
ستیاناسی
- January 14, 2026
- 0 Likes
- 113 Views
- 0 Comments
ستیاناسی
نام :
عربی میں شجر الثوم۔ فارسی میں بادنجان دشتی۔ بنگالی میں سورن چھیری اور ہندی میں کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Mexican Prickly Poppy
Scientific name: Argemone mexicana
Family: Papaveraceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| جالی، مخرش، اینٹی سپ ٹک، مسہل، مقئی، قاتل کرم شکم، دافع فساد خون | ہند و پاک | گرم خشک درجہ سوم | غدی عضلاتی | امراض جلد |

تعارف:
ستیاناسی ایک جڑی بوٹی نما، کانٹے دار پودا ہے جو زیادہ تر گرم اور خشک علاقوں میں خود بخود اگتا ہے، اسے پیلا دھتورہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا تنا سیدھا، شاخ دار اور سخت کانٹے دار ہوتا ہے، اور پتے بڑے، کھردرے اور کناروں سے نوکیلے کانٹے دار ہوتے ہیں۔ اس کے پھول بڑے، پیلے رنگ کے اور عام طور پر چار یا پانچ بڑی پنکھڑیوں والے ہوتے ہیں، جبکہ پھول کے وسط میں سنہری یا نارنجی رنگ کا مرکز ہوتا ہے۔ پھل ایک کانٹے دار بیج دان نما ہوتا ہے، جس میں زہریلے بیج موجود ہوتے ہیں۔
ستیاناسی اصل میں میکسیکو اور جنوبی امریکہ کا پودا ہے، لیکن اب یہ دنیا کے کئی گرم علاقوں میں پھیل چکا ہے۔ اس کے بیج اور پودا زہریلے ہیں، خاص طور پر جانوروں اور انسانوں کے لیے، اس لیے چرنے والے جانور اسے عام طور پر نہیں کھاتے۔ تاہم محدود مقدار میں روایتی مقامی طب میں کبھی کبھار استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ یہ پودا زمین کی زرخیزی پر زیادہ اثر نہیں ڈالتا، لیکن اس کی زہریلی خصوصیات کی وجہ سے محتاط رہنا ضروری ہے۔
لفظ ستیاناسی دراصل محاورہ ستیاناس سے نکلا ہے، جس کا مطلب بربادی یا تباہی ہے۔ چونکہ یہ کانٹے دار پودا زمین کے غذائی اجزا اور پانی پر قبضہ کر لیتا ہے، جانور اسے نہیں کھاتے اور کسانوں کے لیے کھیتی باڑی میں رکاوٹ بنتا ہے، اس لیے عوامی تجربے کی بنیاد پر اسے ستیاناسی کہا جانے لگا۔

یہ بھی پڑھیں: ستاور
یہ بھی پڑھیں: سپاری
یہ بھی پڑھیں: سانڈہ
کیمیاوی و غذائی اجزا:
ستیاناسی (Argemone mexicana) میں کئی اہم کیمیائی اجزا پائے جاتے ہیں جو اس کے طبی اور حیاتیاتی اثرات کے لیے ذمہ دار ہیں۔ اس پودے میں بنیادی طور پر الکالوئڈز شامل ہیں جن میں بر بیرین، سانگوینارین، پروٹوپائن اور ارجیمونین شامل ہیں، جو پودے کے زہریلے اور بعض حیاتیاتی اثرات میں کردار ادا کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ اس میں فلاونوئڈز جیسے ریوٹین اور کوئرسیٹین، ٹرپینائڈز، فینولک مرکبات، سینوزائڈز، ٹیننز اور کاربوہائیڈریٹس بھی موجود ہیں۔ یہ تمام مرکبات پودے کے پتوں، پھول، تنا اور بیج میں مختلف مقدار میں پائے جاتے ہیں اور ان کی وجہ سے ستیاناسی میں antioxidant، anti-inflammatory، antimicrobial خصوصیات کے ساتھ ساتھ بعض حالات میں زہریلے اثرات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

اثرات:
ستیاناسی بوٹی غدد میں تحریک، عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تسکین پیدا کرتی ہے۔ حرارت غریزی پیدا کرتی اور صفراء کو جمع کرتی ہے۔ جالی، مخرش، اینٹی سپ ٹک، مسہل، مقئی، قاتل کرم شکم، دافع فساد خون اثرات رکھتی ہے۔

خواص و فوائد:
ستیاناسی جالی اور مخرش ہونے کی وجہ سے پرانے اور بگڑے ہوئے زخموں کو بند کرنے کے لیے بہترین دوا ہے، اپنے اسی اثر کی وجہ سے بواسیری مسوں پر لگانے سے مسے گر پڑتے ہیں، خوردنی طور پر اس کی جڑ کا سفوف کالی مرچ کے ہمراہ کھلانا سرد قسم کے پھوڑے پھنسی، خارش، چنبل، برص، بہق کے لیے نہایت ہی مفید ہے۔پیٹ کے کیڑے خصوصا کدو دانوں کو ہلاک کرنے کے لیے بہترین چیز ہے۔اس کے بیجوں اور تیل میں زہریلا مادہ ہوتا ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
کشتہ سازی کا اہم اصول:
آج کل کشتہ سازی کے دعوے دار بہت ہیں لیکن اکثریت کو کشتہ سازی کا بنیادی اصول ہی معلوم نہیں ہے، بس کسی کتاب میں پڑھا یا کسی سے سنا اسی طرح بغیر کسی عقلی یا سائنسی دلیل اور اصول کے کشتہ سازی شروع کردیتے ہیں۔کشتہ سازی کا سب سے پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ آپ نے کشتہ سازی میں بھی مزاج کا خیال رکھنا ہے، مثلا اعصابی مزاج کی ادویہ کو عضلاتی اعصابی، یا عضلاتی غدی دوا میں کشتہ کرنا چاہیے، اسی طرح عضلاتی دوا کو غدی عضلاتی یا غدی اعصابی ادویہ میں کشتہ کرنا چاہیے، اور غدی دوا کو اعصابی غدی یا اعصابی عضلاتی میں کشتہ کرنا چاہیے۔ جو کشتہ اس اصول کو مدنظر رکھ کر تیار کیا جائے گا وہ نہایت ہی کارآمد ہوگا اور کسی قسم کا نقصان نہیں دے گا۔مثلا تانبہ اگر عضلاتی ہے تو ہڑتال ورقیہ غدی ہے، لہذا تانبہ کا کشتہ ہڑتال ورقیہ میں پندرہ منٹ میں تیار ہو جائے گا اور اصول کے مطابق ہوگا۔ اور اگر اس کے برعکس تانبہ کا کشتہ کرنے کے لیے پارہ اور قلعی ، دھتورہ وغیرہ میں تیار کریں جیسا کہ عام طور پر کیا جاتا ہے، یہ دو دن میں بمشکل تیار ہوتا ہے اور اس پر خرچہ بھی زیادہ آتا ہے اور اصول کے بھی خلاف ہے۔ اس لیے ہمیشہ اصول اور سائنسی و عقلی طریقہ کو اختیار کریں، ستیاناسی بوٹی چونکی غدی عضلاتی ہے اس لیے اس میں تانبہ، شنگرف، نیلاتوتیا آسانی سے کشتہ ہو جاتے ہیں۔

جدید سائنسی تحقیقات:
ستیاناسی (Argemone mexicana) ایک ایسا پودا ہے جس میں کئی اہم کیمیائی اجزا موجود ہیں، جیسے الکالوئڈز، فلاونوئڈز، فینولک مرکبات اور ٹیرپینائڈز، جو اسے قدرتی طور پر مختلف طبی خصوصیات عطا کرتے ہیں۔ جدید سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس کے پتے، پھول اور بیج کے استخراج میں آکسیڈینٹ مخالف اثرات پائے جاتے ہیں، یعنی یہ جسم میں آزاد ریڈیکلز کو کم کر کے خلیوں کو نقصان سے بچا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ جراثیم کش اور سوزش کم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، اور بعض مطالعات میں اس نے پر جیوی اثرات بھی دکھائے ہیں۔ البتہ اس میں موجود بعض الکالوئڈز زہریلے بھی ہو سکتے ہیں، اس لیے انسانی استعمال میں احتیاط ضروری ہے۔ مجموعی طور پر ستیاناسی ایک ایسا پودا ہے جس کے اجزا نہ صرف روایتی طبی استعمال میں اہم ہیں بلکہ جدید تحقیق میں بھی اس کے ممکنہ طبی فوائد کی تصدیق ہو رہی ہے۔
زہریلے اجزا الکالوئڈز (Alkaloids) :
ارجیمونین (Argemonine) – بنیادی زہریلا الکالوئڈ، دل اور اعصابی نظام پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
سانگوینارین (Sanguinarine) – جلد، جگر اور خون کے لیے زہریلا، خلیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
پروٹوپائن (Protopine) – اعصابی اور جگر کے لیے زہریلا اثر رکھتا ہے۔
بربیرین (Berberine) – کم مقدار میں فائدہ مند، زیادہ مقدار میں زہریلا اثر پیدا کر سکتا ہے۔
تقریباً یہ چار اہم زہریلے مرکبات ہیں جو ستیاناسی میں انسانی یا جانوروں کے لیے خطرہ پیدا کرتے ہیں، خاص طور پر جب زیادہ مقدار میں استعمال ہوں۔
ستھایاناسی (Argemone mexicana) کے بیج سرسوں کے بیجوں سے اس قدر مشابہ ہوتے ہیں کہ ان کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے۔ جب ان کا تیل کھانے میں استعمال ہو جائے تو ایپی ڈیمک ڈراپسی (Epidemic Dropsy) نامی بیماری پیدا ہوتی ہے، جس میں پاؤں اور ٹانگوں پر شدید سوجن (Edema) آ جاتی ہے، دل کے پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں اور آنکھوں میں کالا موتیا بننے سے بینائی ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے
حوالہ جات:
| https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/3967743/ | پب میڈ |
| https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/33527713/ | پب میڈ |
| https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/39277064/ | پب میڈ |
| https://www.mdpi.com/1420-3049/28/11/4428?utm_source=chatgpt.com | ایم دی پی آئی |
| https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC10254925 | این آئی ایچ |
| https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/21722040/ | پب میڈ |
https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/37298904/ | پب میڈ |

مقدار خوراک:
ایک سے تین گرام۔
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply