Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. الحاقی مادہ کیا ہے؟
الحاقی مادہ کیا ہے؟

الحاقی مادہ کیا ہے؟

  • June 11, 2026
  • 0 Likes
  • 10 Views
  • 0 Comments

الحاقی مادہ کیا ہے؟

حکیم خلیل الرحمن کراچی

الحاقی مادہ (Connective Tissue) انسانی جسم کا وہ بنیادی ترین عنصر ہے جسے مادہ اول یا خلیہ اول کہا جا سکتا ہے۔ جب یہ بنیادی خلیہ اپنی کارکردگی دکھاتا ہے تو اس سے جسم کے دیگر فعلی خلیات یعنی صفراوی، سوداوی اور بلغمی خلیات جنم لیتے ہیں۔ تمام نر اقسام میں، خواہ وہ انسان ہوں، حیوانات ہوں یا نباتات، الحاقی مادے کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ مردانہ مادہ منویہ بنیادی طور پر اسی الحاقی مادے پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ خواتین کے اعضائے رئیسہ (اووریز) انڈے پیدا کرتے ہیں۔ ان دونوں مادوں کی طبیعی ساخت اور ان کے افعال میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔

الحاقی مادے کا مزاج اور نشوونما کا اصول

طبی اصولوں کے مطابق کائنات کی کوئی بھی چیز مزاج سے خالی نہیں ہے۔ الحاقی مادے کا فطری مزاج سرد خشک ہے، جسے طب پاکستانی (قانون مفرد اعضاء) کی اصطلاح میں عضلاتی اعصابی تحریک کہا جاتا ہے۔ عام طور پر عضلاتی اعصابی مزاج کو محض امراض کی علامت سمجھ کر اس سے گریز کیا جاتا ہے، جو کہ ایک علمی لغزش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسم کے تمام بنیادی اور سخت اعضاء، جیسے ہڈیاں، رباط (Ligaments) اور اوتار (Tendons) اسی عضلاتی اعصابی مزاج یعنی الحاقی مادے سے ہی تشکیل پاتے ہیں۔

انسانی نشوونما کا دارومدار اس مادے کے اعتدال پر ہے۔ اگر جسم میں الحاقی مادہ کم ہو جائے تو جسمانی بڑھوتری رک جاتی ہے، اور اگر یہ حد سے زیادہ بڑھ جائے تو بھی گروتھ کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ اس مادے کی کمی کی صورت میں جسمانی اعضاء میں لرزہ (ہاتھ کانپنا) اور جوڑوں و ہڈیوں میں شدید درد شروع ہو جاتا ہے۔ جب جسم میں سلفر (گندھک) کی مقدار بڑھتی ہے تو الحاقی مادہ کم ہو جاتا ہے، جس کا براہ راست نتیجہ مرد اور خواتین میں بانجھ پن اور اولاد کے جراثیم کی کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔

قدیم اطباء جو مغلظ ادویات کا استعمال کرواتے تھے، ان کا اصل مقصد بھی جسم میں اسی مادے کی پیدائش کو بڑھانا ہوتا تھا، کیونکہ اس میں فاسفورس اور کیلشیم جیسے اجزاء ہوتے ہیں جو ہڈیوں کو مسلسل طاقت فراہم کرتے ہیں۔ جس جسم میں یہ مادہ متوازن ہو، وہ ہڈیوں کی ٹی بی سے محفوظ رہتا ہے، اور بال طویل عرصے تک مضبوط اور سیاہ رہتے ہیں۔

بلڈ پریشر اور دل کے امراض کا حقیقی سبب

جسم میں الحاقی مادے کا درست ہونا بلڈ پریشر کو اعتدال میں رکھتا ہے۔ بلڈ پریشر کے بڑھنے کی صورت میں جب عضلاتی اعصابی (دو نمبر) دوا دی جائے تو خون کا دباؤ انتہائی تیزی سے معمول پر آ جاتا ہے۔

جب جسم میں سلفر کی زیادتی سے الحاقی مادہ گھٹتا ہے تو اعصاب میں تسکین یعنی سستی آ جاتی ہے اور خام بلغم خون میں شامل ہونے لگتی ہے۔ گرمی اور خشکی کے زیر اثر یہ بلغم شریانوں اور وریدوں کے اندر جمنا شروع ہو جاتی ہے۔ یہی جماؤ جب دل کے والوز کے اندرونی حصوں میں رکاوٹ بنتا ہے، تو دل کے امراض جنم لیتے ہیں اور شریانوں کو کھولنے کے لیے سٹنٹ ڈالنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

بڑھاپا، جسمانی تافن اور بخار کا قدرتی نظام

طب پاکستانی (قانون مفرد اعضاء) کے بانی حکیم انقلاب صابر ملتانی رحمتہ اللہ علیہ کے اصولوں کے مطابق، بڑھاپا اور جسمانی نقاہت اس وقت تیزی سے غالب آتی ہے جب جسم کے کسی حصے میں بلغم رک کر تعفن (سڑاند) پیدا کر دے۔

انسانی جسم کی فطری حرارت کا اصل درجہ 98.4 ہوتا ہے۔ جب مدافعت کمزور پڑتی ہے اور یہ درجہ حرارت گر کر 97 یا 95 پر آ جاتا ہے، تو بلغم جسم میں رکنے لگتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس تعفن اور گندگی کو دور کرنے کے لیے جسم کے اندر ایک حفاظتی نظام رکھا ہے، جو اس گندگی کو جلانے کے لیے غیر طبیعی حرارت پیدا کرتا ہے، جسے ہم بخار کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بڑے مرض کے حملے سے پہلے جسم پر بخار کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ ایک معالج کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے بنیادی علامات جیسے بخار اور سر درد کا درست علاج سیکھے، کیونکہ ان کے بغیر پیچیدہ امراض کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔

خواتین کے امراض اور مہروں کا خلا

خواتین کے جسم میں جب سلفر اور گرمی حد سے بڑھ جائے تو غدود میں سکڑاؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس سوزش کے نتیجے میں ماہواری کا نظام متاثر ہوتا ہے، جسم کا وزن بڑھ جاتا ہے یا رحم کے اندر پانی کی تھیلیاں (Cysts) بن جاتی ہیں۔ دوسری طرف، اگر خشکی کی مقدار زیادہ ہو جائے تو رسولیاں (Fibroids) جنم لیتی ہیں۔ طبِ صابر کا اصول ہے کہ رسولیوں کی صورت میں گرم خشک دوا اور پانی کی تھیلیوں کے علاج کے لیے اعصابی دوا دی جائے۔ حاملہ خواتین کا مٹی یا چاک کھانا بھی دراصل جسم میں کیلشیم اور الحاقی مادے کی شدید کمی کی فطری علامت ہوتا ہے۔

اسی طرح، ریڑھ کی ہڈی کے مہروں اور تمام چھوٹے بڑے جوڑوں کے درمیان جو سفید لچکدار مادہ ہوتا ہے، وہ الحاقی مادہ ہی ہے۔ ایکس رے میں مہروں کے درمیان جو خلا دکھائی دیتا ہے، وہ دراصل ہڈیوں کا غائب ہونا نہیں بلکہ الحاقی مادے کی کمزوری اور خشکی ہوتی ہے۔ اس کی کمی سے تلی بڑھ جاتی ہے، انتڑیوں میں سدے بنتے ہیں اور دل کمزور ہونے لگتا ہے۔

بواسیر کے زہر اور ان کا اصولی علاج

خالص صفرا یا خالص سودا میں کبھی سڑاند پیدا نہیں ہوتی، تعفن ہمیشہ بلغم کے رکنے اور جلنے سے ہوتا ہے۔ جب یہ جلی ہوئی بلغم خون میں شامل ہوتی ہے تو آتشیں یا بواسیری زہر کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

بادی بواسیر کا علاج طب پاکستانی کی تین نمبر دوا سے نہایت کامیابی سے کیا جاتا ہے۔ اگر مرض پرانا اور شدید ہو تو صابر ملتانی رحمتہ اللہ علیہ کے قانون کے مطابق تریاق کا اصول اپنایا جائے یا مسہل نمبر 4 کا انتخاب کیا جائے۔ مسہل چار کی ایک ایک رتی صبح، دوپہر اور رات دینے سے بواسیر کے مسے اور تکلیف ختم ہو جاتی ہے۔ اس علاج کے دوران مریض کی تمام تر ترش و بادی چیزیں، سبزیاں، دودھ اور لسی بند کر کے اسے گوشت اور سرخ مرچ کا استعمال کرایا جاتا ہے تاکہ جسم کی مطلوبہ تحریک بیدار ہو سکے۔

مجرب طبی نسخہ جات

جسمانی دردوں، دائمی کمزوری اور بوڑھے افراد میں نئی قوت پیدا کرنے کے لیے ایک بہترین معجون اس طرح تیار کی جا سکتی ہے:

  • خمیرہ گاؤزباں سادہ (100 گرام) اور اطریفل اسطخودوس (100 گرام) کو آپس میں اچھی طرح مکس کر لیں، پھر اس میں کشتہ قلعی (10 گرام) شامل کر دیں۔ یہ معجون جسم میں الحاقی مادے کی پیدائش کو تیز کرتی ہے اور اعصابی و جوڑوں کے دردوں کا خاتمہ کرتی ہے۔

  • سرعتِ انزال اور امساک کی کمی کو دور کرنے کے لیے 100 گرام خمیرہ گاؤزباں سادہ میں صرف 2 گرام کجلی ملا کر استعمال کرانا نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔

طبیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ روایتی نسخہ خوانی سے نکل کر افعال الاعضاء (Physiology) اور اناٹمی کا گہرا مطالعہ کرے۔ الحاقی مادہ جسم کی وہ زرخیز زمین ہے جس کے بغیر نہ تو ہڈیاں مضبوط رہ سکتی ہیں اور نہ ہی انسانی جراثیم پنپ سکتے ہیں۔ اس بنیادی عنصر کو مدنظر رکھ کر اور اخلاط کا توازن قائم کر کے ہی انسانی صحت کو دیرپا بنایا جا سکتا ہے۔

Important Note

اعلان دستبرداری
اس مضمون کے مندرجات کا مقصد عام صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے ، لہذا اسے آپ کی مخصوص حالت کے لیے مناسب طبی مشورے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس مضمون کا مقصد جڑی بوٹیوں اور کھانوں کے بارے میں تحقیق پر مبنی سائنسی معلومات کو شیئر کرنا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں بیان کردہ کسی بھی تجویز پر عمل کرنے یا اس مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر علاج کے کسی پروٹوکول کو اپنانے سے پہلے ہمیشہ لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ہمیشہ لائسنس یافتہ، تجربہ کار ڈاکٹر اور حکیم سے علاج اور مشورہ لیں۔

Leave Your Comment