
اونٹ کٹارا
نام :
عربی میں شوک الجمل۔ فارسی میں اشتر خار۔ گجراتی میں انکنٹو۔ سندھی میں کانڈیری وڈی۔ ہندی میں सिलिबम کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Milk thistle
Scientific name: Silybum marianum
Family: Asteraceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| اکسیر جگر، محرک غدد، محلل | ہندو پاک اور امریکا | گرم خشک درجہ دوم | غدی عضلاتی | جگر کی تمام بیماریوںمیں مفید ہے۔ |

تعارف:
اونٹ کٹارا کو اونٹ بڑی رغبت سے کھاتے ہیں اس لیے اس کا نام اونٹ کٹارا ہے۔ یہ ایک خاردار پودہ ہے جو ایک گز لمبا ہوتا ہے۔ اس کی شاخوں اور پتوں پر کانٹے ہوتے ہیں۔ ہر ایک شاخ کے سرے پر اخروٹ کے برابر پھل لگا ہوتا ہے جو اندر سے اسفنجی ہوتا ہے۔ اس کے اوپر بڑے بڑے کانٹے ہوتے ہیں۔اس کے پھول عام طور پر گہرے جامنی یا گلابی رنگ کے ہوتے ہیں۔ مزہ تیز اور تلخ ہوتاہے۔ بطور دوا اس کے بیج اور جڑ استعمال کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انیسوں / ولائتی سونف
یہ بھی پڑھیں: اننت مول
یہ بھی پڑھیں: احتباس الطمث یعنی حیض کی کمی کے اسباب
کیمیاوی و غذائی اجزا:
1. فلیونو لِگنینز (Flavonolignans)
- سلیمارین کمپلیکس (Silymarin) • سلیبین اے (Silibin A) • سلیبین بی (Silibin B)
- آئیسو سلیبین اے (Isosilibin A) • آئیسو سلیبین بی (Isosilibin B) • سلیڈیانن (Silydianin)
- سلیکرِسٹِن (Silychristin)
2. فلیونوئڈز (Flavonoids)
- ٹیکسی فولن (Taxifolin) • کوئرسیٹن (Quercetin) • کیمفیرول (Kaempferol) • ایپی جینی نین (Apigenin)

3. فیٹی ایسڈز (Fatty Acids)
- لینولک ایسڈ (Linoleic Acid) • اولیک ایسڈ (Oleic Acid) • پالمیٹک ایسڈ (Palmitic Acid)
- اسٹیارک ایسڈ (Stearic Acid)
4. دیگر بائیو ایکٹیو مرکبات (Other Bioactive Compounds)
- ٹرائٹرپینز (Triterpenes) • اسٹیرولز (Sterols) • میوکرولیک ایسڈ (Mucilaginous compounds)
حوالہ جات: (ایم ڈی پی آئی)۔ (پبمیڈ)۔ (پی ایم سی)۔ (ای ایم آر او)۔
اثرات:
اونٹ کٹارہ محرک جگر، محلل عضلات اور مسکن اعصاب ہے۔ اکسیر جگر ، مشتہی ہے، مدر بول، اور ہاضم ہے، ملین، دافع بخار و گنٹھیا۔
خواص و فوائد
اونٹ کٹارا تقریباً سینکڑوں سالوں سے جگر اور پتہ کی مختلف بیماریوں میں استعمال ہو رہا ہے۔اونٹ کٹارا کا موئثر جز سیلی می رین ( Silymarin ) اس کے بیجوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔کالا یرقان، ہیپٹائٹس بی، سی میں بہت مفید ہے۔ عسر ولادت کے لئے اس کی جڑ کو پیس کر پیٹ پر لیپ کریں، بچہ بآسانی پیدا ہو گا یا اس کی جڑ کی چھال چھ ماشہ پانی میں جوش دے کر پلائیں۔یا اس کی جڑ ولادت کے وقت عورت کے تالو سے لگا کر رکھیں۔ اس کے بارے کہا جاتا ہے کہ اگر پیٹ میں بچہ مر بھی جائے تو یہ پیٹ سے بچہ نکال لیتا ہے۔ اونٹ کٹارا عام طور پر جگر کے افعال کو سہارا دینے اور جگر کے حالات جیسے سروسس، ہیپاٹائٹس اور فیٹی لیور کی بیماری کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ جگر کو بافتوں کو دوبارہ پیدا کرنے اور مرمت کرنے کی صلاحیت کو بڑھا کر جسم کو زہر سے پاک کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات
اونٹ کٹارہ (Milk Thistle ) کا سب سے اہم جزو Silymarin ہے، اور اس کی بدولت مندرجہ ذیل فوائد مشاہدے اور تحقیق میں سامنے آئے ہیں:
Milk Thistle جگر کی حفاظت اور بحالی میں مددگار ہے۔ یہ ایسے زہریلے مواد اور کیمیائی مادّوں کے اثرات سے جگر کی خلیات کو نقصان سے بچاتا ہے۔
Milk Thistle میں antioxidant (اینٹی آکسیڈنٹ) خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یعنی یہ جسم میں آزاد ریڈیکل (free radicals) کی پیداوار کو کم کرتا ہے، اور خلیاتی ڈھانچے کی حفاظت کرتا ہے۔
اگر جگر کو نقصان پہنچنے کی وجہ کوئی زہریلا مادّہ، دوائی، یا بیرونی آلودگی ہو، تو Milk Thistle متعلقہ خلیاتی اور بایوکیمیکل خرابیوں کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوا ہے۔
Milk Thistle کے استعمال سے جسمانی سوزش (inflammation) اور oxidative stress کم ہونے کے امکانات ہیں، جو مختلف بیماریوں کے خلاف مدافعت (protection) کا باعث بن سکتے ہیں۔
حوالہ جات: (Verjournal)۔ (Drug Discovery Journal)۔ (MDPI)۔

مقدار خوراک:
تین سے پانچ گرام بیجوں کا پاوڈر
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.




Leave a Reply