حب نخودی
- June 22, 2026
- 0 Likes
- 1 View
- 0 Comments
لفظ حب (جس کی جمع ‘حبوب’ ہے) عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا بنیادی اور لغوی معنی دانہ یا بیج ہوتا ہے۔ دوا سازی اور طب کی اصطلاح میں اس سے مراد گولی (Tablet/Pill) ہوتی ہے۔ پرانے زمانے میں جب جڑی بوٹیوں کو پیس کر، ان میں کوئی لعاب یا شہد وغیرہ ملا کر ہاتھ سے گول دانے بنائے جاتے تھے، تو ان کی شکل بالکل کسی قدرتی بیج یا دانے جیسی ہوتی تھی، اسی لیے طبی ماہرین نے اسے “حب” کا نام دیا۔ آج کے دور میں ہم جسے عام زبان میں گولی کہتے ہیں، اسے ہی روایتی اصطلاح میں حب کہا جاتا ہے، اور اس کا سائز مختلف چیزوں کے دانوں سے تشبیہ دے کر طے کیا جاتا ہے،
لفظ “نخودی” دراصل لفظ نخود سے نکلا ہے، جو فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب چھوٹا چنا یا حمص ہوتا ہے۔
جب ہم دوا سازی یا طب کی اصطلاح میں “حب نخودی” کہتے ہیں، تو اس کا سیدھا اور سادہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایسی گولی جس کا حجم یا سائز چنے کے دانے کے برابر ہو۔
پرانے وقتوں میں جب تولنے کے جدید ترازو یا ملی گرام کے پیمانے عام نہیں تھے، تو طبیب حضرات گولیوں کے سائز کو واضح کرنے کے لیے مختلف چیزوں سے تشبیہ دیا کرتے تھے۔ اسی مناسبت سے گولیوں کے مختلف سائز مقرر تھے، جیسے:
حب رائی: رائی کے دانے کے برابر چھوٹی گولی۔
حب فلفلی: کالی مرچ کے دانے کے برابر گولی۔
حب نخودی: چنے کے دانے کے برابر گولی۔
حب کبیر: بیر کے برابر بڑی گولی۔
خلاصہ یہ کہ “حب نخودی” کسی مخصوص دوا کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ گولی کے ایک خاص سائز کو ظاہر کرتا ہے جو کہ چنے کے برابر ہوتی ہے۔

