Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. سرپھوکہ
سرپھوکہ

سرپھوکہ

  • January 15, 2026
  • 0 Likes
  • 95 Views
  • 0 Comments

سرپھوکہ

نام :

فارسی میں برگ سونالو۔ پنجابی میں جھوجھرو، جھانا بوٹی۔ مرہٹی میں انہانی۔ گجراتی میں شرپنکھا  اور ہندی میں शरपुंखा کہتے ہیں۔

Hakeem Syed Abdulwahab Shah Sherazi

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)

نام انگلش:

Name: Purple Tephrosia

Scientific name: Tephrosia purpurea

Family: Faboideae

تاثیری نام:
مقام پیدائش:
مزاج  طب یونانی:
مزاج  طب پاکستانی:
نفع خاص:
مصفی خون، دافع جرب، مدر بول،  کاسر ریاح،  محافظ حمل۔ہند و پاکگرم ترغدی اعصابیعضلاتی امراض و علامات

سرپھوکہ Purple Tephrosia Tephrosia purpurea शरपुंखा
سرپھوکہ Purple Tephrosia Tephrosia purpurea शरपुंखा

تعارف:

سرپھوکہ ایک معروف جنگلی جڑی بوٹی ہے جو برصغیر پاک و ہند میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے۔ یہ پودا عموماً بنجر زمینوں، کھیتوں کے کناروں، سڑکوں کے اطراف اور نیم خشک علاقوں میں خود رو اگتا ہے۔ اس کی اونچائی عموماً ایک سے تین فٹ تک ہوتی ہے اور یہ پودا شاخ دار اور پھیلاؤ رکھتا ہے۔ اس کا تنا باریک مگر مضبوط ہوتا ہے، جس پر باریک سفید روئیں نمایاں نظر آتے ہیں۔ پتے مرکب ہوتے ہیں، یعنی ایک ڈنڈی پر کئی چھوٹے لمبوترے پتے لگے ہوتے ہیں، جو سبز مائل سرمئی رنگ کے ہوتے ہیں۔ پتوں کی سطح قدرے مخملی محسوس ہوتی ہے۔

اس کے پھول نہایت خوبصورت جامنی یا ارغوانی رنگ کے ہوتے ہیں جو چھوٹے چھوٹے گچھوں کی صورت میں شاخوں پر لگتے ہیں۔ پھولوں کے بعد اس میں لمبی پتلی پھلیاں بنتی ہیں، جن کے اندر چھوٹے بیج موجود ہوتے ہیں۔ بیج سخت اور بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔ پورا پودا ایک خاص ہلکی سی کڑوی مہک اور ذائقہ رکھتا ہے، جس کی وجہ سے یہ دوسرے عام جنگلی پودوں سے آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔ یونانی اور آیورویدک طب میں اس کے پتے، جڑ اور بیج الگ الگ استعمال ہوتے رہے ہیں، اسی وجہ سے یہ ایک اہم طبی جڑی بوٹی کے طور پر جانی جاتی ہے۔

سرپھوکہ Purple Tephrosia Tephrosia purpurea शरपुंखा

یہ بھی پڑھیں: ستیاناسی

یہ بھی پڑھیں: ستاور

یہ بھی پڑھیں: سپاری

سرپھوکہ Purple Tephrosia Tephrosia purpurea शरपुंखा

خاص پہچان: اگر اس کی ٹہنی یا پتے کو ہاتھ سے توڑا جائے تو وہ بالکل برابر نہیں ٹوٹتا بلکہ اس کے ریشے “V” کی شکل میں یا تیر کی طرح ٹوٹتے ہیں۔ اسی لیے اسے “سرپھوکا” (سر کو پھاڑنے والا یا سر سے ٹوٹنے والا) کہا جاتا ہے۔

کیمیاوی و غذائی  اجزا:

فلاوونوئڈز (Flavonoids)

ٹیفروسِن (Tephrosin)، ٹیفروسون (Tephrosone)، آئیسو فلاوونز (Isoflavones)، فلیوینونز (Flavanones)، چیلکونز (Chalcones)، ٹیفروپورپورن (Tephropurpurin)، روٹینوئڈز (Rotenoids)، روٹینوئڈز (Rotenoids)

فینولک مرکبات (Phenolic Compounds)

پولی فینولز (Polyphenols)، ٹرائی ٹرپینوئڈز (Triterpenoids)، لوپیول (Lupeol)، بیٹا سیٹو سٹیرول (β-Sitosterol)، سَپونِنز (Saponins)، ٹیننز (Tannins)، الکالوئڈز (Alkaloids)۔

دیگر اجزا

روٹین (Rutin)، سیمی گلابرِن (Semiglabrin)، لینسیولیٹن اے (Lanceolatin A)، لینسیولیٹن بی (Lanceolatin B)، فائٹول (Phytol)، ہیکسا ڈیکینوک ایسڈ (Hexadecanoic acid)، اوکٹا ڈی کیٹرائینوئک ایسڈ (Octadecatrienoic acid)۔

سرپھوکہ Purple Tephrosia Tephrosia purpurea शरपुंखा
سرپھوکہ Purple Tephrosia Tephrosia purpurea शरपुंखा

اثرات:

سرپھوکہ غدد میں تحریک، عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تقویت پیدا کرتا ہے، کیمیاوی طور پر صفراء کی پیدائش کے ساتھ ساتھ اخراج بھی کرتا ہے۔مصفی خون، دافع جرب، چنبل، بواسیر اور جذام، مدر بول، کاسر ریاح، محافظ حمل، ہاضم، دافع یرقان اثرات رکھتا ہے۔

خواص و فوائد:

سرپھوکہ کا جوشاندہ کالی مرچ کے ساتھ استعمال کرنے سے یرقان دور ہو جاتا ہے، اگر عضلاتی تحریک سے پیشاب میں بندش ہو تو یہ جاری کر دیتا ہے۔ گردہ کی پتھری کو نکالنے کے لیے اس کا قہوہ بہت مفید ہے۔ مصفی خون جوشاندوں اور نسخوں کا جزو اعظم ہے، اسی لیے چنبل، داد، خارش، بواسیر اور پھوڑے پھنسیوں کو دور کرنے کے لیے میف ہے۔کاسر ریاح ہونے کی وجہ سے گیس کا اخراج کرتا ہے اور ہاضم ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات:

Tephrosia purpurea (سرپھوکہ) میں پائے جانے والے یہ کیمیائی اجزا مجموعی طور پر جسم میں مختلف حیاتیاتی اثرات پیدا کرتے ہیں۔ فلاوونوئڈز جیسے ٹیفروسِن، ٹیفروسون اور آئیسو فلاوونز طاقتور ضد تکسیدی اثر رکھتے ہیں، جس سے جسم میں فاسد مادّوں کے نقصان دہ اثرات کم ہوتے ہیں اور خلیات کو تحفظ ملتا ہے۔ یہی اجزا جگر کے افعال کی بحالی میں مدد دیتے ہیں اور روایتی طور پر جگر کی کمزوری اور سوزش میں مفید سمجھے جاتے رہے ہیں۔

روٹینوئڈز اور پولی فینولز جسم میں سوزش کم کرنے، درد میں کمی اور بعض جراثیم کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ لوپیول اور بیٹا سیٹو سٹیرول جیسے اجزا سوزش، جوڑوں کے درد اور جلدی مسائل میں معاون سمجھے جاتے ہیں، جبکہ یہ کولیسٹرول کے توازن اور عمومی جسمانی مدافعت پر بھی مثبت اثر ڈالتے ہیں۔

سَپونِنز اور ٹیننز ہاضمے کو بہتر بنانے، آنتوں کی صفائی اور جسم سے فاسد رطوبات کے اخراج میں مدد دیتے ہیں۔ یہی اجزا اس پودے کو یونانی اور آیورویدک طب میں خون صاف کرنے اور مزاج کی اصلاح کے لیے قابلِ قدر بناتے ہیں۔ روٹین، فائٹول اور فیٹی ایسڈز جیسے اجزا دورانِ خون کو بہتر بنانے، جلد اور اعصاب کو تقویت دینے اور عمومی کمزوری میں فائدہ پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سرخ نیل میں بعض ایسے قدرتی اجزا بھی پائے جاتے ہیں جو زیادہ مقدار یا غلط استعمال کی صورت میں نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ روٹینوئڈز ایسے مرکبات ہیں جو حشرات کے لیے زہریلے اثر رکھتے ہیں، اسی وجہ سے یہ پودا بعض علاقوں میں قدرتی کیڑے مار کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ انسانی جسم میں ان کی زیادہ مقدار متلی، کمزوری اور اعصابی بے چینی پیدا کر سکتی ہے۔

حوالہ جات:
https://www.researchgate.net/figure/Tephrosia-purpurea_fig1_322423597ریسرچ گیٹ
https://irjponline.org/index.php/irjp/article/view/465irjponline
https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC3987190این آئی ایچ
https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/28255311/پب میڈ

https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC3867241

پی ایم سی

سرپھوکہ Purple Tephrosia Tephrosia purpurea शरपुंखा

مقدار خوراک:

دو گرام

Important Note

اعلان دستبرداری
اس مضمون کے مندرجات کا مقصد عام صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے ، لہذا اسے آپ کی مخصوص حالت کے لیے مناسب طبی مشورے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس مضمون کا مقصد جڑی بوٹیوں اور کھانوں کے بارے میں تحقیق پر مبنی سائنسی معلومات کو شیئر کرنا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں بیان کردہ کسی بھی تجویز پر عمل کرنے یا اس مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر علاج کے کسی پروٹوکول کو اپنانے سے پہلے ہمیشہ لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ہمیشہ لائسنس یافتہ، تجربہ کار ڈاکٹر اور حکیم سے علاج اور مشورہ لیں۔


Discover more from TabeebPedia

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Discover more from TabeebPedia

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading