
سورج مکھی
نام :
عربی میں دوار الشمس ۔ فارسی میں گل آفتاب پرست، آفتاب گردان۔ اور ہندی میں सूरजमुखी کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Sunflower
Scientific name: Helianthus annuus
Family: Asteraceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| دافع عسرالطث، دافع عظم جگر و طحال، مخرج جنین، قاتل کرم شکم، خصوصا کدو دانے، دافع بواسیر، دافع تعفن | ہند و پاک | پتے اور تیل گرم تر بیج گرم خشک | غدی اعصابی | عضلاتی امراض و علامات |

تعارف:
سورج مکھی ایک مشہور اور خوبصورت پودا ہے جو اپنے بڑے، روشن زرد پھول کی وجہ سے فوراً پہچانا جاتا ہے۔ اس کا تنا سیدھا، مضبوط، کھردرا اور عموماً سبز رنگ کا ہوتا ہے، جس پر باریک روئیں پائی جاتی ہیں۔ بعض اقسام میں اس کی اونچائی 5 سے 12 فٹ تک پہنچ جاتی ہے۔
اس کے پتے چوڑے، دل نما، کھردرے اور گہرے سبز رنگ کے ہوتے ہیں۔ پتوں کی سطح پر بھی باریک روئیں موجود ہوتی ہیں۔ سورج مکھی کا سب سے نمایاں حصہ اس کا بڑا پھول ہے، جو دراصل بے شمار چھوٹے چھوٹے پھولوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس کی بیرونی پتیاں چمکدار زرد رنگ کی ہوتی ہیں جبکہ درمیان کا حصہ بھورا یا سیاہی مائل ہوتا ہے۔ یہ پودا سورج کی سمت گھومنے کی خاصیت رکھتا ہے، خاص طور پر اس کی نو عمر کلیاں صبح سے شام تک سورج کی طرف رخ بدلتی رہتی ہیں، اسی وجہ سے اسے سورج مکھی کہا جاتا ہے۔
سورج مکھی ایک سالانہ نباتاتی پودا ہے جس کی اصل جائے پیدائش شمالی امریکہ سمجھی جاتی ہے، لیکن اب یہ دنیا کے بیشتر ممالک میں کاشت کیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف خوبصورتی کے لیے بلکہ خوراک، تیل اور طبی فوائد کے لیے بھی انتہائی اہم پودا مانا جاتا ہے۔ اس کے بیج غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والا تیل دنیا کے بہترین خوردنی تیلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سورج مکھی کے بیجوں میں پروٹین، صحت مند چکنائیاں، وٹامن ای، میگنیشیم، سیلینیم اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔
سورج مکھی کی کاشت گرم اور دھوپ والے علاقوں میں زیادہ کامیاب رہتی ہے۔ یہ پودا اچھی نکاسی والی زمین میں تیزی سے نشوونما پاتا ہے۔ اس کے پھول شہد کی مکھیوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، اسی لیے شہد کی پیداوار میں بھی اس کا اہم کردار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سنگھاڑا
یہ بھی پڑھیں: سنگ یہود
یہ بھی پڑھیں: طب پاکستانی میں 6 تحریکوں کی علامات

کیمیاوی و غذائی اجزا:
بنیادی غذائی اجزاء
پروٹین (Protein)، صحت مند چکنائیاں (Healthy Fats)، کاربوہائیڈریٹس (Carbohydrates)، غذائی فائبر (Dietary Fiber)
اہم فیٹی ایسڈز
لینولک ایسڈ (Linoleic Acid)، اولیک ایسڈ (Oleic Acid)، پولی اَن سیچوریٹڈ فیٹس (Polyunsaturated Fats)،
مونو اَن سیچوریٹڈ فیٹس (Monounsaturated Fats)
وٹامنز
وٹامن ای، وٹامن بی 1 / تھایامین (Vitamin B1 / Thiamine)، وٹامن بی 6 (Vitamin B6)، نیاسین، فولیٹ، وٹامن سی، وٹامن اے ، وٹامن کے۔
معدنیات
میگنیشیم ، سیلینیم ، زنک ، آئرن ، کیلشیم، فاسفورس ، پوٹاشیم ، کاپر ، مینگنیز ۔
بائیو ایکٹو اجزاء
فلیوونائڈز (Flavonoids) فینولک ایسڈز (Phenolic Acids) اینٹی آکسیڈنٹس (Antioxidants)
فائٹو اسٹرولز (Phytosterols) ٹوکوفیرولز (Tocopherols)
جدید تحقیقات کے مطابق سورج مکھی کے بیج خاص طور پر وٹامن ای، اینٹی آکسیڈنٹس اور صحت مند چکنائیوں کی وجہ سے دل، جلد، اعصاب اور مدافعتی نظام کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔

اثرات:
سورج مکھی محرک غدد، محلل عضلات اور مسکن اعصاب ہے کیمیاوری طور پر خشکی اور غلیظ رطوبات کو رقیق کرکے خارج کرتا ہے، صفراء کی پیدائش کے ساتھ ساتھ اس کا اخراج بھی کرتا ہے۔ دافع موسمی بخار، مدر بول، دافع عسرالطث، پھیپھڑوں کے زخم بند کرتا ہے، دافع عظم جگر و طحال، مخرج جنین، قاتل کرم شکم، خصوصا کدو دانے، دافع بواسیر، دافع تعفن اثرات رکھتا ہے۔
خواص و فوائد:
سورج مکھی دافع تعفن ہونے کی وجہ سے جس مقام پر اس کی پھلواڑی ہوتی ہے اس کے اردگرد کی فضا کو صاف کرتا ہے، بندش بول، تقطیر بول کے لیے مفید ہے، اس کے پتوں کا قہوہ اس مقصد کے لیے بہت مفید ہے۔ محرک جگر و غدد ہونے کی وجہ سے عظم جگر و عظم الطحال میں مفید ہے۔ اس کا تیل کدو دانوں کو مار کر خارج کرنے کے لیے بہترین دوا ہے۔ ریاح شکم تحلیل ہو جاتے ہیں۔اس کی زیادہ مقدار اسقاط حمل کر دیتی ہے۔
جدید سائنسی تحقیقات:
سورج مکھی کے بیجوں میں لینولک ایسڈ، اولیک ایسڈ اور فائٹو اسٹرولز پائے جاتے ہیں جو خراب کولیسٹرول (LDL) کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ متعدد مطالعات کے مطابق سورج مکھی کا تیل دل کی شریانوں کی صحت بہتر بنانے اور قلبی امراض کے خطرے کو کم کرنے میں معاون سمجھا جاتا ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق غیر سیر شدہ چکنائیوں والے تیل دل کے لیے نسبتاً بہتر سمجھے جاتے ہیں۔
سورج مکھی کے بیج وٹامن ای سے بھرپور ہوتے ہیں، جو ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے۔ سائنسی تحقیقات کے مطابق وٹامن ای جسم میں فری ریڈیکلز کے نقصان کو کم کرتا ہے، جس سے خلیات کی حفاظت ہوتی ہے اور بڑھاپے کے اثرات نسبتاً کم ہو سکتے ہیں۔
حوالہ جات:

مقدار خوراک:
دو سے تین گرام


Leave Your Comment