جدید سائنسی تحقیقات:
جدید سائنسی تحقیق کے مطابق سوا (Dill) ایک ایسی خوشبودار جڑی بوٹی ہے جس میں قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس، فلیونوئیڈز اور مختلف ضروری تیل پائے جاتے ہیں جو جسم میں سوزش کو کم کرنے، ہاضمے کو بہتر بنانے اور جراثیم کے خلاف مزاحمت میں مدد دے سکتے ہیں۔ کچھ تجرباتی مطالعات میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ یہ کولیسٹرول اور خون میں شکر کی سطح کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ابتدائی تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا ہیں، لیکن ابھی زیادہ تر ثبوت لیبارٹری یا جانوروں پر ہونے والی تحقیقات پر مبنی ہیں۔ اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ اسے ایک غذائی معاون (dietary support) کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات:

مقدار خوراک:
بیج، ایک سے دو گرام، پتے تین سے پانچ گرام



Leave Your Comment