
سونف
نام :
عربی میں رازیانج۔ فارسی میں بادیان دراز۔ بنگالی میں مٹھا جیرا۔اور ہندی میں सौंफ کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Fennel
Scientific name: Foeniculum vulgare
Family: Apiaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| ہاضم، مخرج صفراء، مدر بول، دافع عسر الطمث، مخرج ریاح، مولد شیر، دافع پیچش | ہند و پاک | تر گرم درجہ دوم | اعصابی عضلاتی | امراض معدہ، ہائی بی پی |
تعارف:
سونف ایک خوشبودار، نرم اور بارہماسی جڑی بوٹی ہے جو عموماً 1 سے 2 میٹر تک بلند ہوتی ہے۔ اس کا تنا سیدھا، باریک، ہلکے سبز رنگ کا اور شاخ دار ہوتا ہے۔ پتے نہایت باریک، دھاگے نما اور کئی بار تقسیم شدہ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے پورا پودا نرم اور جھالر دار دکھائی دیتا ہے۔ اس کے پھول چھوٹے، زرد رنگ کے اور چھتری نما گچھوں میں لگتے ہیں۔ پھولوں کے بعد بیج پیدا ہوتے ہیں جو لمبوترے، سبزی مائل بھورے رنگ کے، خوشبودار اور ذائقے میں ہلکے میٹھے ہوتے ہیں۔ یہی بیج عام طور پر بطور دوا اور مصالحہ استعمال کیے جاتے ہیں۔
سونف ایک معروف خوشبودار نبات ہے جو دنیا کے بیشتر معتدل اور گرم علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے۔ اس کا اصل وطن بحیرہ روم کے علاقے کو سمجھا جاتا ہے، لیکن آج یہ پاکستان، بھارت، ایران، مصر اور دیگر کئی ممالک میں وسیع پیمانے پر اگائی جاتی ہے۔ سونف کے بیجوں میں ایک خاص خوشبو اور میٹھا ذائقہ پایا جاتا ہے جو اس میں موجود قدرتی خوشبودار روغنوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یونانی طب، آیوروید اور جدید نباتاتی طب میں سونف کو ہاضمہ بہتر بنانے، پیٹ کے اپھارے کو کم کرنے اور سانس کی بدبو دور کرنے کے لیے صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کھانوں، اچاروں، مشروبات اور مٹھائیوں میں بھی اس کا استعمال عام ہے۔ سونف نہ صرف ایک اہم مصالحہ ہے بلکہ ایک قیمتی دوائی پودا بھی شمار ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سنکھیا
یہ بھی پڑھیں: سونا مکھی
یہ بھی پڑھیں: سونا

کیمیاوی و غذائی اجزا:
خوشبودار روغنی اجزا (Essential Oil Constituents)
ٹرانس اینیتھول (Trans-Anethole) فینچون (Fenchone) ایسٹراگول (Estragole)
لیمونین (Limonene) سس اینیتھول (Cis-Anethole) لائینالول (Linalool)
الفا تھوجین (Alpha-Thujene) سینیول (1,8-Cineole) بیٹا اوسیمین (Beta-Ocimene)
جرماکرین ڈی (Germacrene D) اینیس کیٹون (Anisketone) ایپیول (Apiol) کیوبیبین (Cubebene)
پی سائمین (p-Cymene)
فلیونوئڈز (Flavonoids)
کوئرسیٹن (Quercetin) کیمپفیرول (Kaempferol)
کوئرسیٹن تھری گلوکورونائیڈ (Quercetin-3-Glucuronide)
کوئرسیٹن تھری گیلیکٹوسائیڈ (Quercetin-3-O-Galactoside)
کیمپفیرول تھری گلوکوسائیڈ (Kaempferol-3-O-Glucoside)
کیمپفیرول تھری روٹینوسائیڈ (Kaempferol-3-O-Rutinoside)
فینولک مرکبات (Phenolic Compounds)
روزمیرینک ایسڈ (Rosmarinic Acid) کلوروجینک ایسڈ (Chlorogenic Acid)
کیفیول کوئنک ایسڈ (Caffeoylquinic Acid) ڈائی کیفیول کوئنک ایسڈ (Dicaffeoylquinic Acid)
ڈائی ہائیڈرو کیفیک ایسڈ (Dihydrocaffeic Acid) کیفیول شیکیمک ایسڈ (Caffeoylshikimic Acid)
فیٹی ایسڈز (Fatty Acids)
پیٹروسیلینک ایسڈ (Petroselinic Acid) اولیک ایسڈ (Oleic Acid)
لینولیک ایسڈ (Linoleic Acid) پالمیٹک ایسڈ (Palmitic Acid)
ہیکساڈیکانوئک ایسڈ (Hexadecanoic Acid)
کومیرنز اور متعلقہ اجزا (Coumarins and Related Compounds)
امبیلیفیرون (Umbelliferone) فائیو میتھوکسی سورالن (5-Methoxypsoralen)
فائٹو سٹیرولز (Phytosterols) سٹیگماسٹرول (Stigmasterol)
دیگر اہم بائیو ایکٹو اجزا (Other Bioactive Compounds)
ڈائینیتھول (Dianethole) فوٹو اینیتھول (Photoanethole) ڈل ایپیول (Dillapiol)
یہ سونف میں پائے جانے والے نمایاں بائیو ایکٹو اور کیمیاوی حیاتیاتی اجزا ہیں جو اس کی خوشبو، ذائقہ، غذائی اہمیت اور طبی افادیت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

اثرات:
سونف محرک اعصاب، محلل غدد اور مسکن و مفرح عضلات ہے، کیمیاوی طور پر رطوبات صالح پیدا کرتا ہے، مخرج صفراء ہے۔ ہاضم، مخرج صفراء، مدر بول، دافع عست الطمث، مخرج ریاح، مولد شیر، دفع پیچش اثرات کا حامل ہے۔
خواص و فوائد:
اگر ہاضمہ کی خرابی خشکی کی وجہ سے ہو تو سونف اس کے لیے بہترین ہیں، اور اگر رطوبات کی زیادتی کی وجہ سے ہو تو فائدہ نہیں ہوگا۔ سونف کو منہ میں چبانی سے غدد فورا رطوبت پیدا کرنا شروع کردیتے ہیں اسی وجہ سے درد شکم، سوزش معدہ، آنتوں کی سوزش اور جگر و غدد کے مسائل میں بہت مفید ہیں۔ سونف دودھ بھی پیدا کرتے ہیں۔ غدی پیچش وغیرہ ہوں تو ان کے لیے بھی سونف بہت مفید ہیں، اسی طرح ہائی بلڈپریشر میں بھی سونف بہت مفید ہیں۔
جدید سائنسی تحقیقات:
سونف ایک معروف غذائی اور دوائی پودا ہے جسے صدیوں سے ہاضمہ بہتر بنانے، گیس اور اپھارے کو کم کرنے اور منہ کی بدبو دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جدید سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سونف میں موجود قدرتی مرکبات، خصوصاً اینیتھول (Anethole)، فینچون (Fenchone) اور مختلف فلیونوئڈز، اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کم کرنے والی خصوصیات رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سونف معدے اور آنتوں کے افعال کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے اور کھانے کے بعد ہونے والی بھاری پن اور گیس کی شکایت میں مفید سمجھی جاتی ہے۔
جدید طبی تحقیقات کے مطابق سونف میں جراثیم کش، اینٹی آکسیڈنٹ اور ممکنہ طور پر سرطان مخالف خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ بعض مطالعات میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سونف خواتین میں حیض کے درد کو کم کرنے، دودھ پلانے والی ماؤں میں دودھ کی پیداوار بڑھانے اور سانس کی بعض تکالیف میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سونف میں موجود قدرتی مرکبات دل کی صحت، خون میں شکر کے توازن اور جسم کو آکسیڈیٹو نقصان سے بچانے میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ان فوائد کے بارے میں متعدد تجرباتی اور طبی مطالعات موجود ہیں، تاہم مزید وسیع انسانی تحقیقات ابھی جاری ہیں تاکہ ان اثرات کی مکمل تصدیق کی جا سکے۔
حوالہ جات:

مقدار خوراک:
پانچ سے ساتھ گرام



Leave Your Comment