Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. طب پاکستانی میں 6 تحریکوں کی علامات
طب پاکستانی میں 6 تحریکوں کی علامات

طب پاکستانی میں 6 تحریکوں کی علامات

  • April 27, 2026
  • 0 Likes
  • 15 Views
  • 0 Comments

Table of Contents

طب پاکستانی میں 6 تحریکوں کی علامات، پہچان، امراض

Hakeem Syed Abdulwahab Shah Sherazi

1۔ اعصابی عضلاتی

اعصابی عضلاتی تحریک کو اگر ہم سادہ الفاظ میں سمجھنا چاہیں تو یہ انسانی جسم کی وہ حالت ہے جسے طبِ یونانی میں “تر سرد” مزاج کہا جاتا ہے۔ طبِ پاکستانی (قانون مفرد اعضاء) کی روشنی میں یہ دراصل دماغ اور اعصاب کی مشینی تحریک کی علامت ہے۔ اس صورتحال میں جسم میں رطوبات یا بلغم کی مقدار ضرورت سے زیادہ بڑھ جاتی ہے ، لیکن ساتھ ساتھ اخراج بھی ہوتا ہے، جس سے پورے جسم کے اعضاء میں سستی اور کمزوری نمایاں ہونے لگتی ہے۔

تحریک کی حقیقت اور اثرات

اس مخصوص کیفیت میں دماغ و اعصاب میں ایک مشینی عمل جاری ہوتا ہے جبکہ غدد میں تسکین یا آرام کا عمل شروع ہو جاتا ۔ اس تحریک کے دوران دماغ رطوبت کی زیادتی کی وجہ سے سست پڑ جاتا ہے۔ پٹھے ڈھیلے ہو جاتے ہیں اور ان میں لٹک جانے کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔

نمایاں علامات اور امراض

جب جسم میں سردی اور تری کا غلبہ ہوتا ہے تو کئی طرح کے عوارض جنم لیتے ہیں۔ اعصابی سطح پر مریض کو فالج، لقوہ، ہاتھوں کا کانپنا (رعشہ)، سنگ رہنی، نزلہ و زکام  اور ضرورت سے زیادہ نیند آنے کی شکایت ہو سکتی ہے۔ نظامِ ہضم کی بات کریں تو بھوک بالکل ختم ہو جاتی ہے، کھانا صحیح طرح ہضم نہیں ہوتا اور پیٹ بڑھنے لگتا ہے۔ اکثر اوقات پاخانہ غیر ہضم شدہ حالت میں آتا ہے۔

سانس کے حوالے سے بلغمی دمہ اور ایسی کھانسی جس میں سفید گاڑھا بلغم خارج ہو، اس تحریک کی خاص نشانیاں ہیں۔ جوڑوں میں گھٹیا کا درد ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسی سوجن جو دبانے سے گڑھا پڑ جائے (جسے طبی زبان میں Pitting Edema کہا جاتا ہے)۔ خواتین میں رطوبت کی زیادتی بانجھ پن یا  لیکوریا کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ چربی والا موٹاپا اور پیشاب کا خود بخود نکل جانا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔

پہچان کے طریقے

مریض کی تشخیص کے لیے چند کلیدی نشانیاں بہت اہم ہیں:

نبض: اس کی نبض انگلیوں کو گہرائی میں جا کر محسوس ہوتی ہے، جو کہ بہت نرم، سست اور موٹی ہوتی ہے۔ اس کی ٹھوکر پانی کی لہر کی طرح کمزور محسوس ہوتی ہے۔

قارورہ (پیشاب): پیشاب بالکل شفاف، سفید اور مقدار میں بہت زیادہ آتا ہے، جبکہ مریض کو پیاس کا احساس تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔

زبان: زبان سفید، چوڑی اور رال سے بھری ہوتی ہے، جس کے کناروں پر دانتوں کے نشانات صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔

جسمانی حلیہ: چہرہ سفید اور سوجا ہوا لگتا ہے، آنکھوں کے نیچے پپوٹے پھولے ہوئے ہوتے ہیں اور مریض سستی کی وجہ سے ہم وقت لیٹے رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سنگ سرماہی

یہ بھی پڑھیں: سنگ دانہ مرغ

یہ بھی پڑھیں: سنگ جراحت

وجوہات اور پس منظر

اس حالت کے پیدا ہونے کی بڑی وجہ غذا میں حد سے زیادہ تر سرد اشیاء کا استعمال ہے، جیسے چاول، چینی، میدہ، کدو، کھیرا، تربوز اور ٹھنڈا دودھ۔ ماحولیاتی طور پر سرد اور نم جگہوں پر زیادہ دیر رہنا یا نہانے کے فوراً بعد ٹھنڈی ہوا لگنا بھی اس کا سبب بنتا ہے۔ نفسیاتی طور پر دماغی کام کی کمی اور حد سے زیادہ آرام طلبی اس کیفیت کو بگاڑ دیتی ہے۔ عام طور پر یہ تحریک اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم میں حرارت کی شدید کمی ہو جائے اور سردی بڑھ جائے۔

تشخیصِ فارق اور علاج کا رخ

طبِ یونانی میں اسے “بارد رطب” کیفیت کہا جاتا ہے۔ اس کا اعصابی غدی (تری گرمی) سے فرق یہ ہے کہ یہاں حرارت کی شدید کمی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے فاسد مادے خارج ہونے کے بجائے جسم میں ہی رک جاتے ہیں۔ اس تحریک میں عام طور پر شدید درد تو نہیں ہوتا لیکن جسم بھاری پن اور سوجن کا شکار رہتا ہے۔ علاج کے لیے ضروری ہے کہ عضلات و جگر کو متحرک کر کے جسم میں حرارت پیدا کی جائے، جس کے لیے عضلاتی غدی غذاؤں اور تدابیر کا سہارا لیا جاتا ہے۔

2۔عضلاتی اعصابی

عضلاتی اعصابی تحریک، جسے “خشک سرد” مزاج کے نام سے جانا جاتا ہے، انسانی صحت کے مطالعے میں ایک انتہائی اہم مقام رکھتی ہے۔ طبِ پاکستانی (قانون مفرد اعضاء) کے مطابق یہ وہ کیفیت ہے جہاں جسم میں خشکی (سودا) کی زیادتی ہو جاتی ۔ اس تحریک کی ایک منظم اور سادہ تفصیل کچھ یوں ہے:

تحریک کا پس منظر اور عمل

اس حالت میں دل اور عضلات میں کیمیاوی عمل اپنی تیزی پر ہوتا ہے، جبکہ دماغ اور اعصاب میں تحلیل کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ خون میں مادہ سودا پیدا ہو کر جمع ہونے لگتا ہے جس کی وجہ سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے۔ چونکہ اس میں سردی اور خشکی یکجا ہوتی ہیں، اس لیے یہ جسم کے ریشوں (ٹشوز) میں سختی اور سکڑاؤ پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔

اس تحریک سے متاثر ہونے والے اہم اعضاء

اس تحریک کا بنیادی مرکز دل اور عضلات ہیں، جہاں کھنچاؤ اور سختی پیدا ہونا معمول بن جاتا ہے۔ تلی (سپلین) سودا بنانے اور اسے ذخیرہ کرنے کا کام کرتی ہے، اسی لیے اس تحریک میں اکثر تلی کا سائز بڑھ جاتا ہے۔ دماغ اور اعصاب میں سستی اور کمزوری نمایاں ہوتی ہے کیونکہ وہاں کام کی رفتار دھیمی ہوتی ہے۔ پھیپھڑوں میں خشکی کے باعث سانس کی نالیوں میں تنگی محسوس ہو سکتی ہے۔

جنم لینے والے امراض

عضلاتی اعصابی تحریک میں رطوبات کے رکنے اور خشکی کے غلبے سے کئی بیماریاں جنم لیتی ہیں مثلا:

درد اور پٹھوں کی تکلیف: عرق النساء (لنگڑی کا درد)، جوڑوں میں ایسا درد جو حرکت کرنے سے بڑھے، پٹھوں کا سخت ہو جانا اور کمر کا دائمی درد اس کی عام نشانیاں ہیں۔

نظامِ ہضم کی خرابیاں: معدے میں گیس کی بہتات (تبخیر)، قبض، پیٹ کا پھولنا اور تیزابیت کے باعث سینے میں جلن ہونا۔

نفسیاتی علامات: اس مزاج کے مریض اکثر اداسی، خوف، تنہائی پسندی اور ہر وقت برے وسوسوں کا شکار رہتے ہیں۔

جلد کے مسائل: جلد کا شدید خشک ہونا، رنگت کا سیاہ ہونا، چہرے پر چھائیاں اور سیاہ دھبے پڑ جانا۔

دیگر عوارض: وزن میں تیزی سے کمی، بادی بواسیر اور نیند کے دوران بار بار ڈر کر جاگ جانا، ڈراونے خواب آنا۔

تشخیص اور پہچان کی علامتیں

ایک تجربہ کار طبیب مریض کی درج ذیل نشانیوں سے اس تحریک کا اندازہ لگاتا ہے:

نبض کی کیفیت: اس تحریک میں نبض ہاتھ لگانے پر اوپر ہی محسوس ہوتی ہے لیکن اس کی ٹھوکر میں ایک خاص قسم کی سختی اور ٹیڑھا پن ہوتا ہے۔ انگلیوں پر یہ چوڑی اور ٹھوس محسوس ہوتی ہے، ہوا سے پر ہوتی ہے۔

قارورہ (پیشاب): پیشاب کی رنگت گہری سرخ سیاہی مائل ہوتی ہے، تاہم اس کی مقدار ضرورت سے کم رہتی ہے۔

زبان کا مشاہدہ: زبان پر سفید یا کسی حد تک سیاہی مائل تہہ جمی ہوتی ہے اور زبان کے کنارے کھردرے محسوس ہوتے ہیں، زبان پر کریک ہوتے ہیں۔

جسمانی رنگت: مریض کے چہرے سے رونق ختم ہو جاتی ہے، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے نمایاں ہوتے ہیں اور مجموعی طور پر رنگت میں سرخی کے بجائے سیاہی غالب آ جاتی ہے۔

پیدا ہونے کی وجوہات

اس تحریک کے پیچھے اکثر ہماری غذائی اور طرزِ زندگی کی عادات ہوتی ہیں۔ کھٹی اور خشک چیزوں کا زیادہ استعمال جیسے دہی، لسی، لیموں، اچار، آلو، گوبھی اور مٹر اس کے بڑے اسباب ہیں۔ اس کے علاوہ مستقل پریشانی، ماضی کے دکھوں میں گم رہنا اور آرام کیے بغیر مسلسل ذہنی کام کرنا بھی سودا کو بڑھاتا ہے۔ ماحولیاتی طور پر خشک اور سرد ہوا میں زیادہ رہنا بھی اس کا سبب بنتا ہے۔

تشخیص

طبِ یونانی میں اسے “سوداوی مزاج” کہا جاتا ہے جہاں سردی اور خشکی مل جاتی ہیں۔ اگر ہم اس کا موازنہ عضلاتی غدی (خشک گرم) تحریک سے کریں تو وہاں جلن زیادہ ہوتی ہے، جبکہ اس عضلاتی اعصابی تحریک میں درد کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں بلغم اور سودا مل کر خون کو جمانے کی طرف مائل کرتے ہیں، اسی لیے ماہرین اسے “سرد سودا” کی حالت بھی کہتے ہیں۔ اس کا علاج جسم میں حرارت پیدا کر کے یعنی غدی عضلاتی تدابیر اور غذاؤں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

4۔ عضلاتی غدی تحریک

عضلاتی غدی تحریک، جسے طبِ پاکستانی (قانون مفرد اعضاء) میں “خشک گرم” مزاج کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک طبی معالج کے لیے تشخیص و علاج میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ وہ حالت ہے جہاں جسم میں سودا کا غلبہ ہوتا ہے اور حرارت کا عنصر شامل ہونے سے کیفیات بدلنے لگتی ہیں۔ اس تحریک کی ایک جامع اور بہتر ترتیب درج ذیل ہے:

عضلاتی غدی تحریک کا علمی جائزہ

اس تحریک کے دوران دل کی مشینی قوت اپنی انتہا پر ہوتی ہے، جبکہ جگر میں کیمیاوی عمل کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت میں خون میں مادہ سودا بڑھ جاتا ہے اور جسمانی رطوبات یعنی تری خشک ہونے لگتی ہے۔ اس کا بنیادی مرکز طحال (تلی) ہے، جہاں سودا جمع تو ہوتا رہتا ہے مگر اس کا اخراج نہیں ہو پاتا۔ اس رکاوٹ کے نتیجے میں خون گاڑھا اور رنگت میں سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔

متاثرہ اعضاء اور ان کی کیفیت

اس تحریک کے اثرات جسم کے مخصوص حصوں پر زیادہ نمایاں ہوتے ہیں:

دل و عضلات: ان میں شدید سکڑاؤ پیدا ہوتا ہے اور ان کی کارکردگی تیز ہو جاتی ہے۔

طحال (Spleen): یہ اس تحریک کا فعال مرکز ہے جہاں سوداوی مادے کا ذخیرہ غیر معمولی طور پر بڑھ جاتا ہے۔

غدد اور جگر: جگر اور دیگر غدود میں کیمیاوی تحریک شروع ہوتی ہے جس سے جسم میں گرمی کا احساس بڑھتا ہے۔

آنتیں: خشکی کے باعث بڑی آنت کا فعل متاثر ہوتا ہے، جس سے فضلے کے اخراج میں رکاوٹ آتی ہے۔

امراض اور علامات کی تفصیل

عضلاتی غدی تحریک میں خشکی اور گرمی کے ملاپ سے کئی پیچیدہ امراض جنم لیتے ہیں، جنہیں مختلف زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

نظامِ ہضم: مریض کو مستقل قبض کی شکایت رہتی ہے، پیٹ میں گیس رک جاتی ہے اور معدے کی تیزابیت (Acidity) بڑھ جاتی ہے۔ بواسیر چاہے وہ خونی ہو یا بادی، اسی تحریک کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایک دلچسپ علامت یہ ہے کہ مریض کو بھوک تو بہت لگتی ہے لیکن اس کا وزن نہیں بڑھتا۔

جلدی مسائل: جلد پر شدید خارش، ایگزیما، داد (Ringworm) اور جلد کا رنگ کالا پڑنا اس مزاج کی عام نشانیاں ہیں۔

اعصابی و نفسیاتی کیفیت: مریض ہر وقت کسی نہ کسی تناؤ کا شکار رہتا ہے۔ بے جا خوف، وسوسے، نیند کی کمی اور مالیخولیا جیسی ذہنی کیفیات اسے گھیرے رکھتی ہیں۔

دیگر جسمانی علامات: دل کی دھڑکن کا اچانک بڑھ جانا، بلند فشار خون (High BP)، گردے اور مثانے میں پتھری بننے کا عمل اور پٹھوں میں کھنچاؤ کی تکلیف عام ہوتی ہے۔

پہچان اور تشخیص (Symptomatology)

ایک طبیب مریض کی درج ذیل علامات سے اس مزاج کی شناخت کرتا ہے:

نبض: نبض ہاتھ لگانے پر اوپر ہی محسوس ہوتی ہے، جو کہ سخت اور ٹھوس ہوتی ہے۔ یہ انگلیوں پر باقاعدہ ٹھوکر مارتی ہے اور اس کی رفتار عام حالات سے تیز ہوتی ہے۔

قارورہ (پیشاب): پیشاب کی رنگت سرخی مائل زرد ہوتی ہے اور یہ مقدار میں کافی کم آتا ہے۔ پاخانہ بھی سخت اور تکلیف کے ساتھ آتا ہے۔

زبان: زبان کے درمیان میں ایک تہہ جمی ہوتی ہے جبکہ اس کے کنارے سرخ ہوتے ہیں۔ اکثر زبان پر چھوٹے چھوٹے کٹ (Cracks) بھی نظر آتے ہیں۔

جسمانی ساخت: ایسے مریض عموماً دبلے پتلے ہوتے ہیں اور ان کی رنگت میں سرخی کے بجائے سیاہی یا گہرا پن پایا جاتا ہے۔

پیدا ہونے کی بنیادی وجوہات

اس تحریک کے پیچھے زیادہ تر غذائی اور نفسیاتی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ بڑا گوشت، بینگن، چنے کی دال، پکوڑے، سموسے اور تیز پتی والی چائے کا زیادہ استعمال جسم میں خشکی اور گرمی بڑھاتا ہے۔ اس کے علاوہ شدید غم، غصہ اور بہت زیادہ سوچ بچار بھی سودا کی پیداوار میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ ماحولیاتی طور پر خشک اور گرم موسم بھی اس کیفیت کو ہوا دیتا ہے۔

تشخیص

طبِ پاکستانی (قانون مفرد اعضاء) کے مطابق یہ عضلاتی اعصابی (خشک سرد) کے بعد کی اگلی منزل ہے۔ ان دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ عضلاتی اعصابی تحریک میں “درد” کی شدت زیادہ ہوتی ہے، جبکہ عضلاتی غدی تحریک میں درد کے ساتھ ساتھ “سوزش اور جلن” کا عنصر بھی شامل ہو جاتا ہے، کیونکہ اب جسم میں حرارت داخل ہو چکی ہوتی ہے۔ اس کا علاج جگر کو مکمل طور پر متحرک کر کے یعنی غدی عضلاتی اور غدی اعصابی تدابیر سے کیا جاتا ہے۔

4۔غدی عضلاتی

غدی عضلاتی تحریک، جسے طبِ پاکستانی (قانون مفرد اعضاء) میں “گرم خشک” مزاج کہا جاتا ہے، تشخیص کے لحاظ سے ایک انتہائی حساس اور اہم مقام ہے۔ اس حالت میں جسم کے اندر حرارت اپنے عروج پر ہوتی ہے اور خشکی کا امتزاج اسے مزید شدید بنا دیتا ہے۔ اسے جگر اور غدد (Glands) کی سوزش کی ابتدائی مگر قوی حالت مانا جاتا ہے، جہاں جسم کا فطری توازن بگڑنے لگتا ہے۔

تحریک کا سائنسی جائزہ

اس تحریک میں جگر اور غدد میں کیمیاوی عمل بہت تیز ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مادہ صفرا (Bile) خون میں کثرت سے پیدا ہونے لگتا ہے۔ جب یہ صفرا خشکی (سودا) کے ساتھ ملتا ہے تو جسم میں “گرمی خشکی” کی انتہا ہو جاتی ہے۔ اس کا بنیادی مرکز جگر ہے، جو اس وقت ضرورت سے زیادہ فعال ہوتا ہے۔

متاثرہ اعضاء کی کیفیت

جگر (Liver): یہ اس تحریک کا پاور ہاؤس ہے جو تیزی سے کام کرتے ہوئے خون میں صفرا انڈیلتا رہتا ہے۔

غدد (Glands): جسم کے تمام غدود، بشمول غدہ قدامیہ (Prostate) وغیرہ، سوزش اور دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

مثانہ (Bladder): صفرا کی تیزی اور گرمی کی وجہ سے مثانہ میں سوزش اور پیشاب کے دوران شدید جلن پیدا ہوتی ہے۔

امراض کی مکمل فہرست

جب جسم میں گرمی اور خشکی کا غلبہ ہوتا ہے، تو درج ذیل بیماریاں جنم لے سکتی ہیں:

یرقان (Jaundice): صفرا کی زیادتی سے آنکھوں اور پیشاب کی رنگت گہری پیلی ہو جاتی ہے۔

جلدی مسائل: گرمی دانے، چہرے پر پیلے رنگ کی سوزش والی پھنسیاں ۔

نظامِ بول (Urinary System): پیشاب کی نالی میں سوزش، سوزاک (Gonorrhea) اور پیشاب کا قطرہ قطرہ جلن کے ساتھ آنا۔

نظامِ ہضم: جگر کا سائز بڑھ جانا، پیاس کی بہت زیادہ زیادتی مگر بھوک کا ختم ہو جانا، منہ کا ذائقہ کڑوا رہنا اور معدے میں آگ جیسی جلن محسوس ہونا۔

نفسیاتی کیفیات: مریض انتہائی چڑچڑے پن اور شدید غصے کا شکار رہتا ہے، جبکہ صفراوی دباؤ کی وجہ سے بلڈ پریشر بھی بڑھ جاتا ہے۔

تشخیص اور پہچان (Symptomatology)

معالج درج ذیل نشانات سے اس تحریک کی شناخت کرتا ہے:

نبض کی حرکت: اس کی نبض انگلیوں کے نیچے تھوڑا گہرائی میں محسوس ہوتی ہے، مگر یہ بہت قوی، تیز اور چھونے پر گرم محسوس ہوتی ہے۔ اس کی ٹھوکر میں ایک مخصوص لہر (Wave) کا احساس ہوتا ہے۔

قارورہ (پیشاب): پیشاب کی رنگت گہری زرد (Deep Yellow) یا سرخی مائل ہوتی ہے۔ یہ مقدار میں بہت کم آتا ہے اور مریض کو شدید جلن کا احساس دلاتا ہے۔

زبان کا مشاہدہ: زبان کی رنگت زرد سرخی مائل ہوتی ہے یا اس پرہلکی   زرد تہہ جمی ہوتی ہے۔ زبان کے درمیان میں اکثر دراڑیں (Fissures) نظر آتی ہیں جو خشکی کی علامت ہیں۔

جسمانی کیفیت: ایسے مریض کو پسینہ بہت زیادہ آتا ہے جس میں ایک مخصوص بو ہوتی ہے۔ وہ ہر وقت ٹھنڈی جگہ، ٹھنڈے پانی اور پنکھے یا اے سی کی خواہش کرتا ہے۔

پیدا ہونے کی وجوہات

غذائی اسباب: گرم خشک اشیاء کا بے دریغ استعمال، جیسے انڈے، تیز مرچ مصالحے، تلی ہوئی چیزیں، کریلے، میتھی اور بڑے گوشت کا کثرت سے استعمال۔

ماحول و عادات: سخت دھوپ میں زیادہ دیر کام کرنا، بھٹیوں کے قریب رہنا، یا چائے، کافی اور سگریٹ نوشی کی زیادتی جو جگر کو مسلسل تحریک میں رکھتی ہے۔

نفسیاتی اثرات: حسد، ہر وقت کا ذہنی ہیجان اور غصے کی کیفیت جسم میں صفراوی مادہ بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔

تشخیص

طبی لحاظ سے اسے صفراوی مزاج کی وہ بگڑی ہوئی صورت کہا جاتا ہے جہاں گرمی اور خشکی مل کر جسم کی ضروری رطوبات کو جلا دیتی ہیں۔ اس تحریک کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں صفرا خون میں صحیح طرح جذب ہونے کے بجائے اعضاء میں رک کر نقصان پہنچانے لگتا ہے۔ اس کا علاج جگر کی تیزی کو کم کر کے رطوبات پیدا کرنے والی (غدی اعصابی اور اعصابی غدی) غذاؤں سے کیا جاتا ہے۔

5۔ غدی اعصابی

غدی اعصابی تحریک، جسے عام فہم زبان میں “گرم تر” مزاج بھی کہا جاتا ہے، طبِ پاکستانی (قانون مفرد اعضاء) میں جگر کی مشینی تحریک مانی جاتی ہے۔ یہ وہ خاص حالت ہے جہاں جسم میں حرارت (صفرا) کے ساتھ ساتھ رطوبت (تری) کا توازن پیدا ہونا شروع ہوتا ہے اور جسم سے فاسد مادوں کا اخراج ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے “صحت کی تحریک” بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ جسم کی اندرونی صفائی کا عمل شروع کرتی ہے۔

تحریک کا سائنسی جائزہ

اس تحریک کے دوران جگر اور غدد (Glands) میں مشینی عمل تیز ہوتا ہے۔ خون میں مادہ صفرا پیدا تو ہوتا ہے، لیکن وہ جسم میں رکنے کے بجائے خارج ہونا شروع کر دیتا ہے۔ یہ حالت جسم سے خشکی کو ختم کر کے اعضاء میں لچک اور تری پیدا کرتی ہے، جس سے مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

متاثرہ اعضاء اور ان کی کارکردگی

جگر (Liver): یہ اس تحریک کا فعال مرکز ہے۔ یہاں صفرا کی صفائی کا عمل ہوتا ہے اور زہریلے مادے جسم سے باہر نکالنے کی تیاری ہوتی ہے۔

غدد (Glands): پورے جسم کے غدود میں رطوبت پیدا ہونے سے خشکی کا خاتمہ ہوتا ہے اور اعضاء اپنا کام سہولت سے کرنے لگتے ہیں۔

مثانہ (Bladder): پیشاب کی نالیوں میں تری بڑھنے سے پرانی سوزش اور جلن میں کمی واقع ہوتی ہے۔

دماغ و اعصاب: اس تحریک کے اثر سے اعصابی نظام کو تقویت ملتی ہے، جس سے یادداشت بہتر ہوتی ہے اور ذہنی تناؤ کم ہوتا ہے۔

اخراجی علامات اور امراض

غدی اعصابی تحریک میں وہ علامات زیادہ ظاہر ہوتی ہیں جو صفرا کے اخراج یا رطوبات کے بڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں:

نظامِ بول: پیشاب کی رکاوٹ ختم ہو جاتی ہے اور رنگ پیلا سفیدی مائل ہوتا ہے۔

مردانہ امراض: رطوبت کی زیادتی اور پٹھوں کی تسکین کی وجہ سے سرعتِ انزال (وقت کی کمی) کی شکایت ہو سکتی ہے۔

تشخیص اور پہچان (Symptomatology)

ایک طبیب اس مزاج کی شناخت درج ذیل نشانیوں سے کرتا ہے:

نبض کی کیفیت: اس کی نبض چوڑی، نرم اور گہرائی میں محسوس ہوتی ہے۔ جب انگلیوں سے دبایا جائے تو یہ آسانی سے دب جاتی ہے، جس میں ایک خاص قسم کی ملائمت اور رطوبت کا احساس ہوتا ہے۔

قارورہ (پیشاب): پیشاب رنگت میں زرد سفیدی ہوتا ہے۔ یہ مقدار میں معتدل آتا ہے اور اس میں جلن بالکل نہیں ہوتی، جو کہ صحت کی طرف واپسی کی علامت ہے۔

زبان کا مشاہدہ: زبان کی رنگت بالکل صاف ہوتی ہے یا اس پر ہلکی سی سفید تہہ نظر آتی ہے، جو جسم میں تری کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔

جسمانی حالت: مریض کو نیند زیادہ آتی ہے، طبیعت میں ایک قسم کی نرمی اور سستی محسوس ہوتی ہے اور وہ خود کو پرسکون محسوس کرتا ہے۔

پیدا ہونے کی وجوہات

غذائی اسباب: گرم تر اشیاء کا کثرت سے استعمال، جیسے آم، خربوزہ، دیسی گھی، بکرے کا گوشت، ادرک اور میٹھی چیزیں۔

ماحولیاتی اثرات: گرم اور مرطوب (حبس والے) موسم میں زیادہ دیر قیام کرنا۔

طبیعی سبب: اکثر یہ تحریک غدی عضلاتی (گرمی خشکی) کے علاج کے دوران پیدا ہوتی ہے جب معالج تری پیدا کرنے والی ادویات دیتا ہے۔

نفسیاتی اثرات: ذہنی سکون، خوشی اور زندگی میں توازن اس تحریک کو تقویت دیتے ہیں۔

تشخیص

طبِ یونانی میں اسے “دموی مزاج” (Sanguine) کے قریب تر سمجھا جاتا ہے، جہاں حرارت اور تری کا بہترین توازن ہوتا ہے۔ غدی عضلاتی (گرمی خشکی) کے برعکس، یہاں جسم کی سوزش ختم ہو کر فاسد مادوں کا اخراج شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ اس تحریک میں پیاس کم لگتی ہے اور جسم میں خشکی کے بجائے چکناہٹ اور تری کا احساس غالب ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد جسم سے سوداوی اور صفراوی زہروں کو دھو کر نکالنا ہوتا ہے تاکہ صحت بحال ہو سکے۔

6۔ اعصابی غدی

اعصابی غدی تحریک، جسے ہم “تر گرم” مزاج کے نام سے جانتے ہیں، طبِ پاکستانی (قانون مفرد اعضاء) میں اعصاب کی کیمیاوی تحریک کی ایک اہم علامت ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں جسم میں رطوبت یا بلغم کی پیدائش اپنے عروج پر ہوتی ہے اور یہ مادہ پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ جسم میں ذخیرہ بھی ہو رہا ہوتا ہے۔ ذیل میں اس تحریک کی ایک منظم اور علمی تفصیل پیش ہے:

اعصابی غدی تحریک: ایک جائزہ

اس تحریک کے دوران دماغ اور اعصابی نظام (Nervous System) میں کیمیاوی عمل تیزی سے جاری ہوتا ہے، جبکہ دوسری طرف جگر اور غدد (Glands) میں تحلیل یا پگھلاؤ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں خون میں مادہ بلغم کثرت سے پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کا مرکز دماغ ہے، لیکن اس کا سب سے واضح اثر مثانے پر پڑتا ہے، جہاں سے رطوبات کا اخراج بہت تیزی سے ہونے لگتا ہے۔

متاثرہ اعضاء اور ان کی کیفیت

دماغ و اعصاب: یہ اس تحریک کا اصل مرکز ہیں، جہاں رطوبات کی زیادتی کی وجہ سے اعصابی تناؤ ختم ہو جاتا ہے اور جسم میں ایک قسم کا سکون یا سستی پیدا ہوتی ہے۔

مثانہ (Bladder): یہ رطوبات کے اخراج کا بڑا راستہ بن جاتا ہے، جس کی وجہ سے پیشاب کی کثرت ہو جاتی ہے۔

غدد (Glands): جگر اور غدد میں رطوبت جذب ہونے سے ان کی سختی اور سوزش ختم ہونے لگتی ہے اور وہ نرم ہو جاتے ہیں۔

آنکھیں: رطوبت کی زیادتی کی وجہ سے اکثر آنکھوں میں پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور آنکھیں نم رہتی ہیں۔

پیدا ہونے والے امراض کی فہرست

اعصابی غدی تحریک میں رطوبات کی زیادتی اور ان کے غیر معمولی اخراج سے درج ذیل مسائل جنم لے سکتے ہیں:

نظامِ بول اور ہضم: مریض کو پیشاب کا بار بار آنا، بغیر شکر والی شوگر (Diabetes Insipidus) اور پیشاب کا خود بخود نکل جانا (سلس البول) جیسی شکایات ہوتی ہیں۔ نظامِ ہضم میں سوتے وقت رال کا بہنا، بغیر مروڑ کے پتلے دست آنا اور معدے میں رطوبت بڑھنے سے بھوک کا بالکل ختم ہو جانا شامل ہے۔

سانس اور نسوانی امراض: دائمی نزلہ زکام، سینے میں رطوبت کا بھر جانا اور بلغم کا زیادہ اخراج اس تحریک کی خاص نشانیاں ہیں۔ خواتین میں سفید رطوبت والا لیکوریا (سیلان الرحم) اور حیض کی زیادتی (کثرتِ طمث) کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

دیگر جسمانی علامات: جسم میں گوشت کی زیادتی والا موٹاپا، جسم کے مختلف حصوں پر نرم سوجن (Edema) اور خون کی کمی (Anemia) بھی اس تحریک میں دیکھنے کو ملتی ہے۔

علامات اور پہچان (Symptomatology)

ایک ماہر طبیب مریض کی درج ذیل نشانیوں سے اس مزاج کی پہچان کرتا ہے:

نبض: اس کی نبض چوڑی (عریض)، نرم اور سست ہوتی ہے۔ یہ انگلیوں پر بہت گہرائی میں محسوس ہوتی ہے اور اس کی حرکت پانی کی دھیمی لہر کی طرح محسوس ہوتی ہے۔

قارورہ (پیشاب): پیشاب کی رنگت سفید زردی مائل ہوتی ہے اور یہ مقدار میں بہت زیادہ آتا ہے۔

زبان: زبان موٹی اور گیلی ہوتی ہے جس پر زرد رنگ کی ایک تہہ جمی ہوتی ہے۔ مریض کو اپنا ذائقہ پھیکا محسوس ہوتا ہے۔

جسمانی کیفیت: مریض کا جسم نرم اور تھلتھلا ہوتا ہے۔ اس پر ہر وقت سستی، کاہلی اور نیند کا غلبہ رہتا ہے، جبکہ بلڈ پریشر اکثر کم (Low BP) رہتا ہے۔

اس تحریک کے اسباب

اس تحریک کے پیچھے اکثر تر گرم اشیاء کا کثرت سے استعمال ہوتا ہے، جیسے دودھ، دلیہ، کیلا، گاجر کا حلوہ اور ضرورت سے زیادہ پانی پینا۔ ماحولیاتی طور پر بہت ٹھنڈے اور مرطوب کمروں میں رہنا یا اے سی کا بے تحاشا استعمال بھی اس کا باعث بنتا ہے۔ نفسیاتی طور پر بہت زیادہ آرام طلبی اور ذہنی مشقت سے دوری اس کیفیت کو بڑھا دیتی ہے۔ طبی لحاظ سے یہ تحریک اکثر “گرم تر” (غدی اعصابی) علاج کے نتیجے میں پیدا کی جاتی ہے تاکہ جسم کی حدت کو تری سے بدلا جا سکے۔

مماثلت و تفریق (Differential Diagnosis)

طبِ یونانی میں اسے “بلغمی مزاج” کے زمرے میں رکھا جاتا ہے جہاں تری اور گرمی کا امتزاج ہوتا ہے۔ اعصابی غدی تحریک کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جسم میں درد نہیں ہوتا، بلکہ صرف نرم سوجن اور کمزوری کا احساس ہوتا ہے۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد جسم سے خشکی اور گرمی کے زہریلے اثرات کو رطوبات کے ذریعے دھو کر باہر نکالنا ہوتا ہے۔ اس کا علاج جسم میں خشکی پیدا کرنے والی (عضلاتی) غذاؤں اور تدابیر سے کیا جاتا ہے۔

Important Note

اعلان دستبرداری
اس مضمون کے مندرجات کا مقصد عام صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے ، لہذا اسے آپ کی مخصوص حالت کے لیے مناسب طبی مشورے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس مضمون کا مقصد جڑی بوٹیوں اور کھانوں کے بارے میں تحقیق پر مبنی سائنسی معلومات کو شیئر کرنا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں بیان کردہ کسی بھی تجویز پر عمل کرنے یا اس مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر علاج کے کسی پروٹوکول کو اپنانے سے پہلے ہمیشہ لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ہمیشہ لائسنس یافتہ، تجربہ کار ڈاکٹر اور حکیم سے علاج اور مشورہ لیں۔

Leave Your Comment