Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. سرسوں
سرسوں

سرسوں

  • April 9, 2026
  • 0 Likes
  • 18 Views
  • 0 Comments

سرسوں

نام :

عربی میں حرف ابیض۔ خردل ابیض۔ فارسی میں سرشف۔ ہندکو میں سریاں۔ اور ہندی میں सरसों کہتے ہیں۔

Hakeem Syed Abdulwahab Shah Sherazi

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)

نام انگلش:

Name: Field Mustard

Scientific name: Brassica rapa

Family: Brassicaceae

تاثیری نام:
مقام پیدائش:
مزاج  طب یونانی:
مزاج  طب پاکستانی:
نفع خاص:
ہاضم، مولد صفراء، محافظ حرارت غریزی، بیج کاسر ریاح، ساگ مولد ریاح و ملینہند و پاکگرم خشکغدی عضلاتیسوداوی امراض و علامات

سرسوں Field Mustard Brassica rapa सरसों
سرسوں Field Mustard Brassica rapa सरसों

تعارف:

سرسوں  ایک سالانہ پودا ہے جو خصوصاً سردیوں کے موسم میں کاشت کیا جاتا ہے۔ برصغیر میں یہ نہایت اہم زرعی فصل ہے کیونکہ اس کے بیجوں سے تیل نکالا جاتا ہے اور اس کے پتے بطور سبزی “ساگ” کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ پودا اپنی تیز خوشبو، گرم تاثیر اور غذائی و طبی فوائد کی وجہ سے طب یونانی، آیوروید اور دیسی علاج میں صدیوں سے استعمال ہو رہا ہے۔

اس کا تنا سیدھا، نرم اور سبز رنگ کا ہوتا ہے۔ عموماً 1 سے 3 فٹ اونچا ہوتا ہے اور بعض اوقات اس میں شاخیں بھی نکلتی ہیں۔ اس کے پتے بڑے، سبز اور قدرے کھردرے ہوتے ہیں۔ نچلے پتے چوڑے، کٹے ہوئے کناروں کے ساتھ ہوتے ہیں جبکہ اوپر کے پتے نسبتاً چھوٹے اور سادہ ہوتے ہیں۔ پھول نہایت نمایاں، چمکدار پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے گچھوں کی صورت میں لگتے ہیں اور چار پنکھڑیوں پر مشتمل ہوتے ہیں، جو صلیبی شکل بناتے ہیں، جو اس فیملی کی خاص علامت ہے۔پھولوں کے بعد لمبی، باریک پھلیاں بنتی ہیں جنہیں سلیقہ کہا جاتا ہے۔ ان کے اندر بیج محفوظ ہوتے ہیں۔ بیج چھوٹے، گول اور عموماً پیلے یا ہلکے بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔ ان کا ذائقہ تیز اور کسی قدر تلخ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سنکھ

یہ بھی پڑھیں: سنبھالو

یہ بھی پڑھیں: سناء مکی

سرسوں Field Mustard Brassica rapa सरसों

کیمیاوی و غذائی  اجزا:

1. گلوکوسینولیٹس

سائنِگرن (Sinigrin)      گلوکونیپن (Gluconapin)          گلوکوبراسِسِن (Glucobrassicin) پروگوئٹرن (Progoitrin)

2. آئسو تھایوسیانیٹس

الائل آئسو تھایوسیانیٹ (Allyl isothiocyanate)     فین ایتھائل آئسو تھایوسیانیٹ (Phenethyl isothiocyanate)

بیوٹائل آئسو تھایوسیانیٹ (Butyl isothiocyanate)

3. فیٹی ایسڈز

یوروسک ایسڈ (Erucic acid)       اولیک ایسڈ (Oleic acid)  لینولک ایسڈ (Linoleic acid)

الفا لینولینک ایسڈ (Alpha-linolenic acid) پامٹک ایسڈ (Palmitic acid)       اسٹیئرک ایسڈ (Stearic acid)

4. فینولک مرکبات

فلیونوئڈز (Flavonoids) فیرولک ایسڈ (Ferulic acid)       کیفیک ایسڈ (Caffeic acid)

سائنپک ایسڈ (Sinapic acid)

5. سلفر مرکبات

آرگینو سلفر مرکبات (Organosulfur compounds)       تھیو سائنٹس (Thiocyanates)

6. دیگر اہم اجزاء

پروٹینز (Proteins)        غذائی ریشہ (Dietary fiber)       کلوروفل (Chlorophyll)

کیروٹینائڈز (Carotenoids)        فائٹو سٹرولز (Phytosterols)

7. وٹامنز

وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن کے، وٹامن ای، فولیٹ، وٹامن بی 6۔

8. معدنیات

کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم، آئرن، فاسفورس، زنک، سیلینیم۔

ساگ سرسوں Field Mustard Brassica rapa सरसों

اثرات:

سرسوں محرک غدد محلل عضلات اور مسکن اعصاب ہوتی ہے۔ہاضم، مولد صفراء، محافظ حرارت غریزی، بیج کاسر ریاح، ساگ مولد ریاح و ملین ہوتا ہے۔

خواص و فوائد:

سرسوں مشہور عام سبزی ہے، جس کا ساگ بھی کھایا جاتا ہے اور اس کے بیجوں سے سرسوں کا تیل نکالا جاتا ہے۔سرسوں کا ساگ کسی قدر عضلاتی غدی اثرات رکھتا ہے جس وجہ سے پیٹ میں گیس پیدا ہوسکتی ہے۔ جبکہ بیج غدی عضلاتی اثرات رکھتے ہیں۔ یہ بیج صفراء پیدا کرتے ہیں، مخرش اور جالی ہونے کی وجہ سے جلد کی غیر طبعی سوداوی علامات جیسے برص، بہق، چہرے کے داغ دھبے کے لیے بہت مفید ہیں۔بیجوں کا سفوف خارش میں بھی بہت مفید ہے۔بیجوں کا سفوف جوڑوں کے درد کے لیے بھی مفید ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات:

سرسوں ایک ایسی مفید پودا ہے جس پر جدید سائنسی تحقیق نے بھی اس کی افادیت کی تصدیق کی ہے۔ اس کے بیج اور تیل میں پائے جانے والے خاص مرکبات، خصوصاً گلوکوسینولیٹس اور آئسو تھایوسیانیٹس، جسم میں داخل ہو کر ایسے عمل کو تیز کرتے ہیں جو نقصان دہ اور کینسر پیدا کرنے والے مادوں کو کمزور یا بے اثر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے سرسوں کو قدرتی طور پر حفاظتی غذا بھی سمجھا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ سرسوں میں موجود فینولک مرکبات اور فلیونوئڈز مضبوط اینٹی آکسیڈنٹ کا کام کرتے ہیں، جو جسم میں پیدا ہونے والے فری ریڈیکلز کو ختم کر کے خلیات کو ٹوٹ پھوٹ اور قبل از وقت بڑھاپے سے بچاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سرسوں کے تیز اثر رکھنے والے اجزاء جراثیم کش خصوصیات بھی رکھتے ہیں، جس کی بنا پر یہ بیکٹیریا اور فنگس کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔

دل کی صحت کے حوالے سے بھی سرسوں کا تیل اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس میں موجود مفید فیٹی ایسڈز خون میں کولیسٹرول کو متوازن رکھنے اور خون کی نالیوں کو بہتر حالت میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسی طرح سرسوں جسم میں سوزش کو کم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے، جس سے جوڑوں کے درد اور دیگر سوزشی کیفیتوں میں کمی آ سکتی ہے۔

ہاضمہ کے نظام پر اس کا اثر بھی نمایاں ہے۔ سرسوں بھوک کو بڑھاتی ہے، معدے کے افعال کو متحرک کرتی ہے اور بدہضمی یا گیس جیسے مسائل میں فائدہ دیتی ہے۔ اس کے علاوہ سرسوں کا تیل جلد اور بالوں کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ خون کی گردش کو بہتر بنا کر جلد کو نرم اور بالوں کو مضبوط بناتا ہے۔

سرسوں میں سیلینیم اور میگنیشیم کی وافر مقدار پائی جاتی ہے، جو اپنی ورم کش (Anti-inflammatory) خصوصیات کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔ جدید ریسرچ کے مطابق سرسوں کا تیل جوڑوں کی سوجن اور گٹھیا کے درد کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ہے۔ اس میں موجود ‘الائل آئسوتھیوسائنیٹ’ اعصاب کو گرمائش فراہم کرتا ہے اور درد کی لہروں کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی لیے اسے بیرونی مالش اور خوراک دونوں میں مفید پایا گیا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سرسوں ایک مکمل غذائی اور طبی پودا ہے، جو نہ صرف جسم کو بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتا ہے بلکہ صحت کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

حوالہ جات:
https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC11354652/

pmc

https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC8472142/pmc
https://www.sciencedirect.com/topics/agricultural-and-biological-sciences/brassica-rapasciencedirect
https://plants.sc.egov.usda.gov/DocumentLibrary/plantguide/pdf/pg_brrar.pdfusda

سرسوں Field Mustard Brassica rapa सरसों

مقدار خوراک:

تین سے پانچ گرام

Important Note

اعلان دستبرداری
اس مضمون کے مندرجات کا مقصد عام صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے ، لہذا اسے آپ کی مخصوص حالت کے لیے مناسب طبی مشورے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس مضمون کا مقصد جڑی بوٹیوں اور کھانوں کے بارے میں تحقیق پر مبنی سائنسی معلومات کو شیئر کرنا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں بیان کردہ کسی بھی تجویز پر عمل کرنے یا اس مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر علاج کے کسی پروٹوکول کو اپنانے سے پہلے ہمیشہ لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ہمیشہ لائسنس یافتہ، تجربہ کار ڈاکٹر اور حکیم سے علاج اور مشورہ لیں۔

Leave Your Comment