امرود
نام :
عربی میں جوافة۔ فارسی میں گواوا۔ بنگالی میں پیارا۔ ہندی میں امرود کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Guava
Scientific name: Psidium guajava
Family: Myrtle family
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| ملین، ہاضم، مفرح | پاکستان و ہندوستان | تر سرد | اعصابی عضلاتی | مقوی دماغ ، بہترین ہاضم ہے۔ |

تعارف:
امرود مشہور عام پھل ہے، جسے ہر کوئی پسند کرتا ہے،اور لوگ اس پر نمک، مرچ، لیموں چھڑک کر بھی کھاتے ہیں۔ امرود دو طرح کا ہوتا ہے: ایک سفید زردی مائل۔ جبکہ دوسرا سفید سرخی مائل۔ ان دونوں کی مزاج میں بھی فرق ہے۔ سفید زردی مائل اعصابی غدی ہے، جبکہ سفید سرخی مائل اعصابی عضلاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: السی کے بیج
یہ بھی پڑھیں: الٹ کمبل
یہ بھی پڑھیں: افیون افیم

کیمیاوی و غذائی اجزا:
کیمیائی اجزاء:
کاربوہائیڈریٹس: گلوکوز، فرکٹوز، سکرروز۔ فائبر: پیکٹین اور دیگر ریشہ جات۔ ایسڈز: ایلیجک ایسڈ، اسکوربک ایسڈ (وٹامن C)
فیٹی ایسڈز: لینیولیک ایسڈ، اولیک ایسڈ
حیاتیاتی اجزاء:
- وٹامنز: وٹامن C (اسکوربک ایسڈ)، وٹامن A، وٹامن B-complex
- منرلز: کیلشیم، پوٹاشیم، میگنیشیم، فاسفورس، آئرن
- اینٹی آکسیڈنٹس: فلاوونوئڈز، کیروٹینائڈز، لیکوپین
بائیو ایکٹو اجزاء:
- فلاوونوئڈز: کیورسیٹن، میرسیٹن، لیوٹولن
- ٹیننز: گالوٹینک ایسڈ
- فینولک کمپاؤنڈز: کیمیائی طور پر فعال جو اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی انفلیمینیٹری اثرات رکھتے ہیں
- کارٹینوائڈز: بائیٹا کیروٹین، لیکوپین، زیکسانتھین
حوالہ جات
Asian Journal of Research in Biochemistry۔ ایم ڈی پی آئی۔ فوڈریسرچ۔ پی ایم سی۔

اثرات:
امرود اعصاب میں تحریک، غدد میں تحلیل اور عضلات میں تقویت پیدا کرتا ہے۔ مفرح ہے، کچا قابض ہے جبکہ پکا ہوا ہو تو ملین بھی ہے، ہاضم، مولد رطوبات و بلغم ہے، مقوی دماغ و اعصاب ہے۔

خواص و فوائد
چونکہ امرود دو طرح کا ہوتا ہے، ایک زردوی مائل اور دوسرا سرخی مائل اس لیے دونوں کے فوائد بھی مختلف ہیں۔ زردی مائل امرودرطوبات کے ساتھ ساتھ حرارت بھی پیدا کرتا ہے۔ جبکہ سرخی مائل امرود رطوبات اور بلغم کے ساتھ ترشی اور سردی پیدا کرتا ہے جس سے بلغم غلیظ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کچا امرود عضلاتی اعصابی یعنی خشک سرد ہوتا ہےاس لیے وہ قابض ہے۔ امرود ان لوگوں کے لیے بہت مفید ہے جن میں رطوبات اور بلغم کی کمی ہو۔

یہاں یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ اعصابی غذاوں کے ساتھ پانی پینے سے اکثر ہیضہ ہو جاتا ہے، اس لیے امرود کھانے کے بعد پانی پینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
امرود قوت ہاضمہ کو تقویت دیتا ہے، خفقان دور کرتا ہے۔ امرود کی چھال کے جوشاندہ سے ورم لثہ میں غرغرے کرائے جاتے ہیں، اس کے پتوں کی راکھ جالی اثرات رکھتی ہے۔ اس کے پتے دستوں کے لیے مفید ہیں۔

جدید سائنسی تحقیقات
امرود (Psidium guajava) نہ صرف لذیذ اور غذائیت بخش پھل ہے بلکہ اس کے طبی اور سائنسی فوائد بھی نمایاں ہیں۔ جدید تحقیق نے اس کے مختلف کیمیاوی، حیاتیاتی اور بائیو ایکٹو اجزاء کی بنیاد پر کئی صحت کے فوائد ثابت کیے ہیں:
- قوت مدافعت میں اضافہ: امرود میں وٹامن C (اسکوربک ایسڈ) کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جو مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے اور جسم کو انفیکشن اور بیماریوں سے بچاتی ہے۔
- اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات: اس میں موجود فلاوونوئڈز، ٹیننز اور فینولک کمپاؤنڈز آزاد ریڈیکلز کو ختم کرتے ہیں، جس سے خلیات کی حفاظت ہوتی ہے اور عمر رسیدگی کی رفتار سست ہوتی ہے۔
- خون میں شکر کا کنٹرول: کچھ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ امرود کے پتوں اور پھل کے اجزاء انسولین کے اثر کو بڑھاتے ہیں اور خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہیں، جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
- دل کی صحت بہتر بنانا: امرود کا استعمال کولیسٹرول اور ٹرائگلیسرائیڈز کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے، جس سے دل کی بیماریوں اور ہارٹ اٹیک کے خطرات کم ہوتے ہیں۔
- ہاضمے کو مضبوط بنانا: امرود میں موجود فائبر ہاضمے کے نظام کو بہتر بناتا ہے، قبض کے مسائل کم کرتا ہے اور معدے کی صحت کے لیے مفید ہے۔
- اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی انفلیمینیٹری اثرات: امرود کے پتوں اور پھل میں موجود بائیو ایکٹو اجزاء جراثیم کش اور سوزش کم کرنے والے اثرات رکھتے ہیں، جو زخم بھرنے اور انفیکشن کے علاج میں مددگار ہیں۔
- جلد اور آنکھوں کی صحت: وٹامن A اور کیروٹینوائڈز آنکھوں کی صحت کو بہتر بناتے ہیں اور جلد کی خلیات کو نقصان سے بچاتے ہیں۔
حوالہ جات
ScienceDirect۔ PMC۔ Research Journal۔
مقدار خوراک:
بقدر ہضم
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.



Leave a Reply