
سمندر پھل
نام :
گجراتی میں اورمرہٹی اورسنسکرت میں سمندر پھل کہتے ہیں ۔۔اور ہندی میں समुद्र फलکہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Barringtonia
Scientific name: Barringtonia racemosa
Family: Lecythidaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| کاسر ریاح، جالی، محلل | ہند و پاک | گرم خشک درجہ دوم | غدی عضلاتی | جوڑوں کے درد کے لیے |

تعارف:
سمندر پھل ایک سدا بہار درخت ہے جو زیادہ تر گرم اور مرطوب علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ درخت ایشیا کے ساحلی علاقوں، ہندوستان، سری لنکا، ملائیشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں عام ملتا ہے۔ عام طور پر یہ درخت دریاؤں، جھیلوں اور دلدلی زمینوں کے کناروں پر اگتا ہے، اسی وجہ سے اسے بعض اوقات “فریش واٹر مینگروو” بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے درخت کے مختلف حصے روایتی طب میں استعمال ہوتے رہے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں اس کے بیج مچھلیاں پکڑنے کے لیے بھی استعمال کیے جاتے تھے کیونکہ ان میں قدرتی زہریلے اجزا پائے جاتے ہیں۔
اس درخت کے پتے بڑے، لمبوترے اور چمکدار سبز رنگ کے ہوتے ہیں۔ پتے عموماً شاخوں کے سروں پر گچھوں کی شکل میں لگتے ہیں اور ان کی لمبائی تقریباً 10 سے 30 سینٹی میٹر تک ہو سکتی ہے۔ پتوں کی سطح ہموار اور کنارے ہلکے لہردار ہوتے ہیں۔ سمندر پھل کے پھول نہایت خوبصورت اور نمایاں ہوتے ہیں۔ یہ لمبے گچھوں کی صورت میں لٹکتے ہیں اور سفید یا ہلکے گلابی رنگ کے ہوتے ہیں۔ ان پھولوں میں لمبے باریک ریشے نما اسٹیمنز ہوتے ہیں جو انہیں جھالر دار اور دلکش شکل دیتے ہیں۔ اکثر یہ پھول شام کے وقت کھلتے ہیں اور ہلکی خوشبو بھی دیتے ہیں۔اس کا پھل بیضوی یا قدرے چار کونوں والا ہوتا ہے جو سبز رنگ سے شروع ہو کر پکنے پر بھورا یا سرخی مائل ہو جاتا ہے۔ پھل کا چھلکا سخت ہوتا ہے اور اس کے اندر بیج موجود ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر بیرنگٹونیا (سمندر پھل) کو اس کے بڑے چمکدار پتوں، لمبے لٹکتے سفید یا گلابی پھولوں اور سخت بیضوی پھلوں کی وجہ سے آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سلارس
یہ بھی پڑھیں: سلاجیت
یہ بھی پڑھیں: سقمونیا
کیمیاوی و غذائی اجزا:
فینولک مرکبات (Phenolic Compounds): گیلک ایسڈ (Gallic acid)، ایلیجک ایسڈ (Ellagic acid)، پروٹوکیٹچوک ایسڈ (Protocatechuic acid)
فلیونوئیڈز (Flavonoids): کوئرسیٹن (Quercetin)، کیمپفیرول (Kaempferol)، روٹن (Rutin)
ٹرائی ٹرپینائڈز (Triterpenoids): بارٹوجینک ایسڈ (Bartogenic acid)، میسلینک ایسڈ (Maslinic acid)
ساپوننز (Saponins): بارنگٹوجینول (Barringtogenol)، آر ون بارنجینول (R1-barringenol)
پلانٹ سٹیرولز (Plant Sterols): سٹیگماسٹرول (Stigmasterol)، کیمپیسٹرول (Campesterol)
غذائی اجزا
کاربوہائیڈریٹس (Carbohydrates) پروٹین (Protein) فائبر (Fiber) ایش یا معدنی باقیات (Ash Content)

اثرات:
سمندر پھل غدد میں تحریک، عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تسکین پیدا کرتا ہے۔ جالی، محلل، کاسر ریاح اثرات کا حامل ہے۔
خواص و فوائد:
سمندر پھل کا درخت انسان کی صحت کے لیے ایک بہترین قدرتی دوا کا درجہ رکھتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ جوڑوں کے درد اور گٹھیا کے مریضوں کے لیے ہے؛ یہ جسم کی سوجن کو تیزی سے کم کرتا ہے اور درد سے نجات دلاتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ جسم میں پیدا ہونے والے زہریلے مادوں کو ختم کرتا ہے جس سے مختلف اقسام کے کینسر سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔ یہ پودا قدرتی طور پر درد کش ہے، یعنی اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کے استعمال سے درد کی شدت کم ہو جاتی ہے۔ جراثیم کش ہونے کی وجہ سے اس کی چھال اور پتوں کو جلد کی بیماریوں اور زخموں کو جلد بھرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں، اور بچوں کو اس کے استعمال سے مکمل طور پر گریز کرنا چاہیے۔ اس کے بیجوں کو کچا چبانا شدید زہریلے اثرات، متلی اور قے کا باعث بن سکتا ہے۔ اسے ہمیشہ مستند طبیب کی نگرانی میں ہی استعمال کرنا چاہیے۔

جدید سائنسی تحقیقات:
سمندر پھل ایک معروف ساحلی پودا ہے جس کے پتے، چھال اور بعض اوقات پھل روایتی طب میں مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ اس پودے میں فلیونوئیڈز، فینولک مرکبات اور دیگر قدرتی بایو ایکٹو اجزا پائے جاتے ہیں جو جسم کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔
سمندر پھل میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اس کے پتوں اور دیگر حصوں میں موجود قدرتی مرکبات جسم میں پیدا ہونے والے نقصان دہ فری ریڈیکلز کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس سے جسم کے خلیات کو نقصان سے بچانے اور عمومی صحت کو بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس پودے میں جراثیم کش خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے بعض علاقوں میں اس کے پتوں یا چھال کو زخموں اور جلدی بیماریوں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہ جراثیم کی افزائش کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور زخم کے بھرنے کے عمل کو تیز کر سکتے ہیں۔
سمندر پھل میں سوزش کم کرنے کی صلاحیت بھی بیان کی جاتی ہے۔ روایتی طور پر اس کے پتوں کے عرق یا جوشاندے کو جسم کی سوجن، درد اور جلد کی سوزش میں فائدہ مند سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے قدرتی مرکبات جسم میں سوزشی عمل کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
بعض روایتی طریقہ علاج میں سمندر پھل کو معدے اور آنتوں کے مسائل میں بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے بعض اجزا آنتوں کو مضبوط کرنے اور اسہال یا معدے کی کمزوری جیسے مسائل میں مددگار سمجھے جاتے ہیں۔
کچھ جدید سائنسی مطالعات میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس پودے کے بعض مرکبات جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط کرنے، جگر کو نقصان سے بچانے اور بعض بیماریوں کے خلاف حفاظتی اثرات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم ان فوائد کی مکمل تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت موجود ہے۔
مجموعی طور پر سمندر پھل ایک ایسا پودا ہے جس میں کئی مفید قدرتی مرکبات پائے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اسے روایتی طب میں مختلف طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم چونکہ اس کے بعض حصوں میں زہریلے اثرات بھی ہو سکتے ہیں، اس لیے اس کا استعمال احتیاط اور ماہر معالج کی رہنمائی میں کرنا زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے۔
اس درخت کے بیج، چھال اور پھل میں ساپوننز (Saponins) نامی کیمیائی مرکبات ہوتے ہیں۔ جب ان کو پیس کر پانی میں ڈالا جائے تو یہ مادے مچھلیوں کے گلپھڑوں پر اثر ڈال کر انہیں بے ہوش یا ہلاک کر دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے علاقوں میں اسے Fish Poison Tree بھی کہا جاتا ہے۔
حوالہ جات:
| پی ایم سی | |
| https://www.agriscigroup.us/articles/OJPS-7-147.php | ایگری سائنس گروپ |
| https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC3137566/ | این سی بی آئی |
| https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC4753763 | این سی بی آئی |
| https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/24575198/ | پب میڈ |

مقدار خوراک:
آدھا گرام
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.



Leave a Reply