
سنگ یہود
نام :
عربی میں حجر الیہود۔ سندھی میں یہود دانہ۔فارسی میں سنگ یہود۔ اور ہندی میں بیر پتھر اور संगे यहूद کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Lapis Judaicus / Jewish Stone
Scientific name: Balanocidaris glandifera
Family: Cidaridae / Belemnitidae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مدر بول، مفتت حصات، مخرج پتھری، دافع درد گردہ | شام، بیروت | ترگرم درجہ دوم | اعصابی غدی | پتھری |
تعارف:
سنگِ یہود ایک معدنی و فوسلی پتھر ہے جو عموماً لمبوترا، مخروطی یا کیل نما شکل میں پایا جاتا ہے۔ اس کا رنگ سفید، سرمئی، زردی مائل یا خاکی ہو سکتا ہے۔ بعض ٹکڑے ہموار جبکہ بعض کھردرے ہوتے ہیں۔ یہ نسبتاً ہلکا لیکن سخت پتھر ہوتا ہے اور توڑنے پر اندر سے چونے جیسی ساخت ظاہر ہوتی ہے۔ پرانے زمانے میں اس کی شکل کیل یا تیر کی نوک سے مشابہ ہونے کی وجہ سے اسے خاص شناخت حاصل تھی۔
سنگ یہود دراصل ایک قدیم حیاتیاتی فوسل (Fossil) ہے۔ یہ کوئی عام پتھر نہیں ہے بلکہ کروڑوں سال پہلے سمندروں میں پائے جانے والے ایک خاص جاندار ‘سی ارچن’ (Sea Urchin) کی ریڑھ کی ہڈی یا کانٹے کا وہ حصہ ہے جو وقت کے ساتھ پتھر کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: طب پاکستانی میں 6 تحریکوں کی علامات
یہ بھی پڑھیں: سنگ سرماہی
یہ بھی پڑھیں: سنگ دانہ مرغ

کیمیاوی و غذائی اجزا:
کیلشیم کاربونیٹ (Calcium Carbonate) کیلشیم آکسائیڈ (Calcium Oxide)
میگنیشیم آکسائیڈ (Magnesium Oxide) سلیکا / سلیکان آکسائیڈ (Silica / Silicon Oxide)
فیریک آکسائیڈ (Ferric Oxide) ایلومینیم آکسائیڈ (Aluminium Oxide) اسٹرونشیئم (Strontium)
معدنی عناصر
کیلشیم (Calcium) میگنیشیم (Magnesium) سلیکان (Silicon) آئرن (Iron)
پوٹاشیم (Potassium) سلفر (Sulphur) ایلومینیم (Aluminium)
قلیل مقدار میں پائے جانے والے عناصر
فاسفورس (Phosphorus) سوڈیم (Sodium) کلورین (Chlorine) ٹائٹینیم (Titanium)
کرومیم (Chromium) کاپر (Copper) مینگنیز (Manganese) نکل (Nickel) پیلیڈیم (Palladium)
سیریم (Cerium) روتھینیم (Ruthenium) انڈیم (Indium) بسمتھ (Bismuth)

اثرات:
سنگ یہود اعصابی میں تحریک، غدد میں تحلیل اور عضلات میں تسکین پیدا کرتا ہے۔ کیمیاوی طور پر خون میں کھار کے اثرات بڑھاتا ہے، اور رطوبات و بلغم میں اضافہ کرتا ہے۔ مدر بول، مفتت حصات، مخرج پتھری، دافع درد گردہ اثرات کا حامل ہے۔
خواص و فوائد:
سنگ یہود مدر بول ہونے کی وجہ سے بندش پیشاب، یا پیشاب قطرہ قطرہ آنا میں مفید ہے۔ گردہ و مثانہ کی پتھریوں کو نکال دیتا ہے، پتھری کو پیدا ہونے نہیں دیتا، تحجر مفاصل کے مریضون کے لیے مفید ہے۔ گردہ کے درد کو نافع ہے۔ سنگ یہود کوگوکھرو کے پانی میں کم ازکم دس دن تک چھ چھ گھنٹے کھرل کریں ۔جب میدہ کی طرح باریک ہوجائے تو کلتھی کے جوشاندہ یا شربت بزوری کے ساتھ ایک سے ڈیڈھ گرام استعمال کرنے سے گردہ و مثانہ کی پتھری کو توڑ کرنکالتاہے۔اس طرح استعمال سے دوبارہ پتھری پیدانہیں ہوتی ۔ ایک پاؤ سنگ یہود لے کر باریک پیس لیں ۔پھر مولی کے پانی دوسیرمیں (کلو) میں کھرل کرکے خشک کریں یہ ایک گرام سے دو گرام پتھری کیلئے اکسیر ہے۔اس کا کشتہ بناکربھی اسی غرض کیلئے کھلایاجاتاہے۔
آج کے جدید دور میں بھی دنیا کے مختلف حصوں میں ان کا طبی استعمال رائج ہے۔ مثال کے طور پر ترکی میں انہیں پیشاب کی نالی کے انفیکشن کے لیے، اسپین میں بخار اتارنے کے لیے، جبکہ برازیل جیسے ممالک میں دمہ اور کمر کے درد سے نجات پانے کے لیے روایتی طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
جدید سائنسی تحقیقات:
چند تجرباتی مطالعات میں بتایا گیا کہ سنگِ یہود میں موجود کیلشیائی اور معدنی اجزا پیشاب آور اثرات پیدا کرسکتے ہیں اور پیشاب کی نالی میں معدنی جمع کو کم کرنے میں معاون ہوسکتے ہیں۔جدید تحقیقات میں اس کی lithotriptic activity یعنی پتھری کو نرم یا چھوٹے ذرات میں تقسیم کرنے کی صلاحیت پر گفتگو کی گئی ہے۔
چونکہ یہ ایک زندہ جاندار (Sea Urchin) کا فوسل ہے، اس لیے اس کے اندرونی ڈھانچے میں نامیاتی میٹرکس (Organic Matrix) کے باقیات پائے جاتے ہیں۔ یہ پروٹینز اور امینو ایسڈز کے وہ مالیکیولز ہیں جو لاکھوں سال پہلے اس جاندار کے کانٹے بنانے میں استعمال ہوئے تھے۔ جدید بائیو منرلائزیشن کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ یہ نامیاتی اجزاء ہی کیلشیم کے کرسٹلز کو مخصوص ترتیب دیتے ہیں۔
حوالہ جات:
| https://www.researchgate.net/publication/367190638_HAJR_AL-YAHUD_JUDAS_STONE_MINERAL_ORIGIN_DRUG_OF_UNANI_MEDICINE-A_REVIEW | ریسرچ گیٹ |
| https://acpfood.com/product/bulk-lapis-judaicus-for-export | |
https://www.researchgate.net/publication/240533616_Fish_Otoliths_and_Folklore_A_Survey |

مقدار خوراک:
ایک ماشہ



Leave Your Comment