
آکاس بیل افتیمون
- September 15, 2024
- 0 Likes
- 704 Views
- 0 Comments
آکاس بیل افتیمون
نام :
آکاس بیل/ افتیمون
فارسی میں درخت پیچاں۔ عربی میں افتیمون۔ ہندی میں آکاش بیل۔ گجراتی میں امربیل بیل کہتے ہیں۔اردو میں ایک نام عشق پیچاں بھی ہے۔اس کے بیج کو تخم کثوث کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ)
نام انگلش:
Name: Love vine
Scientific name: Cassytha filiformis
Family: Lauraceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| محرک جگر، مولد صفراء، ملین، مسہل، کاسر ریاح | پاکستان اور ہندوستان | گرم خشک۔ گرم تیسرے درجے میں خشک پہلے | غدی عضلاتی | سوداوی مادوں کا اخراج |

تعارف:
یہ ایک بیل ہے، جس کے بظاہر پتے بھی نہیں ہوتے، لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو چھال کی طرح بہت معمولی پتے ہوتے ہیں۔ اس بیل کی جڑیں نہیں ہوتیں، یعنی اس کا تعلق زمین کے ساتھ نہیں ہوتا، یہ صرف درخت پر ہی پھیلتی ہے، اور پورے درخت کو ڈھانپ لیتی ہے، اپنی خوراک درخت کا رس چوس کر حاصل کرتی ہے، اور کچھ عرصہ بعد درخت سوکھ جاتا ہے۔

اگر اس کی ایک ٹہنی توڑ کر کسی درخت پر ڈال دیں تو یہ خود بخود اس پر پھیل جائے گی۔ یہ ایک طفیلی پودا ہے یعنی دوسروں پر انحصار کرنے والا مطلبی ، انگریزی میں لووین، یعنی محبت کی بیل کہا جاتا ہے، اور اردو میں اس کا ایک نام عشق پیچاں بھی ہے، یہ نام اس لیے ہیں کہ یہ درخت پر ایسے لپٹ جاتی ہے جیسے کوئی محبت کرنے والا اپنے محبوب سے لپٹ جاتا ہے، اور پھر اس عشق میں اسے ختم کر دیتا ہے۔

اس کی کئی اقسام ہیں کسی کی ٹہنیاں موٹی اور کسی کی بہت باریک ہوتی ہیں، باریک والی کو زیادہ موثر اور مفید سمجھا جاتا ہے۔اس کے ساتھ گچھے دار پھول لگتا ہے جس میں چار بیج ہوتے ہیں، اس کے بیجوں کو تخم کثوث کہتے ہیں اور یہ بھی بطور دوا استعمال ہوتے ہیں۔

کیمیاوی و غذائی اجزا:
الکالوئڈز
کاسی تھائن (Cassythine) کاسی فیلین (Cassyfiline) نیولیٹسین (Neolitsine) ڈائسینٹرین (Dicentrine)
ایکٹینوڈافنین (Actinodaphnine) پری ڈائسینٹرین (Predicentrine) اوکوٹین (Ocoteine)
آئیسو فیلی فارمین (Isofiliformine) سیلوتارڈین (Salutaridine)
فلیونوئڈز
کوئیرسیٹن (Quercetin) آئیسو ہیمنٹن (Isohamnetin) آئیسو ہیمنٹن گلائیکوسائیڈز (Isohamnetin glycosides)
فینولک مرکبات
فینولک ایسڈز (Phenolic acids) فینولک کمپاؤنڈز (Phenolic compounds)
فلیونوئڈ گلائیکوسائیڈز (Flavonoid glycosides) ٹرپینوئڈز (Terpenoids) نباتاتی سٹیرائڈز (Phytosterols)
ساپوننز (Saponins) ٹیننز (Tannins)
نامیاتی تیزاب اور دیگر اجزا
اوکسیلیٹس (Oxalates) فائٹیٹ (Phytate) نامیاتی تیزاب (Organic acids) قدرتی شکر (Natural sugars) ۔

اثرات:
غدد میں تحریک شدید پیدا کرتی ہے ، عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تسکین پیدا کرتی ہے۔ صفراء کو نہ صرف بڑھاتی ہے بلکہ اس کا خراج بھی کرتی ہے۔ اس میں گندھک کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔ اس کے بیج سودا کے لیے مسہل ہیں۔ محرک جگر و غددہے، بہترین ملین و مسہل سودا ہے، محلل و مخرج سودا ہے۔ مدر حیض، منقی رحم ہے، کاسر ریاح بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: Myrtle آس
یہ بھی پڑھیں: تاثیر اور درجات تاثیر
یہ بھی پڑھیں: جڑی بوٹیاں لسٹ
خواص و فوائد
اگر سودا بگڑ جائے اور بہت گاڑھا ہو جائے تو اس سے بھی دماغی امراض پیدا ہوتے ہیں، ایسے میں آکاش بیل ایک بھروسے کی دوا ہے، یہ سودا کا اخراج کرے گی جس سے دماغی امراض میں فائدہ ہوگا۔ اسی طرح عضلاتی فالج، لقوہ، تشنج اور نقرس کے لیے بہت مفید ہے۔ دانے پھوڑے، سوزش اور ورموں کو تحلیل کرنے کے لیے بہت بہترین چیز ہے۔ بیرونی طور پر پھوڑے پھنسیوں اور دردوں پر باریک کرکے آگ پر پکائیں اور پھر لگائیں۔

جدید سائنسی تحقیقات
افتیمون آکاس بیل ایک قدیم جڑی بوٹی ہے جسے مختلف خطوں میں روایتی طور پر کمزوری، درد اور سوزش جیسے مسائل میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جدید سائنسی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس پودے میں پائے جانے والے قدرتی اجزا جسم کے اندر خون کی نالیوں کو نرم کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے خون کا بہاؤ بہتر ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے دل اور دوران خون سے متعلق مسائل کے حوالے سے سائنسی دلچسپی حاصل ہوئی ہے، اگرچہ یہ اثرات اب تک زیادہ تر تجرباتی سطح پر ثابت ہوئے ہیں۔
تحقیقی مطالعوں کے مطابق افتیمون آکاس بیل کے بعض اجزا جسم میں زخم بھرنے کے عمل کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ تجربات میں دیکھا گیا ہے کہ اس کے عرق سے جلد کے خلیات کی بحالی بہتر ہوئی اور زخم کے سکڑنے کا عمل تیز ہوا۔ اسی بنیاد پر روایتی طب میں اسے بعض اوقات بیرونی زخموں اور جلدی تکالیف میں استعمال کیا جاتا رہا ہے، تاہم انسانی سطح پر اس کے مکمل طبی فوائد پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
سائنسی تحقیقات نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ افتیمون آکاس بیل میں پیشاب آور خصوصیات پائی جاتی ہیں، یعنی یہ جسم سے فاضل پانی اور نمکیات کے اخراج میں مدد دے سکتی ہے۔ اسی طرح اس کے کچھ اجزا میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات دیکھی گئی ہیں، جو جسم کو نقصان دہ مادوں سے بچانے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ مجموعی طور پر افتیمون آکاس بیل ایک ایسی جڑی بوٹی ہے جس کے روایتی فوائد کو جدید سائنس نے ابتدائی طور پر درست ثابت کیا ہے، مگر اسے باقاعدہ دوا کے طور پر استعمال کرنے سے پہلے مستند طبی رہنمائی ضروری ہے۔
حوالہ جات:
(پب میڈ)۔ https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/12451500/
(این سی بی آئی)۔ https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/18217715/
(جرنل آف نیونیٹل سرجری)۔ https://jneonatalsurg.com/index.php/jns/article/view/5964
(سپرِنجر لنک)۔ https://link.springer.com/article/10.1007/s44187-025-00682-2
مقدار خوراک:
تین سے پانچ گرام
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply