املتاس
نام :
فارسی میں خیار شنبر۔ سندھی میں چہکنی۔ بنگالی میں سونڈالی۔ سنسکرت میں سورنگا کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Purging Cassia, Golden shower tree
Scientific name: Cassia fistula
Family: Legumes / Fabaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مقئی ، ملین، مسہل، دافع صفراء | ہند و پاکستان | تر گرم | اعصابی غدی | بہترین مسہل و ملین قبض کشا |

تعارف:
املتاس بلند و بالا درخت ہوتا ہے جس کا تنا زیادہ بڑا نہیں ہوتا۔ املتاس کی شاخیں ڈیڑھ فٹ لمبی ہوتی ہیں جن پر جوڑوں کی صورت پتے لگے ہوتے ہیں جو شکل میں جامن کے پتوں سے ملتے جلتے ہیں، املتاس پر پانچ پنکھڑیوں والے سنہری زرد پھول لگتے ہیں، جس سے پورا درخت نہایت خوبصورت لگتا ہے۔ان پھولوں سے لمبی لمبی پھلیاں نکلتی ہیں جن کی لمبائی ڈیڑھ دو فٹ تک ہوتی ہے، جب یہ پھلیاں پک جاتی ہیں تو ان کا رنگ بھورا ہو جاتا ہے۔ ان پھلیوں کے اندر خانے ہوتے ہیں ہیں اور ان خانوں میں صاف اور چپٹا ہوا بیضوی بھورے رنگ کا سرخی مائل سیاہ رنگ کا گودا لپٹا ہوتا ہے۔ یہی گودا اس میں سب سے کار آمد چیز ہے۔ املتاس کے پھولوں سے گلقند بھی بنائی جاتی ہے۔ ان پھلیوں میں سکے کے برابر مغز املتاس ہوتا ہے جسے مغز فلوس یا مغز شبر بھی کہتے ہیں۔ اس کے پتوں اور پھولوں کو بطور ساگ پکا کر کھایا بھی جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امڑہ
یہ بھی پڑھیں: افسنتین
یہ بھی پڑھیں: امرود

کیمیاوی و غذائی اجزا:
املتاس جسے سنہری جھومر بھی کہا جاتا ہے، ایک مشہور درخت ہے جو مختلف امراض کے علاج اور جسمانی صفائی (پرجنگ) کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس میں کئی اہم کیمیاوی، حیاتیاتی اور بائیو ایکٹو اجزا موجود ہیں جو اس کی طبی افادیت کا باعث ہیں۔
کیمیاوی اجزا (Chemical Constituents)
اینتھراکینونز (Anthraquinones): ریسین (Rhein)، کرسوفانول (Chrysophanol)، ایمرین (Emodin)
سینوسائیڈز (Sennosides): Sennoside A، Sennoside B
فلیونائڈز (Flavonoids): کایمپفرول (Kaempferol)، کوئرسیٹین (Quercetin)، لٹیسین (Luteolin)
ٹیننز (Tannins): hydrolysable tannins اور condensed tannins
فیونک ایسڈز (Phenolic acids): Gallic acid، Caffeic acid
سابوننز (Saponins): سطحی جھاگ پیدا کرنے والے حیاتیاتی اجزا

حیاتیاتی اجزا:
- پروٹینز اور امینو ایسڈز: مختلف خلیاتی افعال اور جسمانی مرمت میں مددگار
- کاربوہائیڈریٹس: توانائی فراہم کرتے ہیں اور ہاضمے کو بہتر بناتے ہیں
- فیٹس اور ضروری تیل: بیجوں میں پایا جاتا ہے، جلد اور بالوں کی صحت کے لیے مفید
حوالہ جات:
پبمیڈ۔ پی ایم سی۔ این آئی ایچ۔

منرلز
کیلشیم: 3270 mg آئرن: 0.44 mg مینگنیز: 0.14 mg زنک: 0.27 mg سوڈیم: 1.72 mg
میگنیشیم: 0.1 mg فاسفورس: 0.2 mg
وٹامنز
وٹامن سی: 19.59 mg وٹامن بی۳: 3.43 mg وٹامن ای: 2.3 mg
اثرات:
اعصابی غدی ملین اثرات کا حامل ہے، کیمیاوی طور پر خون میں کھاری پن پیدا کرتا ہے۔ مقئی ہے۔ جگر، گردوں اور غدد میں تحلیل پیدا کرتا ہے اور قلب و عضلات میں تسکین پیدا کرتا ہے۔دافع حرارت، مخرج صفراء و بلغم بھی ہے۔
خواص و فوائد
جگر، گردے کی سوزش ، ورم اور دردوں میں مفید ہے، نقرس کی بیماری بھی بے خطا دوا ہے۔املتاس نہایت ہی لطیف ملین اور مسہل ہے۔ یہ تمام فوائد املتاس کے گودے کے ہیں اور یہی خواص اس کے پوست کے بھی ہیں البتہ پوست میں رطوبت کی کمی ہوتی ہے۔ املتاس ایسا لطیف مسہل اور ملین ہےجو حاملہ عورتوں اور بچوں کو بھی دیا جاسکتا ہے۔
جدید سائنسی تحقیقات
- املتاس میں موجود سینیوسائیڈز اور اینتھراکینونز ہلکا لاکسٹیو اثر دیتے ہیں، جس سے قبض دور ہوتی ہے اور آنتوں کی صفائی ہوتی ہے۔
- اینٹی آکسیڈنٹ اجزا جیسے فلیونائڈز اور اینتھراکینونز جسم سے زہریلے مادے خارج کرنے میں مدد دیتے ہیں اور جگر کی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔
- املتاس میں موجود بعض اجزا جراثیم، فنگس اور بیکٹیریا کے خلاف مؤثر ہیں، جس سے انفیکشن کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
- فلیونائڈز اور دیگر بایواکٹو مرکبات سوزش اور درد میں کمی کرتے ہیں، جو جوڑوں کے درد اور سوزشی امراض میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
- املتاس میں موجود اینتھراکینونز اور فلیونائڈز خلیات کو آزاد ریڈیکلز سے بچاتے ہیں، جس سے عمر رسیدگی کے اثرات کم ہوتے ہیں اور مدافعتی نظام مضبوط رہتا ہے۔
حوالہ جات: این آئی ایچ۔ Phytojournal۔ Zenodo۔
مقدار خوراک:
گودا 20 سے پچاس گرام۔ پوست دو سے پانچ گرام
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.



Leave a Reply