
ریوند چینی / ریوند خطائی
- December 17, 2025
- 0 Likes
- 324 Views
- 0 Comments
ریوند چینی / ریوند خطائی
نام :
عربی میں الراوند، ریباس۔ فارسی میں ریواس کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Rhubarb
Scientific name: Rheum palmatum / Rheum officinale / Rheum emodi
Family: Polygonaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مسہل، جالی، لازع،منفث بلغم ، کاسرریاح ،مدر حیض ،محرک و مقوی جگر ،مفتح سدد | ہند و پاک اور چین | گرم خشک درجہ دوم | غدی عضلاتی | سوداوی امراض میں مفید ہے۔ |

تعارف:
ریوند خطائی ایک قدیم اور مشہور طبی پودا ہے جو خاص طور پر چین اور تبت میں صدیوں سے استعمال ہوتا رہا ہے۔ طب و حکمت میں ریوند چینی اور ریوند خطائی کو اکثر ایک ہی پودے کی مختلف اقسام یا معیار سمجھا جاتا ہے، لیکن ان کے درمیان باریک اور اہم فرق موجود ہیں۔ بنیادی طور پر یہ دونوں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، لیکن ان کی معیار اور اثرات میں فرق ہوتا ہے۔ ریوند خطائی: “خطا” قدیم دور میں شمالی چین یا تاتاری علاقوں کو کہا جاتا تھا۔ یہ عموماً تبت یا سائبیریا کے سرحدی علاقوں سے حاصل ہوتی ہے۔اس لیے اسے خطائی کہا جاتا ہے۔
ریوند چینی: جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، یہ خالصتاً چین کے علاقوں سے آتی ہے۔ اسے بہترین معیار کی ریوند سمجھا جاتا ہے۔ یعنی موجودہ چین ملک کے بننے سے پہلے خطائی نام زیادہ مشہور تھا، اور اب چین ملک بننے کے بعد ریوند کے ساتھ چینی نام لگ گیا ہے۔ چونکہ ایک ایک پودے کی کئی کئی اقسام اور فرق بھی ہوتے ہیں، اسی لیے ریوند چینی اور خطائی میں علاقائی لحاظ سے کچھ فرق بھی ہے۔

- ریوند چینی: اس کا رنگ گہرا زرد یا سرخی مائل ہوتا ہے۔یہ ٹکڑے وزنی، سخت اور ٹھوس ہوتے ہیں۔ اسے توڑنے پر اندر سے خوبصورت سرخ و سفید رگیں (Marbling) واضح نظر آتی ہیں۔ یہ زیادہ تلخ اور خوشبو دار ہوتی ہے۔
- ریوند خطائی: یہ رنگت میں تھوڑی زردی مائل اور پھیکی ہوتی ہے۔ یہ وزن میں ہلکی اور تھوڑی بھربھری (Spongy) ہو سکتی ہے۔ اس کے اندر کی رگیں یا لکیریں اتنی واضح اور خوبصورت نہیں ہوتیں۔ اس کی تلخی اور خوشبو ریوند چینی کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں ریوند خطائی زیادہ موثر ہے، اور کچھ کہتے ہیں ریوند چینی زیادہ موثر ہے۔ اس حوالے سے نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ جیسے پہلے بتایا یہ الگ الگ پودے نہیں ہیں، بلکہ ایک ہی فیمیلی کے پودے ہیں، خطائی، یا چینی علاقے کی طرف نسبت ہے، اب تو پاکستان کے ہمالیہ پہاڑی سلسلے اور دیر بالا میں بھی موجود ہوتی ہے۔ بلکہ لوگ خود کاشت بھی کرتے ہیں۔بس یہ ذہن میں رکھیں خطائی بھی علاقہ (خطا) کی طرف منسوب ہے اور چینی بھی علاقہ (چین) کی طرف منسوب ہے۔ باقی علاقائی لحاظ، آب و ہوا،مٹی وغیرہ سے معمولی فرق پودوں میں بھی آجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریٹھہ
یہ بھی پڑھیں: روہیڑا
یہ بھی پڑھیں: روغن ناریل
کیمیاوی و غذائی اجزا:
1۔ اینتھراکینون مرکبات
یہ ریوند خطائی کے سب سے اہم اور مؤثر اجزا ہیں، خاص طور پر جڑ میں پائے جاتے ہیں۔
ایمودین (Emodin) رائن (Rhein) ایلوی ایمودین (Aloe-emodin) کرائسو فینول (Chrysophanol)
فیشیون (Physcion)
2۔ اسٹل بین مرکبات
یہ مرکبات جدید تحقیق میں خاص توجہ کا مرکز ہیں۔
راہ پونٹیجینن (Rhapontigenin) ڈیس آکسی راہ پونٹیجینن (Desoxyrhapontigenin)
ڈیس آکسی راہ پونٹیسن (Desoxyrhaponticin) پائسیاٹنول گلائیکوسائیڈ (Piceatannol-3-O-glucoside)
3۔ فلاوونوئڈز
یہ اجزا اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔
کیٹچن (Catechin) ایپی کیٹچن (Epicatechin) کوئرسیٹن مشتقات (Quercetin derivatives)
4۔ فینولک تیزاب
یہ مرکبات سوزش اور آکسیڈیشن سے متعلق اثرات رکھتے ہیں۔
گیلک ایسڈ (Gallic acid) کیفک ایسڈ (Caffeic acid) فیرولک ایسڈ (Ferulic acid)
5۔ ٹیننز
یہ قابض خصوصیات رکھنے والے پولی فینولک مرکبات ہیں۔
گیلو ٹیننز (Gallotannins) پرو سائنائیڈنز (Procyanidins) کیٹچن ٹیننز (Catechin tannins)
6۔ نامیاتی تیزاب
یہ اجزا ذائقہ اور بعض حیاتیاتی اثرات میں کردار ادا کرتے ہیں۔
آکسیلک ایسڈ (Oxalic acid) مالک ایسڈ (Malic acid) سٹرک ایسڈ (Citric acid)

اثرات:
ریوند چینی/خطائی غدد میں تحریک، عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تسکین پیدا کرتی ہے۔مسہل، جالی، لازع(خراش پیداکرنے والی )۔منفث بلغم ،مقوی معدہ و امعاء ،کاسرریاح ،مدر حیض ،محرک و مقوی جگر ،مقوی بدن ،مفتح سدد اثرات رکھتی ہے۔

خواص و فوائد:
اس کا سفوف بناکر سرکہ میں ملاکر لیپ کرنا بدن کے داغ دھبوں مثلاًجھائیں نمش چھیپ وغیرہ کو دور کرتاہے۔اندرونی اور بیرونی طور پر ورموں کیلئے لیپ کرنا مفید ہے ۔پرانے زخموں پر ریوند چینی گھس کر ذراسا دیسی صابن ملاکر پھایا لگاتے ہیں ،اس سے مواد صاف ہوکر زخم مندمل ہوجاتاہے۔ خوراکی طور پر کھانسی دمہ میں بلغم کو نکال کر درست کرتی ہے۔اور معمولی مقدار میں کھانا معدہ کو تقویت دیتی ہے۔اور اپھارے کو دور کرتی ہے، مسہل بھی ہے ہلکے دست لاتی ہے۔گردے اور مثانہ کے درد بھی استعمال کرتے ہیں ۔مقوی و محرک جگرہے۔سدہ کھولتی آنتوں کو فضلات ردی سے پاک کرتی ہے ۔ریاح کو تحلیل کرتی ہے۔یہ جگر کے ساتھ خصوصیت رکھتی ہے اور پرانے بخاروں کو نفع دیتی ہے۔
جدید سائنسی تحقیقات:
جدید سائنس اور فارماکولوجی نے ریوند چینی (Rheum palmatum) کی جڑوں پر وسیع تحقیق کی ہے۔ اس کے طبی فوائد اب محض روایتی نہیں رہے بلکہ کلینیکل ٹرائلز اور لیبارٹری ٹیسٹوں سے ثابت شدہ ہیں۔
Journal of Ethnopharmacology میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، ریوند کا عرق گردوں کے خلیات کی حفاظت کرتا ہے۔جدید تحقیق کے مطابق ریوند کی جڑ گردوں کے فیل ہونے کی رفتار کو سست کرتی ہے اور خون میں یوریا اور کریٹنائن (Creatinine) کی سطح کو کم کرنے میں مددگار ہے۔ اسی طرح یہ پودا جگر کے خلیات کی مرمت اور صفائی میں انتہائی موثر پایا گیا ہے۔ Emodin اور دیگر اینتھراکوئینونز صفرا (Bile) کے بہاؤ کو بہتر بناتے ہیں اور جگر کی سوزش (Hepatitis) کو کم کرتے ہیں۔ ریوند چینی خون میں چربی (Cholesterol) کو کم کرنے اور انسولین کی حساسیت بڑھانے میں مددگار ہے۔ اس کا جزو Rhaponticin خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ریوند خطائی کی جڑ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق جسم میں پیدا ہونے والی نقصان دہ آکسیڈیشن کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس میں موجود قدرتی اجزا خلیات کو زنگ لگنے جیسے عمل سے بچاتے ہیں، جس سے جگر، گردے اور دیگر اہم اعضاء کو تحفظ ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے کمزوری، سوزش اور لمبے عرصے کی بیماریوں میں معاون سمجھا جاتا ہے۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ پودا جسم میں غیر ضروری سوزش کو کم کرتا ہے اور مدافعتی نظام کے غیر متوازن ردِعمل کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسی حالتوں میں جہاں جلد یا اندرونی اعضاء میں سوزش پائی جاتی ہو۔

اسی طرح ریوند خطائی کی جڑ میں ایسے قدرتی مرکبات موجود ہیں جو جراثیم، بعض وائرسوں اور فنگس کے خلاف بھی اثر دکھاتے ہیں۔ اس وجہ سے اسے پرانے زمانے سے آنتوں کی صفائی، قبض اور معدے کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جدید تحقیق نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ اس کے بعض اجزا خون میں شکر کے توازن، جگر اور گردوں کے تحفظ، اور جسم کے اندرونی نظام کو صاف رکھنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر ریوند خطائی کو ایک ایسا پودا سمجھا جاتا ہے جو صفائی، تحفظ اور توازن تینوں پہلوؤں سے جسم کی مدد کرتا ہے، اسی لیے اسے طب یونانی اور جدید سائنسی تحقیق دونوں میں اہم مقام حاصل ہے۔
حوالہ جات: (پب میڈ)۔ (این آئی ایچ)۔ (Effects of rhein)۔ (ایم ڈی پی آئی)۔ (پی ایم سی)۔ (ریسرچ فارما جنرل)۔ (نیشنل لائبریری آف میڈیسن)۔ (سانس ڈائریکٹ)۔

مقدار خوراک:
ایک سے دو گرام، معالج کی ہدایت کے مطابق۔ اس کی خوراک کے ساتھ پانی زیادہ پیئیں۔
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply