Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. سلاجیت
سلاجیت

سلاجیت

  • February 8, 2026
  • 0 Likes
  • 219 Views
  • 0 Comments

سلاجیت

نام :

عربی میں حجر الموسی، فارسی میں مومیائی، بنگالی میں شلاجتو  اور ہندی میں शिलाजीतکہتے ہیں۔

Hakeem Syed Abdulwahab Shah Sherazi

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)

نام انگلش:

Name: Shilajit

Scientific name: Asphaltum punjabinum

Family: Mineral

تاثیری نام:
مقام پیدائش:
مزاج  طب یونانی:
مزاج  طب پاکستانی:
نفع خاص:
مقوی گردہ و مثانہ، مقوی باہ، مقوی سدہ، قاتل کرم شکم، مجفف، حابس  ہند و پاکخشک گرم درجہ دومعضلاتی غدیاعصابی و بلغمی امراض

سلاجیت shilajit Asphaltum punjabinum शिलाजीत

تعارف:

لفظ “شیلاجتو” (Shilajatu) سنسکرت لفظ ہے، جس کا مطلب ہے “چٹانوں کا فاتح” یا “چٹانوں کا پسینہ ۔ سلاجیت کوئی نباتاتی جڑی بوٹی نہیں ہے بلکہ ایک نامیاتی معدنی مادہ ہے جو موسمِ گرما کی شدید تپش میں ہمالیہ اور دیگر بلند پہاڑوں کی دراڑوں سے گوند کی طرح رس کر باہر نکلتا ہے۔ یہ پودوں کے ہزاروں سال تک پہاڑی تہوں کے نیچے دبے رہنے اور گلنے سڑنے (Decomposition) کے عمل سے بنتا ہے۔ یہ چٹانوں کے درمیان دبے ہوئے قدیم پودوں (خاص طور پر Euphorbia royleana اور Trifolium repens) کے طویل عرصے تک دبے رہنے اور معدنیات کے ساتھ مل کر عملِ تکسید (Oxidation)  سے گزرنے کے بعد وجود میں آتا ہے۔

اصلی سلاجیت عام طور پر سیاہ مائل بھورے یا گہرے بھورے رنگ کی ہوتی ہے، بعض اوقات اس میں سرخی یا سنہری جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ یہ سخت سرد موسم میں جم جاتی ہے اور گرمی میں نرم ہو کر چپچپی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس کی ساخت رال یا گاڑھے لیس دار مادے جیسی ہوتی ہے، ہاتھ لگانے پر چکناہٹ محسوس ہوتی ہے اور انگلیوں کے ساتھ کھنچتی ہے۔ سلاجیت کی خوشبو تیز یا ناگوار نہیں ہوتی بلکہ ہلکی سی معدنی بو رکھتی ہے۔ ذائقہ قدرے تلخ اور کسی حد تک کڑوا ہوتا ہے۔ پانی یا دودھ میں ڈالنے پر اچھی سلاجیت آہستہ آہستہ حل ہو جاتی ہے اور رنگ گہرا کر دیتی ہے، جبکہ نقلی یا ملاوٹی سلاجیت میں تلچھٹ رہ جاتی ہے یا بدبو پیدا ہو جاتی ہے۔

 اصلی سلاجیت کی ایک اہم علامت یہ بھی ہے کہ آگ کے قریب لانے پر یہ مکمل طور پر جلتی نہیں بلکہ نرم ہو کر پھیلتی ہے اور اس میں سے دھواں کم نکلتا ہے، جبکہ مصنوعی یا کیمیائی آمیزش والی چیز جلد جل جاتی ہے یا تیز بدبو دیتی ہے۔ اصلی سلاجیت خالص الکحل (Spirit) میں حل نہیں ہوتی، جبکہ نقلی سلاجیت جس میں گوند یا دیگر ملاوٹ ہو، وہ الکحل میں گھل سکتی ہے۔

سلاجیت پہاڑوں سے نکلتی ہے، اس لیے اس میں سیسہ (Lead)، سنکھیا (Arsenic) اور پارہ (Mercury) جیسی زہریلی دھاتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ جدید طریقہ ICP-MS یہ ایک ایسا ٹیسٹ ہے جو بہت باریک مقدار میں بھی ان زہریلی دھاتوں کا پتہ لگا لیتا ہے۔ محفوظ سلاجیت وہی ہے جس میں یہ دھاتیں مقررہ عالمی حد (مثلاً سیسہ 0.5 ملی گرام سے کم) کے اندر ہوں۔

 فلوِک ایسڈ کی اصل مقدار (Fulvic Acid Potency) فلوِک ایسڈ سلاجیت کا سب سے خاص جز ہے۔ پہلے پرانے طریقوں سے اس کی مقدار غلط بتائی جاتی تھی، لیکن اب AOAC 2015.01 جیسے نئے سائنسی طریقوں سے اس کی بالکل درست مقدار معلوم کی جاتی ہے۔ بہترین اور اصلی سلاجیت میں فلوِک ایسڈ کی مقدار 45% سے 55% کے درمیان ہوتی ہے۔

سلاجیت shilajit Asphaltum punjabinum शिलाजीत

یہ بھی پڑھیں: سقمونیا

یہ بھی پڑھیں: سریش

یہ بھی پڑھیں: سروالی

سلاجیت shilajit Asphaltum punjabinum शिलाजीत
سلاجیت shilajit Asphaltum punjabinum शिलाजीत

کیمیاوی و غذائی  اجزا:

بنیادی نامیاتی اجزا

فلویِک ایسڈ (Fulvic Acid)  ہیومک ایسڈ (Humic Acid)  ہیومِن (Humin)   ڈی بینزو الفا پائرونز (Dibenzo-alpha-pyrones)

فینیولک مرکبات (Phenolic Compounds)    فینیولک ایسڈز (Phenolic Acids)      ٹرائی ٹرپینز (Triterpenes)

سٹرولز (Sterols)   ایلیجک ایسڈ (Ellagic Acid)               بیٹا کیروٹین (Beta-carotene)             قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس (Natural Antioxidants)

سلاجیت میں پائے جانے والے امینو ایسڈز

گلائسین (Glycine)، ایلانین (Alanine)، ویلین (Valine)، لیوسین (Leucine)، آئسو لیوسین (Isoleucine)، پرو لائن (Proline)

سیریں (Serine)، اسپارٹک ایسڈ (Aspartic Acid)، گلوٹامک ایسڈ (Glutamic Acid)

سلاجیت کے معدنی اجزا

لوہا، کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم، سوڈیم، فاسفورس، زنک، تانبا، مینگنیز، سیلینیم۔

سلاجیت کے ٹریس اور نایاب عناصر

کرومیم، مولیبڈینم، وانیڈیم، کوبالٹ، نکل، سٹرونٹیم، روبیدیئم، سیزیئم۔

سلاجیت کے دیگر قدرتی اجزا

قدرتی ریزنز (Natural Resins)، مومی اجزا (Waxes)، گمز (Gums)، کاربوہائیڈریٹس (Carbohydrates)، لیپڈز (Lipids)

نامیاتی تیزاب (Organic Acids)، نباتاتی باقیات کے اجزا (Plant-derived Organic Matter)

سلاجیت shilajit Asphaltum punjabinum शिलाजीत
سلاجیت shilajit Asphaltum punjabinum शिलाजीत

اثرات:

سلاجیت عضلات میں تحریک، اعصاب میں تحلیل اور اعصاب میں تقویت پیدا کرتی ہے، کیمیائی طور پر حرارت غریزی پیدا کرتی ہے۔ محرک و مقوی عضلات، مقوی گردہ و مثانہ، مقوی باہ، مقوی سدہ، قاتل کرم شکم، مجفف، حابس  اثرات رکھتی ہے۔

خواص و فوائد:

سلاجیت چونکہ نہایت اعلی درجہ کی مقوی عضلات دوا ہے اس لیے اس کے استعمال سے ضعف عضلات اور ضعف باہ کو فائدہ پہنچتا ہے۔ مجفف اور حابس ہونے کی وجہ سے ذیابیطس، سلسل بول، نزلہ زکام، دست و قے روکنے کے لیے بہترین دوا ہے۔ سلاجیت رطوبات کو غلیظ کرکے امساک پیدا کرتی ہے، جریان منی اور سیلا الرحم کے لیے بہترین چیز ہے۔ جتنے بھی امراض بلغمی اعصابی ہیں ان تمام میں یہ مفید چیز ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات:

سلاجیت محض ایک روایتی ٹوٹکا نہیں بلکہ جدید سائنس سے ثابت شدہ ایک ایسا مرکب ہے جو براہ راست انسانی خلیات (Cells) کے اندر توانائی پیدا کرنے والے نظام “مائٹوکونڈریا” (Mitochondria) کو بہتر بناتا ہے۔ سلاجیت کوئی عارضی محرک (Stimulant) نہیں ہے بلکہ یہ خلیاتی سطح پر جسم کی مرمت کر کے قدرتی توانائی بحال کرتی ہے۔ یہ ذہنی توجہ، جسمانی برداشت اور قوتِ مدافعت کے لیے قدرت کا ایک نایاب تحفہ ہے۔

  • 2012 کی تحقیق: جرنل آف ایتھنو فارماکولوجی کے مطابق خالص سلاجیت نے اے ٹی پی (ATP) کی سطح میں نمایاں اضافہ کیا۔ (NCBI)
  • 2016 کی تحقیق: جریدہ ‘اینڈرولوجیا’ کے مطابق 90 دن کے استعمال سے ٹیسٹوسٹیرون اور سپرمز کی کوالٹی بہتر ہوئی۔ (PubMed)
  • لیبارٹری تصدیق: یورو فنز (Eurofins) جیسی لیبز نے ہمالیہ اور قراقرم کی سلاجیت میں فلوِک ایسڈ کی اعلیٰ مقدار (45-70%) کی تصدیق کی ہے۔

جسمانی توانائی اور تھکاوٹ میں کمی

سلاجیت جسم کے خلیوں میں توانائی بنانے کے عمل کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ اسی وجہ سے مسلسل تھکاوٹ، کمزوری اور سستی محسوس کرنے والے افراد میں یہ طاقت اور چستی کا احساس پیدا کرتی ہے۔ جسمانی کام یا ذہنی دباؤ کے بعد بحالی کا عمل نسبتاً بہتر ہو جاتا ہے۔

دماغی صحت اور یادداشت

سلاجیت میں موجود قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ اجزا دماغی خلیوں کو نقصان سے بچانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سے یادداشت، توجہ اور ذہنی یکسوئی میں بہتری آ سکتی ہے، خاص طور پر عمر بڑھنے کے ساتھ پیدا ہونے والی ذہنی کمزوری کے عمل کو سست کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ہارمونل توازن اور مردانہ صحت

سلاجیت مردوں میں قدرتی ہارمونز کے توازن کو سہارا دیتی ہے۔ اس کے استعمال سے جسمانی قوت، توانائی اور تولیدی صحت پر مثبت اثرات دیکھے گئے ہیں، خاص طور پر ان افراد میں جو کمزوری یا تھکن کا شکار ہوں۔

پٹھوں کی مضبوطی اور جسمانی کارکردگی

یہ مادہ ورزش کرنے والوں یا جسمانی مشقت کرنے والے افراد میں پٹھوں کی طاقت اور برداشت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ سلاجیت جسم کو جلد سنبھلنے میں مدد دیتی ہے، جس سے جسمانی کارکردگی میں مجموعی بہتری محسوس ہوتی ہے۔ سلاجیت میں موجود قدرتی اجزا جسم میں سوزش کے عمل کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس وجہ سے جوڑوں کے درد، پٹھوں کی اکڑن اور پرانی سوزشی کیفیتوں میں کچھ حد تک آرام محسوس کیا جا سکتا ہے۔  سلاجیت جسم کے دفاعی نظام کو سہارا دیتی ہے، جس سے جسم بیماریوں کے خلاف بہتر ردعمل دکھاتا ہے۔ یہ اثر خاص طور پر کمزور مدافعت رکھنے والے افراد میں نمایاں ہو سکتا ہے۔ سلاجیت خلیوں کی مرمت کے عمل میں مدد دیتی ہے، جس سے زخم بھرنے اور بافتوں کی بحالی کا عمل بہتر ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے جلد کی صحت اور مجموعی جسمانی بحالی میں اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔

غذائی اجزا کے جذب میں بہتری

سلاجیت جسم میں معدنیات اور دیگر غذائی اجزا کے بہتر جذب میں مدد دیتی ہے۔ اس سے خوراک کا فائدہ زیادہ مؤثر طریقے سے جسم تک پہنچتا ہے اور عمومی کمزوری میں کمی آ سکتی ہے۔

احتیاط:

چونکہ یہ درجہ دوم کی دوا ہے، اس لیے بغیر ماہر حکیم کے مشورے اور چیک اپ کے استعمال کرنے سے اجتناب کریں۔ سلاجیت کوئی ایسی چیز نہیں کہ آپ خود بازار سے خرید کر استعمال کرنا شروع کردیں۔ بلکہ حکیم کو اپنا مزاج چیک کروا کر اگر مناسب ہو تو تب بقدر ضرورت استعمال کریں۔

حوالہ جات:


wikipediahttps://en.wikipedia.org/wiki/Shilajit?
pmchttps://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC3296184/
nihhttps://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC12639641/
shilajitjournalhttps://shilajitjournal.org/research-shilajit
pmchttps://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC12848467
Pubmedhttps://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/40057709/
ncbihttps://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC10975313/

 

مقدار خوراک:

250 ملی گرام

Important Note

اعلان دستبرداری
اس مضمون کے مندرجات کا مقصد عام صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے ، لہذا اسے آپ کی مخصوص حالت کے لیے مناسب طبی مشورے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس مضمون کا مقصد جڑی بوٹیوں اور کھانوں کے بارے میں تحقیق پر مبنی سائنسی معلومات کو شیئر کرنا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں بیان کردہ کسی بھی تجویز پر عمل کرنے یا اس مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر علاج کے کسی پروٹوکول کو اپنانے سے پہلے ہمیشہ لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ہمیشہ لائسنس یافتہ، تجربہ کار ڈاکٹر اور حکیم سے علاج اور مشورہ لیں۔

Leave Your Comment