
اشوکا
نام :
مرہٹی میں اشوک۔ بنگالی میں اسپال، گجراتی میں آشوپالو کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Asoca Ashoka
Scientific name: Saraca asoca
Family: Fabaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| قابض اور حابس الدم | ہندوستان، پاکستان، بنگلادیش | خشک سرد | عضلاتی اعصابی | امراض نسواں میں مفید ہے۔ |

تعارف:
اشوک لفظ کا لفظی معنی ہے “غم کے بغیر ۔ اشوکا ایک درخت ہے جس کے پتے آم کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں لیکن آم کے پتوں سے زیادہ لمبے ہوتے ہیں۔ جبکہ اس کے پھول سرخ اور پھل فالسے کی طرح ہوتا ہے جو پکنے کے بعد سیاہ ہو جاتے ہیں۔ پھول خوشبودار ہوتے ہیں اور گھنے جھرمٹ میں ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ چمکدار نارنجی کی طرح شروع ہوتے ہیں اور عمر کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ پیلے رنگ میں بدل جاتے ہیں۔ اشوک دو طرح کا ہوتا ہے ایک الٹا اشوک، یعنی الٹا اشوک کا درخت سیدھا لمبا ہوتا ہے اور پتے ٹہنیاں نیچے کی طرف لٹک رہی ہوتی ہیں اور لوگ خوبصورتی کے لیے اپنے گارڈن اور پارکوں میں لگاتے ہیں۔ جبکہ دوسرا سیدھا اشوک ہوتا ہے یعنی اس کے پتے تو اسی طرح کے ہوتے ہیں لیکن ٹہنیاں نیچے کی طرف نہیں لٹکی ہوتیں بلکہ عام درختوں کی طرح ٹہنیاں ہوتی ہیں۔ یہ دوسرا اشوک یعنی سیدھا اشوک ہی بطور دوا استعمال ہوتا ہے۔ اس کی چھال، پھول، پتے، جڑیں اور بیج بطور دوا استعمال ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسپغول
یہ بھی پڑھیں: اسپند حرمل ہرمل
یہ بھی پڑھیں: اشنان لانا بوٹی

اللہ کی ذات نے اس درخت میں بہت شفا رکھی ہے۔ ہومیو پیتھی میں اشوکا ٹنکچر اسی درخت سے بنائی جاتی ہے۔اس درخت کو ہندوبے حد متبرک سمجھتے ہیں اور اس کی پوجا کرتے ہیں۔ اے وہ اشوک بھگوان کہتے ہیں۔ شاید اسے بے حد متبرک اس کے شفا بخش افعال کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔جس کسی عورت کو اولاد نہ ہوتی ہو تو وہ اس درخت کی پوجا کرتی ہے اور اس کے پتے کھاتی ہے اور اکثر بے اولاد عورتوں کو اولاد ہو جاتی ہے۔

کیمیاوی و غذائی اجزا:
1. چھال (Bark)
تنیّن(Tannins): 6٪ تک، قابض اور خون روکنے والے۔
اینتھو سائنن مشتقات (Anthocyanin Derivatives): Leucopelargonidin، Leucoanidin۔
سٹیرول مرکبات (Sterols): β-Sitosterol، 24-Methylcholest-5-en-3-β-ol۔
کیٹیکول (Catechol): اینٹی آکسیڈنٹ۔
کیٹچن (Catechin) اور ایپی کیٹچن (Epicatechin): اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی کینسر۔
مومیاتی مادّہ (Waxy Substances): n-Octacosanol، طویل سلسلے والے الکانز اور ایسٹرس۔
2. پھول (Flowers)
فلاونوئڈز (Flavonoids): Quercetin، Kaempferol، ان کے گلیکوسائیڈز۔
فیٹی ایسڈز (Fatty Acids): Oleic، Linoleic، Palmitic، Stearic acids۔
سٹیرول مرکبات (Sterols): β-Sitosterol وغیرہ۔
3. بیج (Seeds)
فیٹی ایسڈز (Fatty Acids): Oleic، Linoleic، Palmitic، Stearic acids۔
پروٹینز (Proteins): جسم کو توانائی دینے والے اجزا۔
تیل دار مادّے (Lipid Compounds): بیجوں کے تیل میں قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ خاصیت۔
4. پتے (Leaves)
کاربوہائیڈریٹس (Carbohydrates): توانائی دینے والے۔
تنیّن (Tannins): قابض اور اینٹی بیکٹیریل۔
گیلک ایسڈ (Gallic acid) اور ایگلک ایسڈ (Egallic acid): اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کم کرنے والے۔
اشوکا کے اجزاء میں معدنیات
پتّے: کیلشیم، فاسفورس، سوڈیم، آیوڈین، آئرن، مینگنیج
پھول: پوٹاشیم، کاپر، سلیکون، زنک
چھال: طبی و آیورویدک متون کے مطابق اشوکا کی چھال میں کیلشیم اور آئرن کے مرکبات نمایاں مقدار میں پائے جاتے ہیں۔
حوالہ: Pharmacy180۔ حوالہ: Elsevier eLibrary۔ حوالہ: IAFAforAllergy.com۔ حوالہ: | Anantamayurveda.com۔
حوالہ: Asia-MedicinalPlants.info۔ حوالہ:پی ایم سی۔ حوالہ: ای ٹی آئی آر (JETIR)۔

اثرات:
اشوکا عضلات میں تحریک، اعصاب میں تحلیل اور غدد میں تسکین پیدا کرتا ہے۔ قابض اور حابس الدم ہے، مسکن، دافع عطش و جلن اور محلل اورام، دافع بواسیر، مقوی رحم ہے۔

خواص و فوائد
اشوکاکا درخت درحقیقت مختلف امراض میں نہایت مفید اور شافی اثرات کا حامل ہے۔ خصوصاً عورتوں کی بیماریوں میں اس کے حیرت انگیز اثرات تو ہندوستان کے علاوہ یورپ میں بھی تسلیم کئے جاتے ہیں اور وہ اس کی پیٹنٹ دوائیں بنا کر فروخت کر رہے ہیں۔
عورتوں کے ہر مرض کی دوا: ایام کی دشواری،ناک، منہ، پیشاب، پاخانہ کے خون، رحم کی کمزوری، جریان خون، سیلان، درد رحم، بھوک نہ لگنا، خون کی کمی کو دور کرتا ہے۔ جسم میں طاقت اور عمر کو بڑھاتا ہے۔ مشہورطبیبوں نے اس کے فوائد کی بہت تعریف کی گئی ہے اور عورتوں کے ہر مرض میں مفید بتایا گیا ہے۔
اشوکا کی چھال بدہضمی، پیچش، بواسیر، زخموں اور حیض کی بے قاعدگی کے لیے استعمال ہوتی ہے، جب کہ خشک پھول آتشک، نکسیر، ذیابیطس اور پیچش کے علاج کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ جسم سے زہریلے مادوں کو نکالنے میں بھی مدد کرتا ہے اور قدرتی طور پر خون کو صاف کرنے اور جلد کی الرجی کو روکنے میں موثر ہے۔ بیج ہڈیوں کے ٹوٹنے اور ویسیکل کیلکولی کے علاج کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ پودا بدہضمی، بدہضمی، خون کی خرابی، رسولی وغیرہ کے علاج میں استعمال ہوتا ہے۔
اس کے بیش بہا فوائد کی وجہ سے اس کی اندھا دھند کٹائی ہو رہی ہے جس کی وجہ سے اس درخت کو عالمی طور پر خطرناک کیٹگری میں شامل کردیا گیا ہے یعنی اس کی نسل ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات:
(اشوک کا درخت) کو آیوروید اور روایتی طب میں ہزاروں سال سے استعمال کیا جا رہا ہے، خاص طور پر خواتین کی صحت کے حوالے سے اسے “عورتوں کا دوست” بھی کہا جاتا ہے۔جدید سائنسی تحقیق نے بھی اس کے بہت سے روایتی استعمال کی تصدیق کی ہے۔ اس کے طبی اور سائنسی فوائد درج ذیل ہیں:
خواتین کی صحت کے لیے سب سے مؤثر
اشوک کا سب سے مشہور اور سائنسی طور پر تسلیم شدہ فائدہ بنیادی طور پر خواتین کے امراض (Gynecological issues) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اشوک تکلیف دہ ماہواری (Dysmenorrhea)، بہت زیادہ خون آنے (Menorrhagia) اور بے قاعدہ ماہواری کو منظم کرنے میں مدد کرتا ہے۔سائنسی مطالعات کے مطابق، اس کی چھال میں موجود مرکبات بچہ دانی (Uterus) کے پٹھوں کو مضبوط کرتے ہیں۔ یہ بچہ دانی کی سوزش اور کمزوری کو دور کرنے میں مددگار ہے۔ اسے خواتین میں سفید پانی (لیکوریا) کے علاج کے لیے بھی روایتی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اشوک کی چھال میں فلیوونائڈز (Flavonoids) اور ٹیننز (Tannins) پائے جاتے ہیں جو Anti-estrogenic (ایسٹروجن کو متوازن کرنے والے) اور Oxytocic (بچہ دانی کو متحرک کرنے والے) اثرات رکھتے ہیں، جو اس کے افعال کی سائنسی وضاحت کرتے ہیں۔
سوزش اور درد میں کمی (Anti-inflammatory & Analgesic)
اشوک میں طاقتور اینٹی انفلامیٹری (سوزش کش) خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ جوڑوں کے درد (Arthritis) اور دیگر سوزش کی حالتوں میں درد اور سوجن کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اینٹی مائکروبیل اور اینٹی فنگل (Antimicrobial & Antifungal)
اس کی چھال اور پتوں کے عرق میں بیکٹیریا اور فنگس کو مارنے کی صلاحیت پائی گئی ہے۔ یہ جلدی انفیکشنز اور اندرونی انفیکشنز کے خلاف موثر ثابت ہوا ہے۔
خون روکنے کی خاصیت (Astringent Properties)
اس میں قابض (Astringent) خصوصیات ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اسے اندرونی خون بہنے، جیسے خونی بواسیر (Piles) یا خونی پیچش (Hemorrhagic Dysentery) کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
اینٹی آکسیڈنٹ (Antioxidant)
اشوک فلیوونائڈز اور دیگر فینولک مرکبات سے بھرپور ہوتا ہے، جو جسم کو فری ریڈیکلز (Free Radicals) کے نقصان سے بچاتے ہیں اور مجموعی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔
دیگر فوائد
جلد کی صحت: اس کے خون صاف کرنے (Blood Purifier) کے اثرات کی وجہ سے اسے جلد کے مسائل جیسے ایکنی (Acne) اور الرجی کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
نظامِ ہضم: یہ بدہضمی (Dyspepsia) کو دور کرنے، پیٹ سے کیڑوں کو خارج کرنے (Anthelmintic) اور ڈائریا کے علاج میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔
شوگر (Diabetes): کچھ ابتدائی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے پھولوں کا عرق خون میں شوگر کی سطح کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اہم نوٹ: اشوک کا درخت ایک طاقتور طبی پودا ہے۔ اسے کسی بھی بیماری کے علاج کے لیے استعمال کرنے سے پہلے ہمیشہ کسی مستند حکیم، آیورویدک معالج یا ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
حوالہ: Planet Ayurveda۔ حوالہ: PMC3609231۔ حوالہ: PMC3330942۔ حوالہ: JETIR2112553۔ حوالہ: MedCraveOnline۔
مقدار خوراک:
پانچ گرام
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply