روغن سرسوں
نام :
عربی میں دہن الحرف۔ فارسی میں روغن تلخ، روغن سرشف۔ کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Black mustard Oil
Scientific name: Brassica nigra
Family: Brassicaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| کاسر ریاح، ملین، مخرش، جالی | ہند و پاک | گرم خشک | غدی عضلاتی | دوران خون بہتر کرتا ہے۔ |

تعارف:
سرسوں مشہور عام ساگ ہے، نومبر سے مارچ تک اس کی فصل ہوتی ہے۔ اس کے پتوں کا ساگ اور پھول والی ڈنڈیوں کا اچار بنایا جاتا ہے۔ سرسوں کے بیجوں سے تیل نکالا جاتا ہے، جو مالش کرنے، اور کھانے کے کام آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روغن زیتون
یہ بھی پڑھیں: روغن خشخاش
یہ بھی پڑھیں: روغن چنبیلی

کیمیاوی و غذائی اجزا:
غذائی اجزاء، پروٹین، وٹامنز اور منرلز (per 100g بیج)
میکرو اجزاء
توانائی (کیلوریز): تقریباً 508 کیلوریز ۔ پروٹین: تقریباً 26 گرام کاربوہائیڈریٹس: تقریباً 28 گرام
غذائی ریشہ (Dietary fiber): تقریباً 12 گرام کل چکنائی (Fat): تقریباً 36 گرام
وٹامنز
وٹامن ای(alpha-tocopherol): تقریباً 5.0 mg تھایامین (وٹامن B1): تقریباً 0.8–1.0 mg
رِبوفلاوِن (وٹامن B2): تقریباً 0.3 mg نایئسن (وٹامن B3): تقریباً 4.7–4.73 mg
وٹامن B6: تقریباً 0.4–0.5 mg فولِیٹ (وٹامن B9 / فولیٹ): تقریباً 162 µg
وٹامن C: تقریباً 7.1 mg وٹامن K: تقریباً 5.4 µg
(نوٹ: وٹامن A بہت معمولی مقدار میں ہوتا ہے — مثلاً 2 µg یا 31 IU کے برابر
منرلز (اور دیگر معدنیات)
کیلشیئم: تقریباً 266 mg میگنیشیم: تقریباً 370 mg فاسفورس: تقریباً 828–830 mg پوٹاشیم: تقریباً 738 mg
آئرن: تقریباً 9.2–9.3 mg زنک: تقریباً 6.0–6.1 mg تانبا (Copper): تقریباً 0.6–0.65 mg
مینگنیز: تقریباً 2.4–2.5 mg سیلینیم: تقریباً 208 µg سوڈیم: تقریباً 13 mg (بہت کم)
فیٹی ایسڈز: اروسک ایسڈ، اولیک ایسڈ، لینولیک ایسڈ، الفا لینولینک ایسڈ، ایکوسینک ایسڈ، پالمیٹک ایسڈ، بیہینک ایسڈ، دیگر معمولی سیچوریٹڈ اور ان سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز۔
گلوسینولیٹس اور ان کے بریک ڈاؤن مرکبات: سینیگرن، الائل آئسو تھائیوسائینیٹ، میروسنیز اینزائم کی پیدا کردہ ثانوی مرکبات۔
بائیو ایکٹو فینولک مرکبات: سیناپک ایسڈ، کیفیک ایسڈ، فیروولک ایسڈ، کوئرسیٹن، کیمفرول۔
اینٹی آکسیڈنٹس: ٹوکوفیرولز، کیروٹینائیڈز

اثرات:
سرسوں کا تیل محرک غدد ،محلل عضلات اور مسکن اعصاب ہے۔ کاسر ریاح، ملین، مخرش، جالی اثرات رکھتا ہے۔
خواص و فوائد:
روغن سرسوں بہترین ہاضم ہے، ملین اثرات کی وجہ سے پیٹ کو نرم کرتا ہے، جسم میں صفراء کی مقدار کو بڑھاتا ہے،کاسر ریاح بھی ہے۔ روغن سرسوں کو مختلف مرہموں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ سرسوں کے تیل کا نفعِ خاص اس کی بنیادی طبی تاثیر یعنی اس کے حرارت بخش، تحلیل آور اور نفوذ پیدا کرنے والے مزاج ہے۔ سرسوں کا تیل جسم میں جمی ہوئی رطوبتوں اور مادّوں کو حرکت دے کر ان کا اخراج آسان بناتا ہے۔ اس کی فطری گرمی اور تیزی بندشوں کو کھولتی ہے، درد میں کمی لاتی ہے، خون کی روانی بہتر کرتی ہے اور ٹھنڈی و غلیظ رطوبتوں کو تحلیل کرتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ جوڑوں کے درد، جمودِ خون، بوجھل پن، سردی سے بننے والی تکالیف، بلغمی کیفیت اور کمزور دورانِ خون میں خاص فائدہ دیتا ہے۔
جدید سائنسی تحقیقات:
دل اور شریانیں، اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات
سرسوں کا تیل اپنے MUFAs اور PUFAs کی بلند مقدار کے باعث دل اور شریانوں کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ خون میں خراب چکنائی کو کم کرتا ہے، شریانوں کی سختی کو روکتا ہے اور دل کی بافتوں میں سوزش کے عمل کو کم کرنے میں معاون ہوتا ہے۔ اس میں پائے جانے والے الفا لینولینک ایسڈ جیسی مفید چکنائیاں قلبی صحت کو مضبوط بناتی ہیں۔ ساتھ ہی اس میں موجود قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس جیسے ٹوکوفیرولز اور کیروٹینائیڈز جسم کے اندر پیدا ہونے والے آزاد ریڈیکلز کے نقصان دہ اثرات کو کم کرتے ہیں، خلیوں کو تحفظ دیتے ہیں اور بڑھتی عمر کے مسائل کے خلاف مزاحمت پیدا کرتے ہیں۔
سوزش، اینٹی مائیکروبیل اثرات اور جلد کی صحت
سرسوں کے تیل میں پائے جانے والے مرکبات جیسے allyl isothiocyanate جسم میں سوزش پیدا کرنے والے عوامل کو کم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں اور جوڑوں، پٹھوں یا بافتوں کی سوزش میں آرام پہنچاتے ہیں۔ یہی مرکبات مضبوط جراثیم کش، وائرس کش اور فنگس کش خصوصیات بھی رکھتے ہیں جن کی وجہ سے یہ تیل جلد کے انفیکشن یا سطحی جراثیم کے خلاف قدرتی حفاظت فراہم کرتا ہے۔ جلد پر بیرونی استعمال سے خون کی باریک نالیوں میں گردش بہتر ہوتی ہے، جلد کو مناسب نمی ملتی ہے، اس کی لچک بحال ہوتی ہے اور مجموعی طور پر جلد کی صحت میں نمایاں بہتری محسوس ہوتی ہے۔
جسمانی درد، تنفسی نظام اور ہاضمہ
سرسوں کے تیل کی مالش جسم میں خون کی روانی کو بڑھا کر پٹھوں کے کھچاؤ، تھکاوٹ اور درد میں کمی کرتی ہے اور اعصاب کو سکون فراہم کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ اس کی گرم تاثیر اور مخصوص خوشبو سانس کی نالیوں کو کھولنے، بلغم کو پتلا کرنے اور ناک بندش میں آرام دینے میں مدد کرتی ہے، جس سے تنفسی نظام میں بہتری آتی ہے۔ ہاضمے کے حوالے سے اس کے تیز اور فعال مرکبات معدے کے رسوں کو تحریک دیتے ہیں، بھوک بہتر بناتے ہیں اور آنتوں کی حرکت کو متوازن کر کے ہاضمے کے عمل کو آسان بناتے ہیں۔
حوالہ جات: (Nutrition)۔ (botanical)۔ (سائنس ڈائریکٹ)۔ (ایم ڈی پی آئی)۔ (bionity)۔ (پی ایم سی)۔ (وکی پیڈیا)۔

مقدار خوراک:
پانچ گرام
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.





Leave a Reply