
سنگ سرماہی
نام :
عربی میں حجر السمک، حجر الحوت۔ فارسی میں سنگ سرماہی۔ اور ہندی میں मछली का पत्थर کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Fish Stone / Otolith Stone
Scientific name: Fish Otolith
Family: Inner Ear Structure of Fishes
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مدر بول | ہند و پاک | گرم تر | غدی اعصابی | کیلشیم کے حصول کا ذریعہ |

تعارف:
سنگِ سرماہی دراصل مچھلی کے سر کے اندر موجود ایک خاص سخت جسم ہے جو اس کے اندرونی کان کا حصہ ہوتا ہے۔ جدید سائنسی اصطلاح میں اسے اوٹولتھ کہا جاتا ہے۔ یہ مچھلی کے توازن، سمت کی پہچان اور آواز کے ادراک میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یونانی اور روایتی طب میں اسے ایک معدنی نما حیوانی شے سمجھا جاتا ہے جسے مختلف امراض میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہ عام طور پر مختلف اقسام کی مچھلیوں سے حاصل کیا جاتا ہے اور اس کی جسامت، شکل اور ساخت مچھلی کی قسم کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔
سنگِ سرماہی ایک چھوٹا، سخت، پتھر نما جسم ہوتا ہے جو عموماً سفید، دودھیا، ہلکا زرد یا بعض اوقات سرمئی رنگ کا ہوتا ہے۔ اس کی سطح عموماً ہموار یا قدرے کھردری ہوتی ہے جبکہ اندرونی ساخت تہہ دار اور حلقہ دار (rings) کی شکل میں ہوتی ہے، جو درخت کے تنوں کے دائروں کی طرح نظر آتی ہے۔ اس کی شکل اکثر بیضوی (oval) یا گول ہوتی ہے، لیکن بعض اقسام میں یہ بے قاعدہ بھی ہوسکتی ہے۔ یہ وزن میں ہلکا مگر مضبوط ہوتا ہے اور آسانی سے ٹوٹتا نہیں، البتہ زور لگانے پر چٹخ سکتا ہے۔ اسے کاٹنے یا توڑنے پر اس کے اندر باریک پرتیں واضح دکھائی دیتی ہیں۔یہ عموماً مچھلی کے سر کے اندر، دماغ کے قریب پایا جاتا ہے اور اسے نکالنے کے لیے خاص مہارت درکار ہوتی ہے۔ خشک ہونے کے بعد یہ مزید سخت اور پتھر جیسا محسوس ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اسے “سنگ” کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سنگ دانہ مرغ
یہ بھی پڑھیں: سنگ جراحت
یہ بھی پڑھیں: سنگترہ
کیمیاوی و غذائی اجزا:
کیمیائی طور پر یہ بنیادی طور پر کیلشیم کاربونیٹ پر مشتمل ہوتا ہے، اسی لیے اسے سائنسی طور پر کیلشیم کا ایک نامیاتی ذخیرہ بھی مانا جاتا ہے۔
بنیادی معدنی اجزاء
کیلشیم کاربونیٹ (Calcium Carbonate – CaCO₃)
نامیاتی اجزاء
اوٹولِن (Otolin Protein)
دیگر ساختی پروٹینز (Structural Proteins)
گلائکو پروٹینز (Glycoproteins)
(معمولی معدنیات)
میگنیشیم (Magnesium) فاسفورس (Phosphorus) سوڈیم (Sodium) پوٹاشیم (Potassium)
آئرن (Iron) زنک (Zinc)
دیگر ممکنہ اجزاء
پانی (Water Content – معمولی مقدار) نامیاتی میٹرکس (Organic Matrix Compounds)
کرسٹل فارم: عموماً اراگونائٹ (Aragonite form of Calcium Carbonate)

اثرات:
سنگ سرماہی غدد میں تحریک، عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تقویت پیدا کرتا ہے، کیمیاوی طور پر صفراء کی پیدائش کے ساتھ اخراج بھی کرتا ہے۔ مدر بول، مفتت حصات (Lithotriptic) اثرات رکھتا ہے۔
خواص و فوائد:
روائتی طور پر کہا جاتا ہے کہ سنگ سرماہی گردہ ، مثانہ کی پتھری کو توڑ دیتا ہے، معجون سنگ سرماہی مشہور مرکب ہے۔
یہاں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ سنگ سرماہی خود کیلشیم ہے، اگر کسی کو پہلے سے کیلشیم کی پتھری ہوئی تو اسے فائدہ کے بجائے نقصان ہوگا، اس کے علاوہ موجود سائنسی تحقیقات بھی اس بات کی تصدیق نہیں کرتیں کہ سنگ سرماہی گردے کی پتھری کو نکالتی ہے، بلکہ نیچے دی جانے والی ایک تحقیق اس کے برعکس نتائج بتا رہی ہے۔البتہ کیلشیم کی کمی اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے معالج کے مشورے سے استعمال کر سکتے ہیں۔
جدید سائنسی تحقیقات:
ترکی (Turkey) کی افیون کوکاٹیپے یونیورسٹی (Afyon Kocatepe University) میں ایک تحقیق کی گئی،یہ مقالہ برازیل کے ایک معتبر سائنسی جریدے “Anais da Academia Brasileira de Ciências” (Annals of the Brazilian Academy of Sciences) میں 2020 میں شائع ہوا۔
اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ جاننا تھا کہ کیا مچھلی کے کان کا پتھر (Sciaena umbra otolith – SUO) گردوں میں بننے والی پتھری اور اس سے پیدا ہونے والی سوزش کو روکنے یا اسے ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے لیے چوہوں پر تجربات کیے گئے جنہیں ‘ایتھیلین گلائیکول’ دے کر ان کے گردوں میں مصنوعی طور پر پتھری پیدا کی گئی تھی۔
تحقیق کے دوران کیے گئے مختلف بائیو کیمیکل ٹیسٹوں سے درج ذیل نتائج سامنے آئے:
آکسیڈیٹیو اسٹریس اور اینٹی آکسیڈنٹس: تجربے میں دیکھا گیا کہ جن چوہوں کو پتھری پیدا کرنے والا کیمیکل دیا گیا، ان میں خلیات کو نقصان پہنچانے والے مادے (MDA) کی سطح بڑھ گئی اور جسم کا قدرتی دفاعی نظام (GSH اور Catalase) کمزور ہو گیا۔ جب ان چوہوں کو سنگِ سرماہی (SUO) دیا گیا، تو اس نے ان دفاعی انزائمز کو دوبارہ متحرک کرنے یا آکسیڈیٹیو نقصان کو کم کرنے میں کوئی خاص مدد نہیں کی۔
گردوں کی کارکردگی کے اشارے: خون کے ٹیسٹوں میں یوریا (BUN) اور کریٹائنین (Creatinine) کی سطح کافی بلند پائی گئی، جو گردوں کے شدید نقصان کی علامت ہے۔ سنگِ سرماہی کے استعمال سے ان سطحوں میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی، جس کا مطلب ہے کہ یہ گردوں کے افعال کو بحال کرنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوا۔
سوزش اور ورم (Inflammation): تحقیق میں سوزش پیدا کرنے والے خاص پروٹینز (TNF-α اور IL-1β) کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق سنگِ سرماہی دینے کے باوجود ان سوزش پیدا کرنے والے مادوں کی سطح کم نہیں ہوئی، بلکہ بعض صورتوں میں یہ ایتھیلین گلائیکول والے گروپ کی طرح بلند ہی رہی۔
پیشاب کا تجزیہ: پتھری پیدا کرنے والے کیمیکل نے پیشاب میں کیلشیم اور فاسفیٹ کی مقدار بڑھا دی اور اس کی پی ایچ (pH) کو بھی بدل دیا، جو پتھری بننے کے لیے سازگار ماحول ہوتا ہے۔ سنگِ سرماہی ان تبدیلیوں کو روکنے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔
حتمی سائنسی نتیجہ:
اس مطالعے کے محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ 50 ملی گرام فی کلو کی مقدار میں سنگِ سرماہی (Sciaena umbra otolith) کا استعمال گردوں میں کیلشیم آکسالیٹ کی پتھری بننے کے عمل کو روکنے یا اس کا علاج کرنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوا۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ جب گردوں کے خلیات پتھری کی وجہ سے شدید زخمی ہو جاتے ہیں، تو سنگِ سرماہی جیسے اجزاء انفرادی طور پر ان پیچیدہ نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتے۔
حوالہ جات:
| https://www.scielo.br/j/aabc/a/fXwTXNSQxQBH7hrKFgj4dGq/?lang=en | |
| https://www.mdpi.com/2073-8994/13/6/987 |

مقدار خوراک:
ایک گرام


Leave Your Comment