Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. سونا مکھی

سونا مکھی

نام :

عربی میں حجر النور۔ فارسی میں سنگ روشنائی۔اور  قشیشا کہتے ہیں۔

Hakeem Syed Abdulwahab Shah Sherazi

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)

نام انگلش:

Name: White Iron Pyrite

Scientific name: Marcasite

Family:

تاثیری نام:
مقام پیدائش:
مزاج  طب یونانی:
مزاج  طب پاکستانی:
نفع خاص:
جالی، آبلہ انگیز، مخرش، مقرح، محلل اورام، مندمل زخمہند و پاکگرم خشک درجہ دومغدی عضلاتیسوداوی علامات

 

تعارف:

سون مکھی مارکاسائٹ (Marcasite) ایک قدرتی معدنیات (منرل) ہے جو لوہے اور گندھک (سلفر) کے ملاپ سے بنتی ہے۔ کیمیائی طور پر یہ آئرن سلفائیڈ (FeS2) ہے۔ یہ پتھر دیکھنے میں بہت حد تک ‘پائرائٹ’ (جسے بے وقوفوں کا سونا بھی کہا جاتا ہے) جیسا لگتا ہے، لیکن ان دونوں کی اندرونی ساخت اور خصوصیات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ مارکاسائٹ اپنی چمک دمک اور خوبصورتی کی وجہ سے پرانے زمانوں سے ہی توجہ کا مرکز رہا ہے۔

تازہ نکلنے پر اس کا رنگ ہلکا پیلا، پیتل جیسا یا کانسی کی طرح ہوتا ہے، لیکن یہ پائرائٹ کے مقابلے میں زیادہ سفید اور ہلکا محسوس ہوتا ہے۔ جب یہ ہوا کے سائے میں آتا ہے تو اس پر جلدی زنگ لگنے لگتا ہے اور اس کی چمک مدھم پڑ کر بھوری یا سرخی مائل ہو جاتی ہے۔

اس کے کرسٹل عام طور پر مرغے کی کلغی (Cockscomb) یا نیزے کی نوک جیسی شکل میں آپس میں جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہی منفرد ساخت اسے دوسرے مشابہہ پتھروں سے بالکل الگ کر دیتی ہے۔ یہ پتھر وزن میں بھاری ضرور ہوتا ہے لیکن مزاج کے اعتبار سے انتہائی خستہ ہوتا ہے۔ اگر اسے کسی کھردری سطح پر رگڑا جائے تو اس میں سے گہرے سبز یا سیاہ رنگ کا پاؤڈر (Streak) حاصل ہوتا ہے، جو اس کی ایک مستند پہچان ہے۔

طب میں اس پورے معدنی خاندان کو مرقشیشا (Marqashisha) یا ماکشک (Makshik) کہا جاتا ہے۔ کتبِ طب میں اسے اس کی رنگت کے لحاظ سے مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

سونا مکھی (Swarn Makshik): یہ دراصل پائرائٹ (Pyrite) یا چیلکوپائرائٹ ہوتا ہے۔ چونکہ اس کا رنگ بالکل سونے کی طرح تیز زرد اور چمکدار ہوتا ہے، اس لیے اسے سونا مکھی (Golden Pyrite) کہا جاتا ہے۔

چاندی مکھی (Raupya Makshik): یہ مارکاسائٹ (Marcasite) کے زیادہ قریب ہے۔ چونکہ مارکاسائٹ کا رنگ پائرائٹ کے مقابلے میں ہلکا، سفیدی مائل یا کانسی جیسا ہوتا ہے، اس لیے علمی طور پر اسے “چاندی مکھی” یا سفید مرقشیشا (White Pyrite) کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سونا

یہ بھی پڑھیں: سوما کلپالتا

یہ بھی پڑھیں: سورنجاں شیریں

کیمیاوی و غذائی  اجزا:

مارکاسائٹ کا اصل اور بنیادی کیمیاوی جز یہ ہے:

آئرن سلفائیڈ (Iron disulfide)

کیمیائی فارمولا: FeS2

اس میں شامل بنیادی عناصر:

آئرن (Iron, Fe)         سلفر (Sulfur, S)

یہ دونوں عناصر کرسٹل کی شکل میں مضبوط بندھن کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔

ممکنہ نجاستیں (Trace Impurities)

قدرتی طور پر مارکاسائٹ میں کچھ اضافی معمولی عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں، جو اس کی کان اور ماحول پر منحصر ہوتے ہیں:

نکل (Nickel)   کاپر (Copper)  کو بالٹ (Cobalt)                   آرسینک (Arsenic)       زنک (Zinc)

اثرات:

سون مکھی غدد میں تحریک، عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تسکین پیدا کرتا ہے۔ جالی، آبلہ انگیز، مخرش، مقرح، محلل اورام، مندمل زخم اثرات رکھتا ہے۔

خواص و فوائد:

سون مکھی معدنی چیز ہے اور زہریلے اثرات رکھتی ہے، اس لیے اس کا خوردنی استعمال نہیں کیا جاتا، بلکہ صرف بیرونی استعمال کیا جاتا ہے، سوداوی امراض و علامات کے لیے اس کا استعمال بہت ہی مفید ہے، ناسور، بھگندر، بواسیری مسے، برص ، کو رفع کرنے کے لیے مرہموں اور طلاوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک نسبت ہزار کی مقدار میں سرمہ میں شامل کرکے آنکھوں میں لگانے سے نظر میں جلا آتی ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات:

جدید سائنسی مطالعات کے مطابق اس پر توانائی ذخیرہ کرنے والے مواد، سینسرز اور صنعتی استعمالات کے حوالے سے تحقیق کی گئی ہے۔ بعض ابتدائی لیبارٹری تحقیقات میں اس کے جراثیم کش اثرات کا بھی مشاہدہ کیا گیا، لیکن اسے باقاعدہ طبی دوا تسلیم نہیں کیا گیا۔ روایتی طور پر بعض علاقوں میں اسے زخموں اور جلدی مسائل میں استعمال کیا جاتا تھا، تاہم جدید طب میں اس کے طبی فوائد کے مضبوط شواہد محدود ہیں۔

حوالہ جات:
https://www.sciencedirect.com/topics/earth-and-planetary-sciences/marcasite

https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC11837771/

مقدار خوراک:

بیرونی استعمال

Important Note

اعلان دستبرداری
اس مضمون کے مندرجات کا مقصد عام صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے ، لہذا اسے آپ کی مخصوص حالت کے لیے مناسب طبی مشورے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس مضمون کا مقصد جڑی بوٹیوں اور کھانوں کے بارے میں تحقیق پر مبنی سائنسی معلومات کو شیئر کرنا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں بیان کردہ کسی بھی تجویز پر عمل کرنے یا اس مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر علاج کے کسی پروٹوکول کو اپنانے سے پہلے ہمیشہ لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ہمیشہ لائسنس یافتہ، تجربہ کار ڈاکٹر اور حکیم سے علاج اور مشورہ لیں۔

Leave Your Comment