
سنکھیا
- May 25, 2026
- 0 Likes
- 3 Views
- 0 Comments
سنکھیا
نام :
عربی میں سم الفار۔ فارس میں مرگ موش۔ ہندی میں سنکھیا کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Arsenic
Scientific name: Arsenic Trioxide (As₂O₃)
Family: Metalloid Element
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مقوی عضلات، مولد سوداء و خون، دافع بلغم، اکال، مخرش، دافع حمیات | ہند و پاک | خشک سرددرجہ چہارم | عضلاتی اعصابی | دمہ کے لیے مفید ہے۔ |
تعارف:
سنکھیا ایک مشہور معدنی اور زہریلا عنصر ہے جو قدرتی طور پر زمین کی تہوں، بعض معدنی پتھروں اور دھاتی کانوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ عموماً سفید، سرخی مائل، زرد یا سیاہی مائل شکل میں ملتا ہے۔ قدیم طب اور کیمیا میں اس کی مختلف اقسام استعمال ہوتی رہی ہیں، خصوصاً سرخ سنکھیا اور زرد سنکھیا۔ اس کا ذائقہ تیز اور اثر انتہائی قوی ہوتا ہے، اسی وجہ سے اسے نہایت احتیاط سے استعمال کیا جاتا تھا۔
سنکھیا ایک نہایت خطرناک مگر تاریخی اہمیت رکھنے والا معدنی مادہ ہے جسے قدیم یونانی، آیورویدک اور بعض روایتی ادویاتی نظاموں میں محدود مقدار میں استعمال کیا جاتا تھا۔ جدید سائنس کے مطابق آرسینک ایک زہریلا عنصر ہے، اور اس کی زیادہ مقدار انسانی جسم خصوصاً جگر، گردے، اعصاب اور جلد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ دنیا کے کئی علاقوں میں زیرِ زمین پانی میں آرسینک کی آمیزش صحت کے بڑے مسائل پیدا کرتی ہے۔ تاہم جدید میڈیکل سائنس میں آرسینک کی بعض مخصوص تیار شدہ ادویات محدود اور کنٹرول شدہ صورت میں بعض بیماریوں، خصوصاً کچھ اقسام کے سرطان کے علاج میں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔
سنکھیا کی سب سے نمایاں پہچان یہ ہے کہ جب اسے آگ پر گرم کیا جائے تو لہسن جیسی تیز بو آتی ہے۔ یہ اس کی جانچ کا قدیم اور آج بھی قابل اعتماد طریقہ ہے۔خام حالت میں سنکھیا سفید سرمئی یا سفید رنگ کا چمک دار مادہ ہوتا ہے۔ چھونے پر ٹھنڈا اور ہموار محسوس ہوتا ہے۔ ذائقہ قدرے میٹھا اور تیز ہوتا ہے۔ یہ پانی میں جزوی طور پر حل ہوتی ہے اور ۶۱۳ ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھلے بغیر براہ راست بخارات میں تبدیل ہو جاتی ہے جسے تصعید (Sublimation) کہتے ہیں۔
سنکھیا کی تین مشہور قدرتی اقسام ہیں۔ سنکھیا سفید جو سب سے زیادہ طبی استعمال میں آتی ہے اور خالص آرسینک ٹرائی آکسائیڈ ہے۔ ہرتال یعنی زرد سنکھیا جو آرسینک اور گندھک کا زرد رنگ مرکب ہے۔ منشیل یعنی سرخ سنکھیا جو آرسینک اور گندھک کا سرخ یا نارنجی رنگ مرکب ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سونا مکھی
یہ بھی پڑھیں: سونا
یہ بھی پڑھیں: سوما کلپالتا

کیمیاوی و غذائی اجزا:
سنکھیا کے اہم کیمیائی اجزا و مرکبات
آرسینک: (Arsenic – As)۔ یہ بنیادی عنصر ہے جو سنکھیا کی اصل حقیقت ہے۔
آرسینک ٹرائی آکسائیڈ: (Arsenic Trioxide – As₂O₃)۔ یہ سفید سنکھیا کہلاتی ہے اور تاریخی طور پر طب اور زہریلے مادوں میں معروف رہی ہے۔
آرسینک ٹرائی سلفائیڈ: (Arsenic Trisulfide – As₂S₃)۔ یہ زرد رنگ کے معدنی مادے کی شکل میں پایا جاتا ہے جسے بعض اوقات “زرنیخ زرد” کہا جاتا ہے۔
آرسینک ڈائی سلفائیڈ: (Arsenic Disulfide – As₂S₂)۔ یہ سرخ یا نارنجی مائل مرکب ہوتا ہے، جسے “زرنیخ سرخ” یا Realgar کہا جاتا ہے۔
آرسینک پینٹا آکسائیڈ: (Arsenic Pentoxide – As₂O₅)۔ یہ ایک طاقتور آکسیڈائزنگ مرکب ہے۔
آرسینائیٹس: (Arsenites)۔ یہ آرسینک کے کم آکسیڈیشن والے نمکیات ہیں۔
آرسینیٹس: (Arsenates)۔ یہ آرسینک کے زیادہ آکسیڈیشن والے مرکبات ہیں اور بعض اوقات فاسفیٹ جیسے رویے رکھتے ہیں۔

اثرات:
سنکھیا کی تین اقسام ہیں اور تین طرح کے مزاج ہیں:
سفید: عضلاتی اعصابی۔ سرخ: عضلاتی غدی۔ زرد: غدی عضلاتی۔
عام طور پر استعمال ہونے والا سنکھیا عضلاتی اعصابی ہوتا ہے جو تیزی کے ساتھ خون کو قلب کی طرف جذب کرتا ہے، جس سے قلب و عضلات میں سکیڑ و تیزی پیدا ہوتی ہے۔ عضلاتی محرک، اعصابی محلل اور غدی مسکن ہے۔ مقوی عضلات، مولد سوداء و خون، دافع بلغم، اکال، مخرش، دافع حمیات اثرات رکھتا ہے۔
خواص و فوائد:
سنکھیا محرک عضلات ہونے کی وجہ سے رطوبات بلغمیہ کو نیست و نابود کردیتا ہے ، اسی وجہ سے یہ بلغمی تکالیف میں ضیق النفس بلغمی سرفہ، جریان، لیکوریا اور دیگر بلغمی امراض میں مفید ہے۔ مصفی خون ہونے کی وجہ سے جذام، آتشک، برص اور دیگر فساد خون سے ہونے والی علامات میں مفید ہے۔ اکال ہونے کی وجہ سے پھوڑے، پھنسیوں اور جلدی امراض میں مرہموں میں شامل کیا جاتا ہے۔ محرک عضلات ہونے کی وجہ سے نامردی اور انتشار کی انتہائی کمی کو دور کرتا ہے، جلق اور مجلوق مریضوں کے طلاوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ موسمی بخاروں، بلغمی اور نوبتی بخار میں تریاق کا درجہ رکھتا ہے۔
احتیاط: سنکھیا نہایت تیز زہر ہے اس کا استعمال بہت احتیاط سے کیا جاتا ہے، تھوڑی سی مقدار زیادہ ہو جائے تو موت واقع ہو سکتی ہے، جہاں سے گزرتا ہے سوزش اور خراش پیدا کردیتا ہے، معدے میں زخم کرتا ہے۔خون آمیز دست اور الٹیاں لگا لیتا ہے۔ اگر کوئی سنکھیا کھا لے تو غدی اعصابی مسہل اور اکسیر سے علاج کرنا چاہیے۔
سنکھیا قدرت کی ان حیرت انگیز اشیاء میں سے ہے جو بیک وقت شدید ترین زہر بھی ہے اور انتہائی مؤثر دوا بھی۔ حکیم صابر ملتانی رحمہ اللہ نے اسے “مطلق زہر” کے زمرے میں رکھا ہے، یعنی یہ اپنی صورت نوعیہ سے اثر کرتی ہے نہ کہ محض کیفیت سے۔ جب یہ اپنی زہریلی مقدار میں استعمال ہو تو فوراً موت واقع ہو جاتی ہے، لیکن یہی سنکھیا جب ماہر حکیم کی نگرانی میں اصلاح کے بعد انتہائی قلیل مقدار میں استعمال کی جائے تو حیرت انگیز شفائی اثرات دکھاتی ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات:
جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ اس کا غیر محتاط استعمال انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود جدید میڈیکل سائنس میں آرسینک کے بعض خاص مرکبات کو نہایت محدود اور کنٹرول شدہ مقدار میں خون کے کچھ سرطانوں کے علاج میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
سنکھیا کی طبی افادیت کو جدید سائنس نے باقاعدہ تسلیم کیا ہے۔ آرسینک ٹرائی آکسائیڈ کو Trisenox کے برانڈ نام سے خون کے سرطان APL (Acute Promyelocytic Leukemia) کے علاج کے لیے FDA نے منظور کیا ہے۔ یہ سرطانی خلیات میں PML-RARα فیوژن پروٹین کو ختم کر کے اور خلیاتی موت (Apoptosis) کو متحرک کر کے کام کرتا ہے۔ تحقیق میں ثابت ہوا کہ آرسینک ٹرائی آکسائیڈ اور tretinoin کے امتزاج سے دو سالہ بقا کی شرح ۹۷ فیصد تک پہنچ گئی۔ دمہ کے علاج میں بھی ۱۸۷۴ء کے طبی مقالے میں آرسینک کو دیگر تمام ادویات سے بہتر قرار دیا گیا، خاص طور پر اعصابی نوعیت کے دمے میں۔ آرسینک ٹرائی آکسائیڈ کا طبی استعمال دو ہزار سال سے زیادہ پرانا ہے۔ ۱۹۷۰ء کی دہائی میں چین کے ہاربن میڈیکل یونیورسٹی کے ڈاکٹر ژانگ ٹنگ ڈونگ نے اسے خون کے سرطان APL میں غیر معمولی طور پر مؤثر پایا، جس کے بعد اسے FDA نے APL، مائیلوڈیسپلاسٹک سنڈروم اور ملٹیپل مائیلوما کے علاج کے لیے منظور کیا۔
2024ء میں شائع تحقیق میں ثابت ہوا کہ آرسینک ٹرائی آکسائیڈ پھیپھڑوں کے سرطان کے اسٹیم خلیات میں Ferroptosis یعنی آئرن سے متعلق خلیاتی موت کا عمل شروع کر دیتا ہے جس سے سرطانی خلیات از خود تباہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ 2023ء میں شائع ایک Umbrella Review میں آٹھ بین الاقوامی ڈیٹابیسز کی تمام Meta-Analyses کا جائزہ لیا گیا۔ نتیجہ یہ سامنے آیا کہ آرسینک ٹرائی آکسائیڈ سرطان کے علاج میں ایک اہم دوا ہے اور اس کی مزید فارماکولوجیکل تحقیق ناگزیر ہے۔

حوالہ جات:
مقدار خوراک:
کشتہ۔ چاول کا چوتھائی حصہ




Leave Your Comment