
انزروت
- October 30, 2024
- 0 Likes
- 716 Views
- 0 Comments
انزروت
نام :
عربی میں غزروت، سائلہ۔ فارسی میں انجدک، کدرو۔سندھی میں گون۔ ہندی میں لائی کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Sarcocolla
Scientific name: Astragalus sarcocolla
Family: Legumes
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مسہل | زیادہ تر ایران | گرم خشک درجہ دوم | غدی عضلاتی | اندمال زخم، یعنی زخموں کو بھرتا ہے۔ |

تعارف:
انزروت ایک خارد دار جھاڑی نما پودے کا گوند ہے، اس کا پودا چار سے چھ فٹ اونچا ہوتا ہے،اس پودے کے کانٹے اس کے پتوں سے زیادہ لمبے ہوتے ہیں۔پتے چھوٹے مگر موٹے ہوتے ہیں۔ پتوں اور کانٹوں کے بیچوں بیچ اس کے پھول نکلتے ہیں جو سرخ جامنی رنگ کے غباروں کی طرح ہوتے ہیں،
انزروت سے ایک سیال نکلتا ہے جو جم کر گوند کی شکل اختیار کر لیتا ہے، اسی گوند کو انزروت کہتے ہیں۔ ذائقے میں یہ گوند انتہائی کڑوی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:انڈہ مرغی
یہ بھی پڑھیں: اندرائن، تمہ، حنظل
یہ بھی پڑھیں: اندر جو ، کڑا سک ، کڑا چھال

کیمیاوی و غذائی اجزا:
پولِسَکریڈز (Polysaccharides) سَپونِنز (Saponins) فلیووونوئڈز (Flavonoids)
الکالوئڈز (Alkaloids) ٹیرپینوئڈز (Terpenoids) سٹیرولز (Sterols)
ٹیننز (Tannins) کلورو جینِک ایسڈ (Chlorogenic Acid) فرولِک ایسڈ (Ferulic Acid)
سِننامِک ایسڈ (Cinnamic Acid)


اثرات:
جالی، قوی، مسہل بلغم، کاسر ریاح، مغری، مجفف،مانع جراثیم، مسَکن الم۔ زہریلا ہے

خواص و فوائد
انزروت کو زخموں پر لگانے سے زخم جلدی ٹھیک ہو جاتے ہیں، پھوڑے پھنسی، کیل مہاسے پر لگانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ مسہل بلغم ہونے کی وجہ سے وجع المفاصل اور عرق النساء میں مفید ہے۔ کاسر ریاح ہونے کی وجہ سے گیس کے اخراج میں مفید ہے۔ مغری و مجفف ہونے کی وجہ سے زخموں کے ادویات اور مرہموں میں استعمال ہوتا ہے۔ مسکن الم ہونے کی وجہ سے دردوں سے نجات خاص طور پر کان درد میں مفید ہے۔
اہم نوٹ: انزروت کا اندرونی استعمال بہت معمولی مقدار میں کیا جاتا ہے کیونکہ یہ زہریلی گوند ہے موت کا خطرہ ہے، البتہ بیرونی استعمال بلا خوف و خطر کیا جاتا ہے۔اندرونی استعمال کی صورت میں روغن بادام اس سے تین چار گنا زیادہ پی لیں۔
جدید سائنسی تحقیقات
Sarcocolla رال قبض دور کرنے اور معدے کی سوزش کم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ جِلْدی زخم، جَلدی خراش اور جَلدی انفیکشن میں فائدہ مند ہے۔ رال کو پیسٹ کی شکل میں لگانے سے سوزش کم ہوتی ہے اور زخم جلد بھرتے ہیں۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رال کچھ بیکٹیریا اور فنگس کے خلاف سرگرم ہے، اس لیے انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے میں استعمال ہوتی رہی ہے۔
روایتی طور پر یہ کھانسی، زکام اور بلغم کے مسائل میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ بلغم کو پتلا کر کے سانس لینے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس میں موجود سَپونِنز اور پولِسَکریڈز مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ Sarcocolla میں پائے جانے والے فلیووونوئڈز اور سَپونِنز جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مددگار ہیں، جس سے جوڑوں اور دیگر سوزش زدہ حصوں کے درد میں راحت مل سکتی ہے۔
مقدار خوراک:
نصف سے ایک گرام۔ دس گرام تک مہلک ہے۔
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply