
سیپ
نام :
عربی میں صدف، فارسی میں گوش ماہی۔ سندھی میں سپ۔ اور ہندی میں ऑयस्टर शेल کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Oyster Shell
Scientific name: Ostrea edulis / Crassostrea gigas
Family: Ostreidae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مجفف، حابس، رادع، قابض، مولد سوداء | ہند و پاک | خشک سرد درجہ دوم | عضلاتی اعصابی | کیلشیم کے حصول کا ذریعہ ہے۔ |

تعارف:
سیپ سمندر میں پائے جانے والے اویسٹر (سیپی) کا سخت بیرونی خول ہے، جو قدرتی طور پر کیلشیم کاربونیٹ سے بنا ہوتا ہے۔ اس کا رنگ عموماً سفید، سرمئی، ہلکا بھورا یا زرد مائل سفید ہوتا ہے جبکہ بیرونی سطح کھردری، ناہموار اور تہہ دار دکھائی دیتی ہے۔ اندرونی سطح نسبتاً ہموار، چمکدار اور موتی جیسی سفید یا کریم رنگ کی ہوتی ہے۔ اس کی شکل مکمل طور پر گول نہیں ہوتی بلکہ بے قاعدہ، چپٹی یا قدرے خمیدہ ہوتی ہے، کیونکہ اویسٹر چٹانوں یا دوسری سخت سطحوں سے چپک کر بڑھتا ہے۔ پرانا خول کافی سخت، بھاری اور مضبوط ہوتا ہے اور توڑنے پر اس کے اندر سفید چونے جیسا مادہ نظر آتا ہے۔
سیپی دراصل اویسٹر نامی سمندری دو خول والے نرم جانور کا قدرتی بیرونی ڈھانچہ ہے، جو اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کا بنیادی جزو کیلشیم کاربونیٹ (Calcium Carbonate) ہے، جو خول کے وزن کا تقریباً 95 فیصد یا اس سے بھی زیادہ حصہ بناتا ہے، جبکہ باقی مقدار میں میگنیشیم، فاسفورس، سوڈیم، پوٹاشیم اور دیگر معدنیات پائی جاتی ہیں۔ یونانی، آیورویدک اور روایتی طب میں سیپی کو صاف کرکے، جلا کر یا مخصوص طریقے سے تیار کرکے بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیب
یہ بھی پڑھیں: سہانجنہ
یہ بھی پڑھیں: سہاگہ

کیمیاوی و غذائی اجزا:
کیلشیم کاربونیٹ (Calcium Carbonate) کیلشیم (Calcium) کاربونیٹ آئن (Carbonate Ion)
کیلکائٹ (Calcite) اراگونائٹ (Aragonite) میگنیشیم (Magnesium) فاسفورس (Phosphorus)
سوڈیم (Sodium) پوٹاشیم (Potassium) آئرن (Iron) مینگنیز (Manganese) زنک (Zinc)
کاپر (Copper) اسٹرونشیئم (Strontium) سلیکان (Silicon) ایلومینیم (Aluminium)
نامیاتی میٹرکس پروٹینز (Organic Matrix Proteins) کونکیولن پروٹین (Conchiolin Protein)
شیل میٹرکس پروٹینز (Shell Matrix Proteins) گلائیکوپروٹینز (Glycoproteins)
پولی سیکرائیڈز (Polysaccharides) امینو ایسڈز (Amino Acids)
بایو ایکٹو پیپٹائیڈز (Bioactive Peptides) کاربوہائیڈریٹس (Carbohydrates، نہایت قلیل مقدار)
لپڈز (Lipids، نہایت قلیل مقدار)
اثرات:
سیپی عضلات میں تحریک، اعصاب میں تحلیل اور غدد میں تسکین پیدا کرتی ہے، کیمیاوی طور پر خون میں کھاری پن کے ساتھ گاڑھا پن اور سوداویت کی پیدائش بڑھ جاتی ہے۔مجفف، حابس،رادع، قابض، مولد سوداء اثرات کی حامل ہے۔
خواص و فوائد:
سیپ مجفف اور ھابس رطوبات ہونے کی وجہ سے سنونات میں شامل کیا جاتا ہے، دانتوں اور مسوڑھوں کو قوی کرتی ہے اور سیلان خون کو روکتی ہے۔ کشتہ صدف کیلشیم کا قائم مقام ہے، یہی وجہ ہے اسے سپرو و اسہال بند کرنے نزف الدم اور دیگر تکالیف میں استعمال ہوتا ہے۔عضلاتی محرک ہونے کی وجہ سے جلاپہ ہرڑ کے ساتھ ملا کردینے سے بذریعہ دست بلغم کا اخراج ہو جاتا ہے، چیچک، خسرہ ، کے لیے صدف مرواریدی کا کشتہ نہایت مفید ہے۔
جدید سائنسی تحقیقات:
جدید سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اویسٹر شیل قدرتی طور پر کیلشیم کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس میں موجود کیلشیم کاربونیٹ جسم میں کیلشیم کی کمی کو پورا کرنے، ہڈیوں کو مضبوط بنانے اور دانتوں کی صحت برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اویسٹر شیل سے حاصل شدہ کیلشیم کو مختلف غذائی سپلیمنٹس میں استعمال کیا جاتا ہے، خصوصاً ایسے افراد کے لیے جنہیں آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کی کمزوری)، بڑھتی عمر یا کیلشیم کی کمی کا سامنا ہو۔
حالیہ برسوں میں اویسٹر شیل پر بایومیڈیکل اور ٹشو انجینئرنگ کے میدان میں بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس سے تیار کردہ نینو کیلشیم اور ہائیڈروکسی ایپیٹائٹ (Hydroxyapatite) ہڈیوں کی مرمت، دانتوں کے امپلانٹس اور ہڈیوں کے متبادل مواد (Bone Grafts) کی تیاری میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ بعض تجرباتی مطالعات میں اویسٹر شیل سے تیار کردہ بایومیٹیریلز نے ہڈی بننے کے عمل کو بہتر بنانے اور زخم بھرنے میں مثبت نتائج دکھائے ہیں، تاہم ان میں سے کئی استعمالات ابھی تحقیق اور طبی آزمائشوں کے مراحل میں ہیں۔
اس کے علاوہ اویسٹر شیل میں موجود قدرتی معدنیات اور نامیاتی اجزاء پر بھی تحقیق جاری ہے۔ بعض تجرباتی مطالعات کے مطابق یہ اجزاء اینٹی آکسیڈنٹ، سوزش کم کرنے اور خلیوں کی نشوونما میں معاون خصوصیات رکھتے ہیں، لیکن ان اثرات کی مکمل تصدیق کے لیے مزید معیاری انسانی مطالعات کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے اویسٹر شیل کو ایک امید افزا قدرتی معدنی ذریعہ سمجھا جاتا ہے، مگر اسے کسی بیماری کے مستقل علاج کے طور پر نہیں بلکہ طبی ماہر کے مشورے کے مطابق ہی استعمال کرنا چاہیے۔
حوالہ جات:
| https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC9208005/ | |
| https://pubchem.ncbi.nlm.nih.gov/compound/Oyster-shell-calcium-carbonate_-crude | |
| https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/17834841/ |

مقدار خوراک:
آدھا گرام



Leave Your Comment