Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. طب پاکستانی اور الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران
طب پاکستانی اور الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران

طب پاکستانی اور الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران

  • May 30, 2026
  • 0 Likes
  • 16 Views
  • 0 Comments

طب پاکستانی اور الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران

طب پاکستانی (قانونِ مفرد اعضاء) ایک ایسا انقلابی نظریہ ہے جس نے صدیوں پرانی طب کو جدید سائنسی سانچے میں ڈھال کر انتہائی آسان بنا دیا۔ استادِ محترم حکیم دوست محمد صابر ملتانی صاحب نے اس نظریے کے ذریعے الجھی ہوئی طبی گتھیوں کو سلجھایا۔ اس بات کو ہم تین آسان پہلوؤں سے سمجھ سکتے ہیں۔

1۔ کائنات کا مادی اصول اور انسانی جسم

جدید سائنس کہتی ہے کہ کائنات کی ہر مادی چیز چھوٹے چھوٹے ذرات سے مل کر بنی ہے جنہیں ایٹم کہا جاتا ہے، اور ہر ایٹم کے اندر تین بنیادی قوتیں کام کر رہی ہیں: الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران۔

اللہ تعالی نے انسانی جسم کو بھی اسی تکونی اصول پر پیدا کیا ہے۔ صابر ملتانی صاحب نے ثابت کیا کہ انسانی جسم میں بھی تین ہی بنیادی افعال (کام) ہوتے ہیں:

  • تحریک (کام کی ابتدا اور تیزی): جیسے الیکٹران ہر وقت حرکت میں رہتے ہیں اور توانائی پیدا کرتے ہیں، ایسے ہی جسم کے کسی عضو کا متحرک ہونا تحریک کہلاتا ہے۔

  • تسکین (توانائی کا ذخیرہ اور سکون): جیسے پروٹان مرکزے میں سکون کے ساتھ موجود ہوتے ہیں، ویسے ہی جسم کا وہ حصہ جہاں توانائی جمع ہو رہی ہوتی ہے اور وہ آرام کی حالت میں ہوتا ہے، تسکین کہلاتا ہے۔

  • تحلیل (مادوں کا ٹوٹنا اور پگھلنا): جیسے نیوٹران توازن برقرار رکھتے ہیں، ویسے ہی جسم کے وہ حصے جو پرانے مادوں کو پگھلا کر یا توڑ کر باہر نکالتے ہیں تاکہ توازن قائم رہے، تحلیل کہلاتا ہے۔

2۔ اخلاط کی مادی شکل (دل، دماغ اور جگر)

قدیم دور میں اطباء بیماری کی پہچان خون کے اندر موجود پوشیدہ اخلاط (دم، بلغم، صفراء، سوداء) سے کرتے تھے، جس کو عام آنکھ سے دیکھنا یا لیبارٹری میں ثابت کرنا مشکل تھا۔ جب جدید سائنس نے اس پر اعتراض کیا تو صابر ملتانی صاحب نے ایک تاریخی حقیقت سامنے رکھی۔

انہوں نے فرمایا کہ اخلاط کوئی خیالی چیز نہیں ہیں۔ جب اخلاط جسم کے اندر جمع ہو کر ٹھوس شکل اختیار کرتے ہیں، تو وہی اعضاء بن جاتے ہیں۔

  • بلغم مجسم ہو کر دماغ اور اعصاب کی شکل اختیار کرتی ہے۔

  • سوداء مجسم ہو کر دل اور عضلات کی شکل اختیار کرتا ہے۔

  • صفراء مجسم ہو کر جگر اور غدد کی شکل اختیار کرتا ہے۔

لہذا، اگر کوئی خون میں اخلاط کا ثبوت مانگے، تو ہم اسے دل، دماغ اور جگر دکھا سکتے ہیں، کیونکہ یہ انہی اخلاط کی مادی اور عملی صورتیں ہیں۔

3۔ لیبارٹری سے بیماری کا ثبوت اور علاج

اس نظریے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ بیماری کو محض اندازوں کے بجائے مادی طور پر ثابت کیا جا سکتا ہے۔ انسانی جسم خلیات اور بافتوں (ٹشوز) سے بنا ہے۔ جب کسی عضو میں خرابی آتی ہے تو اس میں تین ہی قسم کی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں:

  • یا تو وہ عضو سکڑ جاتا ہے۔

  • یا وہ ضرورت سے زیادہ پھول جاتا ہے۔

  • یا وہ پھیل کر کمزور ہو جاتا ہے۔

یہ تینوں حالتیں ایسی ہیں جنہیں اجتہادی اندازوں کی ضرورت نہیں، بلکہ جدید دور کے الٹراساؤنڈ، ایکس رے یا دیگر ٹیسٹوں کے ذریعے باقاعدہ دیکھا اور ثابت کیا جا سکتا ہے۔

جب بیماری اتنی واضح ہو جائے تو علاج بھی بالکل سیدھا اور سائنسی ہو جاتا ہے۔ معالج کو معلوم ہوتا ہے کہ جس عضو میں ضرورت سے زیادہ تیزی (تحریک) ہے، اسے آرام دینا ہے، اور جو عضو سستی (تسکین) کا شکار ہے، اسے متحرک کرنا ہے۔ یہی طب پاکستانی کا وہ سچا اور لازوال اصول ہے جس نے علاج معالج کو وہم اور گمان سے نکال کر سو فیصد مادی اور سائنسی حقائق پر کھڑا کر دیا۔

Important Note

اعلان دستبرداری
اس مضمون کے مندرجات کا مقصد عام صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے ، لہذا اسے آپ کی مخصوص حالت کے لیے مناسب طبی مشورے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس مضمون کا مقصد جڑی بوٹیوں اور کھانوں کے بارے میں تحقیق پر مبنی سائنسی معلومات کو شیئر کرنا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں بیان کردہ کسی بھی تجویز پر عمل کرنے یا اس مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر علاج کے کسی پروٹوکول کو اپنانے سے پہلے ہمیشہ لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ہمیشہ لائسنس یافتہ، تجربہ کار ڈاکٹر اور حکیم سے علاج اور مشورہ لیں۔

Leave Your Comment