Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. سناء مکی
سناء مکی

سناء مکی

  • April 6, 2026
  • 0 Likes
  • 15 Views
  • 0 Comments

سناء مکی

نام :

عربی فارسی میں سنا مکی۔ بنگالی میں سونا مکی  اور ہندی میں सुनामखीکہتے ہیں۔

Hakeem Syed Abdulwahab Shah Sherazi

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)

نام انگلش:

Name: Alexandrian Senna

Scientific name: Cassia angustifolia

Family: Fabaceae

تاثیری نام:
مقام پیدائش:
مزاج  طب یونانی:
مزاج  طب پاکستانی:
نفع خاص:
قاطع سوداء مخرج غلیظ رطوبات، قاتل کرم شکم، مسکن دردمکہ، حجاز، ہند و پاکگرم ترغدی اعصابیجگر کے لیے مفید ہے۔

سناء مکی Alexandrian Senna Cassia angustifolia सुनामखी
سناء مکی Alexandrian Senna Cassia angustifolia सुनामखी

تعارف:

سناء مکی ایک چھوٹا اور خوبصورت خود رو پودا ہے جو زیادہ تر گرم اور خشک علاقوں جیسے سعودی عرب (بوجہ مکہ مکرمہ اسے سناء مکی کہا جاتا ہے)، پاکستان اور بھارت میں پایا جاتا ہے۔ یہ جڑی بوٹی اسلامی طب میں ایک خاص مقام رکھتی ہے، کیونکہ احادیثِ مبارکہ میں اس کے شفابخش اثرات کی تعریف کی گئی ہے۔ اسے تمام جڑی بوٹیوں میں ‘مسہل’ (جلاب لانے والی) ادویات کا سردار مانا جاتا ہے۔

یہ ایک جھاڑی نما پودا ہے جس کی بلندی عام طور پر دو سے تین فٹ تک ہوتی ہے۔ اس کا تنا پتلا اور سیدھا ہوتا ہے جس سے شاخیں نکلتی ہیں۔ اس کے پتے چھوٹے، لمبوترے اور نوکدار ہوتے ہیں، جن کی شکل کسی حد تک مہندی کے پتوں سے ملتی جلتی ہے لیکن یہ ان سے تھوڑے چوڑے ہوتے ہیں۔ ان پتوں کا رنگ ہلکا سبز مائل بہ زرد ہوتا ہے۔ اس پودے پر پیلے رنگ کے خوبصورت پھول لگتے ہیں جو ٹہنیوں کے اوپری حصوں پر گچھوں کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔ جب یہ پھول جھڑ جاتے ہیں تو ان کی جگہ چپٹی اور تھوڑی سی مڑی ہوئی سبز پھلیاں بن جاتی ہیں، جن کے اندر بیج موجود ہوتے ہیں۔ ان پھلیوں کو ‘سناء کی پھلی’ کہا جاتا ہے۔ اگر اس کے پتے کو چکھا جائے تو اس کا ذائقہ شروع میں معمولی میٹھا لیکن بعد میں کافی تلخ اور کڑوا محسوس ہوتا ہے، جبکہ اس کی بو ایک خاص جڑی بوٹی جیسی ہوتی ہے جو کہ ناگوار نہیں ہوتی۔

سناء مکی Alexandrian Senna Cassia angustifolia सुनामखी
سناء مکی Alexandrian Senna Cassia angustifolia सुनामखी

یہ بھی پڑھیں: سن

یہ بھی پڑھیں: سمندر سوکھ

یہ بھی پڑھیں: سمندر جھاگ

سناء مکی Alexandrian Senna Cassia angustifolia सुनामखी

کیمیاوی و غذائی  اجزا:

اینٹھراکینون گلائیکوسائیڈز (Anthraquinone Glycosides)

سینیوسائیڈ A (Sennoside A)   سینیوسائیڈ B (Sennoside B)    سینیوسائیڈ C اور D  رائن (Rhein)

ایلو ایموڈن (Aloe-emodin)      ایموڈن (Emodin)

فلیونوئڈز (Flavonoids)

کوئرسیٹن (Quercetin)   کیمپفیرول (Kaempferol)         آئسورہمنٹن (Isorhamnetin)

ٹیننز (Tannins)

گیلک ایسڈ (Gallic acid) کیٹیچن (Catechin)     

نامیاتی تیزاب (Organic Acids)

مالک ایسڈ (Malic acid)  ٹارٹرک ایسڈ (Tartaric acid)      آکسالک ایسڈ (Oxalic acid)

دیگر بائیو ایکٹو اجزاء

میوسلیج (Mucilage)     ریزنز (Resins)  گلائیکوسائیڈز (Glycosides)

منرلز (Minerals)

کیلشیم (Calcium)         میگنیشیم (Magnesium) پوٹاشیم (Potassium)     سوڈیم (Sodium)

آئرن (Iron)     زنک (Zinc)

 وٹامنز (Vitamins)

وٹامن C (Vitamin C)           وٹامن A (trace مقدار میں)            وٹامن B کمپلیکس (معمولی مقدار)

اہم نوٹ

سناء مکی کی اصل طاقت Sennosides میں ہوتی ہے جو آنتوں کی حرکت کو بڑھاتے ہیں، منرلز اور وٹامنز اس میں ثانوی اور کم مقدار میں ہوتے ہیں، یہ پودا غذائیت کے لیے نہیں بلکہ دوائی (Medicinal herb) کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

سناء مکی Alexandrian Senna Cassia angustifolia सुनामखी

اثرات:

سناء مکی غدد میں تحریک، عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تقویت پیدا کرتی ہے۔ صفراء پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا اخراج بھی کرتی ہے۔ مولد صفراء، قاطع سوداء مخرج غلیظ رطوبات، قاتل کرم شکم، مسکن درد اثرات رکھتی ہے۔

خواص و فوائد:

سناء مکی چونکہ صفراء کی پیدائش کے ساتھ ساتھ اس کا اخراج بھی کرتی ہے اس لیے خون میں صفراء کی زیادتی کی وجہ سے ہونے والی علامات جیسے یرقان وغیرہ میں مفید ہے۔ فاضل صفراوی رطوبات کو بذریعہ دست خارج کرتی ہے۔سناء مکی سردی خشکی اور سوداء کی زیادتی کی وجہ سے ہونے والے ریحی درد جن میں درد کمر، عرق النساء دائیں طرف، اور وجع المفاصل کے لیے بہترین دوا ہے۔ اسی طرح پیٹ میں کدو کیڑوں کو مار کر خارج کرنے کے لیے بھی بہت اعلیٰ ہے۔ سناء مکی نالی دار غدود کو مشینی طور پر تیز کردیتی ہے۔  اس کی ڈنڈیاں بہت زیادہ مروڑ پیدا کرتی ہیں، اگر سناء مکی کے ساتھ گل سرخ، روغن بادام ملٹھی وغیرہ ملا کر دیے جائیں تو اس کے اثرات بھی حاصل ہوتے ہیں اور تکلیف بھی نہیں ہوتی۔طب پاکستانی میں پانچ ملین کا جزو اعظم سناء مکی ہے۔ سناء مکی کا بنیادی کام جسم سے سوداوی مادوں، خشکی کے سدوں اور عضلاتی غدی یا غدی عضلاتی تحریک کے باعث پیدا ہونے والے زہریلے مادوں کو نکالنا ہے۔ یہ جگر میں حرارت پیدا کر کے آنتوں میں رطوبت فراہم کرتی ہے جس سے قبض دور ہوتی ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات:

سناء مکی پر ہونے والی جدید سائنسی اور طبی تحقیقات نے اس کے ان فوائد کی تصدیق کی ہے جو صدیوں سے طبِ قدیم کا حصہ رہے ہیں۔ سائنسی نقطہ نظر سے سناء مکی کا سب سے بڑا فائدہ اس کے فعال اجزا یعنی سینوسائیڈز (Sennosides) میں چھپا ہے جو نظامِ ہاضمہ پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔

قبض کا موثر علاج اور ایف ڈی اے کی منظوری

جدید طب میں سناء مکی کو ایک مستند قبض کشا دوا (Laxative) مانا جاتا ہے۔ امریکہ کے ادارے ایف ڈی اے (FDA) نے اسے بغیر نسخے کے ملنے والی قبض کی دوا کے طور پر منظور کر رکھا ہے۔ سائنسی تحقیقات بتاتی ہیں کہ سناء مکی کے اجزا بڑی آنت کی دیواروں میں ہلکی سی سوزش یا حرکت پیدا کرتے ہیں جس سے آنتوں کا فعل تیز ہو جاتا ہے اور رکا ہوا فضلہ آسانی سے خارج ہو جاتا ہے۔ یہ دائمی قبض کے مریضوں کے لیے قلیل مدتی علاج کے طور پر انتہائی مفید ثابت ہوئی ہے۔

تشخیصی ٹیسٹ اور سرجری سے پہلے آنتوں کی صفائی

طبی میدان میں سناء مکی کا ایک بڑا استعمال کولونوسکوپی (Colonoscopy) یا معدے اور آنتوں کے دیگر تشخیصی ٹیسٹوں سے پہلے کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹرز آنتوں کو مکمل طور پر صاف کرنے کے لیے سناء مکی کے عرق کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ ٹیسٹ کے نتائج واضح آسکیں۔ جدید ریسرچ کے مطابق یہ دیگر کیمیائی مرکبات کے مقابلے میں زیادہ قدرتی اور موثر طریقے سے آنتوں کے فضلے کو صاف کرتی ہے۔

بواسیر اور مقعد کی تکلیف میں ریلیف

سائنسی مطالعے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سناء مکی فضلے کو نرم کر کے اس کے اخراج کو آسان بناتی ہے، جس کی وجہ سے مقعد کے ارد گرد موجود رگوں پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ یہ خاصیت بواسیر (Hemorrhoids) اور مقعد کے زخموں (Anal Fissures) کے مریضوں کے لیے بہت راحت بخش ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس سے پاخانہ کرتے وقت ہونے والی تکلیف اور خون آنے کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔

اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی انفلامیٹری اثرات

حالیہ برسوں میں سناء مکی میں موجود اینتھراکوئینونز (Anthraquinones) پر ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں جراثیم کش خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ لیبارٹری تجربات میں دیکھا گیا ہے کہ اس کا عرق بعض مخصوص بیکٹیریا اور فنگس کی نشوونما کو روکنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس کے سوزش کش اثرات اندرونی ورم کو کم کرنے میں بھی معاون پائے گئے ہیں۔

وزن میں کمی اور ڈیٹاکس

اگرچہ جدید سائنس اسے مستقل طور پر وزن کم کرنے کا ذریعہ نہیں مانتی، لیکن ڈیٹاکس چائے (Detox Teas) میں اس کا استعمال عام ہے۔ تحقیقات کے مطابق یہ جسم سے زائد پانی اور زہریلے مادوں کو خارج کرنے میں مدد دیتی ہے، جس سے وقتی طور پر وزن میں کمی محسوس ہوتی ہے۔ تاہم، ماہرین اسے صرف معالجاتی ضرورت کے تحت استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

طبِ پاکستانی (قانون مفرد اعضاء) کا نکتہ نظر

جدید سائنس کی یہ تمام تحقیقات طبِ پاکستانی (قانون مفرد اعضاء) کے اس اصول کی تائید کرتی ہیں کہ سناء مکی جگر اور غدد کو متحرک کر کے جسم میں رطوبت اور حرارت کا توازن پیدا کرتی ہے۔ جسے جدید طب “آنتوں کی حرکت” کہتی ہے، طبِ پاکستانی میں اسے غدی اعصابی (5 نمبر) تحریک کا فعل مانا جاتا ہے، جو آنتوں میں تری پیدا کر کے خشک اور سوداوی مادوں کو خارج کرنے کا سبب بنتی ہے۔

حفاظتی نوٹ اور جدید انتباہ

سائنسی تحقیقات یہ بھی تنبیہ کرتی ہیں کہ سناء مکی کا مسلسل استعمال (مثلاً دو ہفتے سے زیادہ) نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے آنتیں سست ہو سکتی ہیں اور جسم میں نمکیات (Electrolytes) کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ حاملہ خواتین اور گردوں کے مریضوں کو اسے صرف ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کرنا چاہیے۔

حوالہ جات:

https://www.sciencedirect.com/science/article/abs/pii/S0926669022009554

https://www.ncbi.nlm.nih.gov/books/NBK547922/
https://iris.who.int/server/api/core/bitstreams/6e21eaaa-d157-421d-a136-eb61964de18c/content

مقدار خوراک:

تین سے پانچ گرام

Important Note

اعلان دستبرداری
اس مضمون کے مندرجات کا مقصد عام صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے ، لہذا اسے آپ کی مخصوص حالت کے لیے مناسب طبی مشورے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس مضمون کا مقصد جڑی بوٹیوں اور کھانوں کے بارے میں تحقیق پر مبنی سائنسی معلومات کو شیئر کرنا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں بیان کردہ کسی بھی تجویز پر عمل کرنے یا اس مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر علاج کے کسی پروٹوکول کو اپنانے سے پہلے ہمیشہ لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ہمیشہ لائسنس یافتہ، تجربہ کار ڈاکٹر اور حکیم سے علاج اور مشورہ لیں۔

Leave Your Comment