Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. طب، دین اور طب نبوی کی حقیقت
طب، دین اور طب نبوی کی حقیقت

طب، دین اور طب نبوی کی حقیقت

  • May 11, 2026
  • 0 Likes
  • 22 Views
  • 0 Comments

طب، دین اور طب نبوی کی حقیقت

Hakeem Syed Abdulwahab Shah Sherazi

حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ شیرازی

آج کے دور میں طب، حکمت اور علاج کے شعبے میں ایک بڑا فکری مغالطہ یہ پیدا ہو گیا ہے کہ ہر طبی بات کو “طبِ نبوی ﷺ” کا نام دے کر پیش کیا جاتا ہے۔ بعض لوگ یوں محسوس کراتے ہیں جیسے ہر بیماری کا مکمل علاج براہِ راست قرآن و حدیث میں موجود ہے اور گویا ایک مستقل “اسلامی میڈیکل سائنس” پہلے سے تیار حالت میں موجود ہے۔ حالانکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دین اور طبی علم دونوں کو ان کی اصل حیثیت میں سمجھا جائے، تاکہ نہ دین کو نقصان پہنچے اور نہ علم کو۔

طب بنیادی طور پر ایک تجرباتی اور مادی علم ہے

طب یا حکمت بنیادی طور پر ایک مادی علم ہے جس کی بنیاد انسانی مشاہدات، تجربات اور مسلسل تحقیق پر ہے۔ یہ کوئی ایسا علم نہیں ہے جو وحی کے ذریعے کسی ضابطے کی شکل میں نازل ہوا ہو، بلکہ یہ صدیوں پر محیط انسانی عقل اور محنت کا نچوڑ ہے۔ جیسے فزکس، کیمسٹری یا انجینئرنگ کے اپنے کچھ مادی قوانین ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح طب کے بھی اپنے اصول ہیں جنہیں ہم طبی علم  کے تحت مطالعہ کرتے ہیں۔ دنیا کے تمام طبی نظام، چاہے یونانی طب ہو، آیوروید ہو یا جدید میڈیکل سائنس، سب انسانی تجربات، مشاہدات اور تدریجی تحقیق سے وجود میں آئے ہیں۔ ہر طبی نظریہ وقت کے ساتھ بدل بھی سکتا ہے، بہتر بھی ہو سکتا ہے اور بعض اوقات غلط بھی ثابت ہو جاتا ہے۔ یہی ہر سائنسی علم کی فطرت ہے۔لیکن دین اٹل حقیقت ہوتی ہے جو کبھی بدل نہیں سکتا۔

اگر کوئی حکیم یا ڈاکٹر کسی جڑی بوٹی، غذا یا دوا کے فوائد بیان کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے تجربے، تحقیق اور مشاہدے کی بنیاد پر بات کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ بات ہر انسان کے لیے، ہر زمانے میں اور ہر حالت میں یکساں درست ہو۔ اسی لیے طب میں “مزاج”، “جسمانی کیفیت”، “خوراک”، “عمر”، “ماحول”، “موسم” اور “بیماری کی نوعیت” کو دیکھا جاتا ہے۔ ایک چیز ایک شخص کے لیے مفید ہو سکتی ہے جبکہ دوسرے کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

کیا “طبِ نبوی” ایک مستقل طبی نظام ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں کہیں بھی “طبِ نبوی” کے نام سے کوئی مستقل علم، باقاعدہ طبی نظام یا میڈیکل سائنس موجود نہیں۔ یہ اصطلاح بعد کے ادوار میں بعض علماء اور مصنفین نے استعمال کی۔ نبی کریم ﷺ نے نہ کوئی باقاعدہ طبی نصاب پڑھایا، نہ علمِ طب کے اصول مرتب کیے، نہ انسانی جسم کی تشریح، بیماریوں کی درجہ بندی، ادویات کے قواعد یا علاج کے سائنسی اصول بیان فرمائے، جیسا کہ کسی مستقل علم میں ہوتا ہے۔ جیسے ہم “فزکسِ نبوی”، “کیمسٹریِ نبوی” یا “انجینئرنگِ نبوی” کی اصطلاح استعمال نہیں کرتے، اسی طرح طب بھی ایک دنیاوی اور تجرباتی علم ہے۔ نبی کریم ﷺ دنیا میں طبیب یا سائنس دان بن کر نہیں آئے تھے بلکہ آپ ﷺ کی بعثت کا اصل مقصد انسانوں کو ہدایت دینا، توحید سکھانا، حلال و حرام واضح کرنا اور اخلاق و روحانیت کی اصلاح کرنا تھا۔

نبی کریم ﷺ کی غذائیں اور طرزِ زندگی

اس حقیقت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ نبی کریم ﷺ کی غذائیں یا طرزِ زندگی غیر مفید تھے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کے لیے جو طرزِ زندگی پسند فرماتا ہے وہ فطرت کے زیادہ قریب، سادہ، پاکیزہ اور متوازن ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے کھجور، شہد، جو، زیتون، دودھ اور دیگر سادہ غذائیں استعمال فرمائیں۔ یہ سب عمدہ اور مفید غذائیں ہیں۔ لیکن ان کا فائدہ بھی انسان کی حالت، مقدار، مزاج اور استعمال کے طریقے پر منحصر ہوتا ہے۔

مثلاً قرآن مجید میں شہد کے بارے میں فرمایا گیا: “اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔”

لیکن قرآن نے یہ نہیں بتایا کہ: کون سی بیماری میں؟  کتنی مقدار میں؟  کس مزاج والے شخص کو؟  کتنے دن تک؟  کس طریقے سے؟  یہ تمام تفصیلات طبی علم، تجربے اور معالج کی مہارت سے معلوم ہوتی ہیں۔ اسی طرح کلونجی، کھجور یا دیگر اشیاء کے بارے میں بھی عمومی فضیلت یا نفع کا ذکر ملتا ہے، مگر ان کی طبی تطبیق ایک الگ علمی موضوع ہے۔

طب نبوی
طب نبوی

اگر “طبِ نبوی” مطلق اور قطعی ہوتی تو اختلاف کیوں ہوتا؟

آج “طب نبوی” کے نام پر کام کرنے والے لوگ بھی عملاً یہی کرتے ہیں کہ مریض کی حالت، مزاج، بیماری اور تجربات کی بنیاد پر علاج تجویز کرتے ہیں۔ وہ بھی یہ نہیں کہتے کہ: شہد ہر شخص کو ہر حال میں فائدہ دے گا ، کلونجی ہر بیماری کا یقینی علاج ہے ، کھجور ہر مریض کے لیے یکساں مفید ہے ۔ بلکہ وہ بھی طبی اصول، مشاہدہ، تجربہ اور انسانی جسم کی کیفیت کو سامنے رکھتے ہیں۔ اسی سے واضح ہوتا ہے کہ اصل بنیاد طبی علم ہی ہے، نہ کہ محض کسی چیز کو “نبوی” کہہ دینا۔

دین کی طرف غیر قطعی طبی چیزیں منسوب کرنے کا نقصان

جب کسی غیر یقینی یا تجرباتی علاج کو براہِ راست دین اور نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو اس سے ایک خطرناک مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

اگر کسی مریض کو اس علاج سے فائدہ نہ ہو بلکہ نقصان ہو جائے تو وہ یہ سوچ سکتا ہے کہ: “قرآن کی بات درست کیوں ثابت نہ ہوئی؟حدیث میں شفا تھی پھر فائدہ کیوں نہ ہوا؟”  حالانکہ اصل مسئلہ دین میں نہیں بلکہ انسانی فہم، غلط تطبیق یا طبی اندازے میں ہوتا ہے۔ اسی لیے بہت احتیاط ضروری ہے کہ انسانی تجربات اور طبی آراء کو وحی کا درجہ نہ دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: سنگھاڑا

یہ بھی پڑھیں: سنگ یہود

یہ بھی پڑھیں: طب پاکستانی میں 6 تحریکوں کی علامات

بہت سی مشہور “طبی احادیث” دراصل ثابت ہی نہیں

افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ طب کے نام پر بہت سی ضعیف، من گھڑت یا غیر ثابت روایات مشہور کر دی گئی ہیں۔ بعض لوگ ہر پھل، ہر جڑی بوٹی اور ہر دیسی نسخے کو حدیث سے جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ اس کی کوئی معتبر اصل نہیں ہوتی۔ یہ طرزِ عمل علمی دیانت کے خلاف بھی ہے اور دین کے ساتھ زیادتی بھی۔ اسلام سچائی، تحقیق اور امانت داری کا دین ہے۔ اس لیے کسی طبی نسخے کو صرف اس لیے “نبوی” کہنا کہ اس سے لوگوں پر اثر زیادہ ہوگا، درست رویہ نہیں۔

حدیثِ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور دنیاوی علوم کا اصول

اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ایک نہایت اہم حدیث موجود ہے۔ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لوگوں کو کھجوروں کی پیوند کاری کرتے دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ شاید اگر تم یہ نہ کرو تو بہتر ہو۔ صحابہ کرام نے اسے حکم سمجھ کر پیوند کاری چھوڑ دی، نتیجتاً فصل خراب ہو گئی۔ جب آپ ﷺ کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: “میں بھی ایک انسان ہوں۔ جب میں تمہیں دین کے بارے میں حکم دوں تو اسے لے لو، اور جب اپنی رائے سے دنیاوی معاملات میں کوئی بات کہوں تو میں ایک انسان ہوں۔” اور ایک روایت میں فرمایا: “تم اپنے دنیاوی معاملات کو مجھ سے بہتر جانتے ہو۔”(مسلم) یہ حدیث ایک عظیم اصول بیان کرتی ہے کہ زراعت، صنعت، طب، ٹیکنالوجی اور دیگر دنیاوی علوم تجربات اور مہارت پر قائم ہوتے ہیں۔

دین اور طب دونوں کو اپنی اصل جگہ پر رکھنا چاہیے

اسلام ہمیں صفائی، اعتدال، پاکیزہ غذا، حلال خوراک اور متوازن زندگی سکھاتا ہے۔ یہ سب چیزیں صحت کے لیے بے حد مفید ہیں۔ لیکن بیماریوں کی تشخیص، ادویات کی تیاری، علاج کے طریقے اور طبی اصول ایک الگ علمی میدان ہیں، جنہیں اہلِ فن پر چھوڑنا چاہیے۔ اسی میں دین کی عزت بھی ہے اور علم کی حفاظت بھی۔ اگر ہم ہر طبی تجربے کو دین بنا دیں گے تو غلطیوں کا بوجھ بھی دین پر آ جائے گا، حالانکہ طب میں غلطی، اختلاف اور تبدیلی ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ اس لیے زیادہ درست اور محتاط بات یہ ہے کہ: نبی کریم ﷺ کی پسندیدہ غذاؤں کو “فطری، پاکیزہ اور مفید غذائیں” کہا جائے ، مگر ہر طبی دعوے کو “وحی” یا “قطعی علاج” بنا کر پیش نہ کیا جائے ، طب کو طب رہنے دیا جائے ، اور دین کو دین رہنے دیا جائے ، اسی اعتدال میں علم بھی محفوظ ہے اور ایمان بھی۔

Important Note

اعلان دستبرداری
اس مضمون کے مندرجات کا مقصد عام صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے ، لہذا اسے آپ کی مخصوص حالت کے لیے مناسب طبی مشورے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس مضمون کا مقصد جڑی بوٹیوں اور کھانوں کے بارے میں تحقیق پر مبنی سائنسی معلومات کو شیئر کرنا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں بیان کردہ کسی بھی تجویز پر عمل کرنے یا اس مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر علاج کے کسی پروٹوکول کو اپنانے سے پہلے ہمیشہ لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ہمیشہ لائسنس یافتہ، تجربہ کار ڈاکٹر اور حکیم سے علاج اور مشورہ لیں۔

Leave Your Comment