
اُٹنگن کے بیج
نام :
فارسی میں انجرہ۔ عربی میں القریض۔ گجراتی میں اوٹنگن۔ مرہٹی میں کرڈو کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: blepharis edulis seeds
Scientific name: Blepharis Edulis Pers
Family: Acanthaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مغلظ منی، مقوی اعصاب | جنوبی مغربی ہندوستان | تر گرم | اعصابی غدی | مغلظ منی |

تعارف:
یہ پودا عام طور پر خشک اور دھوپ والے علاقوں میں اگتا ہے۔ اس کے چھوٹے کانٹے دار پتے اور خوشبودار پھول ہوتے ہیں۔ جب یہ پھول سوکھ جاتے ہیں تو ان سے چھوٹے براؤن رنگ کے بیج نکلتے ہیں جو ہلکے چمکدار ہوتے ہیں۔ انہی بیجوں کو دوائی میں استعمال کیا جاتا ہے۔تخم اٹنگن Blepharis edulis کے بیج عموماً چھوٹے، گول یا دل کی شکل کے ہوتے ہیں۔ ان کا رنگ بھورا یا کبھی کبھار سیاہ مائل بھورا ہوتا ہے۔ یہ بیج پھل کے چھوٹے چھلکوں میں بند ہوتے ہیں جو خشک ہونے پر خود بخود کھل جاتے ہیں۔ تخم اٹنگن یعنی اٹنگن کے بیج بطور دوا استعمال ہوتے ۔

یہ بھی پڑھیں: ابہل
یہ بھی پڑھیں: ابرک
یہ بھی پڑھیں: ابریشم

کیمیاوی و غذائی اجزا:
بیجوں میں الکلائیڈ مواد سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔
فی 100 گرام خشک پودے میں:
وٹامنز:
وٹامن سی (ایسکوربک ایسڈ): ~ 15-20 ملی گرام۔ وٹامن ای (ٹوکوفیرولز): ~ 5-7 ملی گرام
اس کے علاوہ وٹامنز بی1،2،6 کی معمولی مقدار بھی پائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آلو بالو/ چیری
معدنیات:
کیلشیم 150-250 ملی گرام آئرن 8-12 ملی گرام میگنیشیم ~50-80 ملی گرام
پوٹاشیم300-450 ملی گرام فاسفورس: 20-40 ملی گرام زنک 0.8-1.5 ملی گرام کاپر 0.2-0.4 ملی گرام

حیاتیاتی یا غذائی اجزاء:
فلاوونائڈز: ~50-70 ملی گرام الکلائڈز: ~ 10-20 ملی گرام سیپوننز: ~30-50 ملی گرام
ٹیننز: ~40-60 ملی گرام فینولک مرکبات: ~50-70 ملی گرام غذائی ریشہ: ~20-30 گرام
پروٹین: ~5-8 گرام کاربوہائیڈریٹ: ~30-40 گرام

اثرات:
اعصاب میں تحریک، غدد میں تحلیل اور عضلات میں تسکین پیدا کرتا ہے۔

خواص و فوائد
اٹنگن کے بیجوں میں رطوبات کو جذب کرنے کی صلاحیت ہے، اس لیے سرعت انزال اور سیلان الرحم میں مفید ہے۔ اعصاب کو تقویت دیتا ہے، اور غدد کی سوزش کو دفع کرتا ہے۔ مغلظ منی ہے۔گردو کی سوزش اور پیشاب کی جلن میں مفید ہے۔

اٹنگن کے بیج کو کان درد کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جانوروں کے دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے اٹنگن انہیں کھلایا جاتا ہے۔ اس کی جڑیں پیشاب کے اخراج کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ جبکہ اس کا پاؤڈر جنسی اعضاء کے انفیکشن اور جلے ہوئے عضو پر لگایا جاتا ہے۔

مختلف ممالک میں روائتی طب میں اس کے مندرجہ ذیل فوائد بیان کیے گئے ہیں: سانس کے مسائل جیسے دمہ اور کھانسی کا علاج۔ ہضم کی خرابیوں کا انتظام کرنا جیسے بدہضمی، اسہال، اور پیچش۔ مردوں اور عورتوں دونوں میں تولیدی صحت کو بڑھانا۔ زخموں اور جلد کے انفیکشن کو ٹھیک کرنا۔ سوزش کو کم کرنا اور ینالجیسک کے طور پر کام کرنا۔
جدید سائنسی تحقیقات
اٹنگن Blepharis edulis جیسے پودے صدیوں سے روایتی علاج میں مفید مانے جاتے ہیں، ان میں سوجن کم کرنے، زخم بھرنے، اور جسم کو طاقت دینے والے قدرتی اجزا پائے جاتے ہیں۔ لیکن ابھی سائنسی طور پر ان کے اثرات کو مکمل طور پر ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔اٹنگن میں مختلف مفید مادے پائے گئے ہیں:
- فلیوونائڈز (قدرتی رنگ دار مادے جو جسم کو طاقت دیتے ہیں)
- الکالائیڈز (دوائیوں جیسے اثر رکھنے والے مادے)
- فینولک ایسڈز (سوجن اور انفیکشن کم کرنے والے مادے)
- پلانٹ اسٹیرولز اور ہائیڈروکسامک ایسڈز (جو جسم کے خلیوں کو مضبوط کرتے ہیں)
حوالہ۔ پی ایم سی۔
مقدار خوراک:
تین سے پانچ گرام

Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply