
دار ہلد / سمبلو / سنبل
نام :
عربی میں حزاز۔ فارسی میں دار چوبہ۔ پاکستان اور انڈیا میں اسی کو سُمبل، سمل ،سنبل، سُمبلو یا سُملو کہتے ہیں۔ پشتو میں اسے زیڑ لڑگے۔بلوچستان میں زرل، کورئے۔ اور ہندی میں दारुहल्दी کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Barberry
Scientific name: Berberis aristata
Family: Berberidaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| پسینہ آور، مصفیٰ خون، دافع بخار، حابس ، مسکن درد | ہند و پاکستان | خشک سرد | عضلاتی اعصابی | بلغمی امراض |

تعارف:
دار ہلد، سمبل ایک کانٹوں والی جھاڑی ہے جو زیادہ تر ہمالیہ کے پہاڑی علاقوں میں، نیپال، کشمیر، ہزارہ اور بھارت کے شمالی حصوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کی اونچائی عموماً 2 سے 3 میٹر تک ہوتی ہے۔اس کی چھال پیلی مائل بھوری، سخت اور لکڑی دار۔ اور پتے چھوٹے، بیضوی یا لمبوتری شکل کے، کنارے دندانے دار اور سبز رنگ کے ہوتے ہیں جبکہ اس کے پھول چھوٹے، زرد رنگ کے، خوشبودار خوشے کی صورت میں نکلتے ہیں۔اور اس کا پھل گول یا بیضوی، سرخ رنگ کے بیری نما،پکنے پر کالے رنگ کے جن کے اندر خون کی طرح سرخ پانی ہوتا ہے، ذائقہ میں چھال اور جڑ بہت کڑوی، جبکہ پھل کھٹے میٹھے اور قابض مزاج کے۔

دار ہلد یعنی سمبلو یونانی، آیورویدک اور طبِ نبویؐ میں مستعمل دوا ہے۔ اس کے پھل، جڑ اور چھال کو مختلف امراض میں استعمال کیا جاتا ہے۔ جڑ اور چھال میں موجود پیلا رنگ berberine alkaloid کی وجہ سے ہے جو اسے خاص طبی اہمیت بخشتا ہے۔ اس کا استعمال صدیوں سے جگر، معدہ، آنکھوں اور جلد کے امراض میں ہوتا رہا ہے۔ عام طور پر زیادہ تر اس کی جڑ کا چھلکا ہی بطور دوا استعمال ہوتا ہے۔دارہلد کا عصارہ بنایا جاتا ہے جسے رسونت کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دار چینی
یہ بھی پڑھیں: دار چکنا
یہ بھی پڑھیں: داد مردن / داد بوٹی

وضاحتی نوٹ:
پاک و ہند میں “سُمبل” نام کا ایک نہایت بڑا درخت (سائنسی نام دراصل Bombax ceiba)بھی پایا جاتا ہے جس پر موسمِ بہار میں سرخ رنگ کے بڑے بڑے خوشنما پھول کھلتے ہیں۔ بعد ازاں اس پر روئی یا اُون سے مشابہ نہایت نرم ریشے دار غلاف (کپاس نما پھاہے) پیدا ہوتے ہیں جنہیں تکیے اور گدّوں میں بھرا جاتا ہے۔ اس درخت کا تعلق “دارہلد سمبلو” (Berberis aristata) نامی جھاڑی سے بالکل نہیں ہے۔ دونوں پودوں کے نام کی مماثلت کی وجہ سے اکثر عوام میں غلط فہمی پائی جاتی ہے۔

کیمیاوی و غذائی اجزا:
الکلائیڈز (Alkaloids)
بیربرین (Berberine) اوکسی کانتھین (Oxyacanthine) پالمیٹین (Palmatine)
جارین (Jatrorrhizine) میگنی فیرین (Magnoflorine)
فینولک مرکبات (Phenolic Compounds)
فلیوونائڈز (Flavonoids) ٹیننز (Tannins) فینولک ایسڈز (Phenolic acids)
دیگر اجزاء
وٹامن سی، ضروری تیل (Volatile oils)، ریزنز (Resins)، گمز (Gums)، معدنیات (کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم، آئرن وغیرہ)

اثرات:
دار ہلد یعنی سمبل عضلات میں تحریک، اعصاب میں تحلیل اور غدد میں تسکین پیدا کرتا ہے۔ پسینہ آور، مصفیٰ خون، دافع بخار، حابس ، مسکن درد اثرات کا حامل ہے۔
اہم سوال
سوال: دار ہلد/سنبل (Berberis Aristata) کا مزاج عضلاتی اعصابی ہے جو سوداء کو بڑھاتا ہے، جبکہ اس کا عصارہ رسونت کا مزاج غدی اعصابی ہے جو سوداء کو ختم کرتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی چیز اپنی اصل حالت میں ایک مزاج رکھتی ہو، مگر اس کا عصارہ نکالنے پر بالکل الٹ مزاج (سوداء بڑھانے کے بجائے سوداء کو تحلیل کرنے والا) اختیار کر لے؟
جواب: یہ بالکل ممکن ہے اور طب کی رو سے درست ہے، غلطی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خام دار ہلد میں نامیاتی تیزاب،اسٹرکچر فائببرز، فلاوونائیڈز،بیربامین،اوکسی کینتھین، فینولک مرکبات، ٹیننز،مومی مادّے اور چند ایسے الکلائیڈز پائے جاتے ہیں جو قابض، حابس، مجفف اثرارت رکھتے اور سوداء میں اضافہ کرتے ہیں، اس لیے اس کا مزاج عضلاتی اعصابی قرار پایا۔ لیکن جب دار ہلد کو پانی میں ابال کر رسونت تیار کی جاتی ہے تو فائبر، نامیاتی تیزاب،اسٹرکچر فائببرز، فلاوونائیڈز،بیربامین،اوکسی کینتھین، فینولک مرکبات، ٹیننز،ویکس اور قابض مادّے الگ ہو جاتے ہیں، کیونکہ کچھ پانی میں حل پذیر نہیں ہوتے اس لیے وہ پانی سے الگ رہ جاتے ہیں اور عصارے کا حصہ نہیں بنتے اور صرف مخصوص حل پذیر الکلائیڈزخصوصاً بربرین، جٹوریزین، پالمیٹین اپنی دگنی طاقت کے ساتھ رہ جاتے ہیں جو صفراء کھول کر، رکاوٹیں تحلیل کر کے، غدّی نظام کو تحریک دے کر اور سوداء کو گھلا کر خارج کرتے ہیں۔ یوں رسونت کی کیمیائی ساخت بدل جانے سے اس کا مزاج بھی بدل جاتا ہے۔

خواص و فوائد
دار ہلد امراض چشم میں بہت مفید ہے، حابس رطوبات ہونے کی وجہ سے آشوب چشم، سوزش آنکھ کو تسکین دیتی ہے، اس کے علاوہ ہر قسم کی اعصابی سوزش کے لیے مفید ہے، جس میں رطوبتی پھوڑے، پھنسیاں شامل ہیں، اسی لیے اسے مصفی خون بھی کہا جاتا ہے۔ پسینہ آور ہونے کی وجہ سے موسمی بخاروں میں بہت مفید ہے، اس مقصد کے لے اس کی جڑ کا جوشاندہ پلایا جاتا ہے، جس سے پسینہ آکر بخار اتر جاتا ہے۔ دارہلد جوڑوں میں رکی ہوئی رطوبات کو بھی خارج کر دیتی ہے جس سے گنٹھیا اور جوڑوں کا درد ختم ہو جاتا ہے۔دارہلد کی ایک خوبی یہ ہے کہ جسم کے جس حصے میں چوٹ لگ جائے وہاں لگانے سے یہ ورم نہیں ہونے دیتی اور خون جمنے نہیں دیتی، اسی لیے یہ اسے محلل اورام بھی کہا جاتا ہے۔حابس و قابض ہونے کی وجہ سے اسہال، قے، اور دیگر بلغمی امراض میں اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

جدید سائنسی و تحقیقی فوائد
دار ہلدی جگر اور لبلبے کے امراض، جلدی انفیکشن، ذیابیطس اور آنکھ کی سوزش (Conjunctivitis) کے علاج میں مفید ہے، سائنسی تحقیقات سے ثابت شدہ فوائد مندرجہ ذیل ہیں:
- اینٹی مائیکروبیل: بیربرین بیکٹیریا، وائرس اور فنگس کے خلاف مؤثر پایا گیا ہے۔
- اینٹی ڈائریئل: اس کی چھال اور جڑ دست اور آنتوں کے انفیکشن میں کارآمد۔
- جگر کے امراض: ہیپاٹائٹس اور جگر کی سوجن میں فائدہ مند۔
- اینٹی ڈائیابیٹک: خون میں شکر کی سطح کو کم کرنے میں مددگار۔
- اینٹی انفلامیٹری: سوجن اور درد کو کم کرنے میں مؤثر۔
- دل و فشارِ خون: بیربرین خون کی شریانوں کو کھول کر بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
- آنکھوں کے امراض: آشوب چشم اور آنکھوں کے انفیکشن میں روایتی طور پر اس کا سفوف اور عرق استعمال ہوتا ہے۔
- اینٹی آکسیڈینٹ: جسم سے فری ریڈیکلز کو خارج کرکے خلیوں کو نقصان سے بچاتا ہے۔
حوالہ: نیشنل لائبریری آف میڈیسن امریکا۔

مقدار خوراک:
دو سے تین گرام


Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply