سیب
نام :
عربی میں تفاح، سندھی میں سوف اور ہندی میں सेबکہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Apple
Scientific name: Malus domestica
Family: Rosaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مفرح قلب | ہند و پاک | خشک سرد | عضلاتی اعصابی | مقوی قلب |

تعارف:
سیب ایک معروف پھل دار درخت کا پھل ہے جو عموماً گول یا قدرے بیضوی شکل کا ہوتا ہے۔ اس کا رنگ قسم کے لحاظ سے سرخ، سبز، زرد یا ان رنگوں کے امتزاج پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ پھل کی بیرونی سطح ہموار، چمکدار اور باریک چھلکے والی ہوتی ہے۔ گودا سفید یا ہلکا کریمی رنگ کا، رسیلا، خوشبودار اور میٹھا یا ہلکا ترش ذائقہ رکھتا ہے۔ پھل کے وسط میں بیجوں کا خانہ ہوتا ہے جس میں عموماً 5 سے 10 بھورے رنگ کے بیج پائے جاتے ہیں۔
سیب دنیا کے قدیم ترین اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پھلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا درخت درمیانے قد کا ہوتا ہے اور معتدل آب و ہوا میں بہترین نشوونما پاتا ہے۔ اس کی کاشت دنیا کے بیشتر ممالک میں کی جاتی ہے، جبکہ پاکستان میں بالخصوص بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر کے بعض علاقوں میں عمدہ اقسام پیدا ہوتی ہیں۔
سیب نہ صرف ذائقے اور غذائیت کے اعتبار سے اہم ہے بلکہ روایتی اور جدید طب دونوں میں اس کو صحت بخش غذا سمجھا جاتا ہے۔ اس میں قدرتی شکر، غذائی ریشہ، وٹامنز، معدنیات اور مختلف نباتاتی مرکبات پائے جاتے ہیں جو جسم کی عمومی صحت برقرار رکھنے میں معاون سمجھے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے سیب کو روزمرہ خوراک میں شامل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور یہ دنیا بھر میں “صحت بخش پھل” کے طور پر مشہور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہانجنہ
یہ بھی پڑھیں: سہاگہ
یہ بھی پڑھیں: سوئے / سویا

کیمیاوی و غذائی اجزا:
کاربوہائیڈریٹس
فرکٹوز (Fructose) گلوکوز (Glucose) سکروز (Sucrose) نشاستہ (Starch) پیکٹین (Pectin)
غذائی ریشہ (Dietary Fiber)
نامیاتی تیزاب (Organic Acids)
مالک ایسڈ (Malic Acid) سٹرک ایسڈ (Citric Acid) ٹارٹرک ایسڈ (Tartaric Acid)
شیکمک ایسڈ (Shikimic Acid)
فینولک مرکبات (Phenolic Compounds)
کلوروجینک ایسڈ (Chlorogenic Acid) کیفیئک ایسڈ (Caffeic Acid) پی کومیرک ایسڈ (p-Coumaric Acid)
فیروُلک ایسڈ (Ferulic Acid) گیلیک ایسڈ (Gallic Acid) پروٹوکیٹیچوئک ایسڈ (Protocatechuic Acid)
فلیوونائڈز (Flavonoids)
کوئرسیٹن (Quercetin) کیمپفیرول (Kaempferol) مائریسیٹن (Myricetin) کیٹیچن (Catechin)
ایپی کیٹیچن (Epicatechin) روٹن (Rutin) فلیوریڈزن (Phloridzin) فلیوریٹن (Phloretin)
اینتھوسیاننز (Anthocyanins)
سیانڈن 3 گیلیکٹوسائیڈ (Cyanidin-3-galactoside) سیانڈن 3 گلوکوسائیڈ (Cyanidin-3-glucoside)
ٹرائی ٹرپینز (Triterpenes)
یورسولک ایسڈ (Ursolic Acid) اولیانولک ایسڈ (Oleanolic Acid) بیٹولینک ایسڈ (Betulinic Acid)
وٹامنز
وٹامن سی ، وٹامن اے ، وٹامن ای، وٹامن کے ، وٹامن بی1 ، وٹامن بی2 ، وٹامن بی3 ، وٹامن بی5 ، وٹامن بی6 ، فولیٹ ۔
معدنیات (Minerals)
پوٹاشیم، کیلشیم ، فاسفورس ، میگنیشیم ، آئرن ، زنک ، مینگنیز ، کاپر ، سوڈیم ، سیلینیم ۔
امائنو ایسڈز (Amino Acids)
ایسپارٹک ایسڈ (Aspartic Acid) گلوٹامک ایسڈ (Glutamic Acid) سیریں (Serine)
گلائسین (Glycine) ایلینین (Alanine) ویلین (Valine) لیوسین (Leucine)
دیگر حیاتیاتی اجزا
پیکٹین (Pectin) سیلولوز (Cellulose) ہیمی سیلولوز (Hemicellulose) سوربیٹول (Sorbitol)
ٹیننز (Tannins)
کیروٹینائڈز (Carotenoids) فائیٹوسٹرولز (Phytosterols)
اثرات:
میٹھا سیب اعصابی غدی ہوتا ہے، جبکہ ترش سیب عضلاتی اعصابی ہوتا ہے، مفرح قلب اثرات رکھتا ہے۔
خواص و فوائد:
ترش سیب ضعف قلب، دل کا ڈوبنا کے لیے فوری اثر رکھتا ہے، اسی طرح ضعف معدہ و امعاء اور اسہال مزمن کے لیے نہایت اعلیٰ درجہ کا غذائے دوا ہے، معدہ کی ترشی، ریاح معدہ، اور تبخیر کے مریضوں کے لیے ترش سیب نہایت نقصاند ہ ہے۔
جدید سائنسی تحقیقات:
جدید سائنسی تحقیقات کے مطابق سیب ایک غذائیت سے بھرپور پھل ہے جس میں فائبر، وٹامن سی، پولی فینولز، فلیوونائڈز اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹ اجزا پائے جاتے ہیں۔ یہ اجزا جسم میں پیدا ہونے والے مضر فری ریڈیکلز کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے خلیات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے سیب کو عمومی صحت برقرار رکھنے اور بڑھاپے کے اثرات کو سست کرنے والی غذا تصور کیا جاتا ہے۔
سیب میں موجود حل پذیر فائبر خصوصاً پیکٹین نظامِ ہضم کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ جدید مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ سیب آنتوں میں مفید بیکٹیریا کی افزائش میں معاون ہو سکتا ہے، جس سے ہاضمہ بہتر رہتا ہے اور قبض کی شکایت میں کمی آ سکتی ہے۔ اسی لیے سیب کو معدہ اور آنتوں کی صحت کے لیے مفید غذا سمجھا جاتا ہے۔قلبی صحت کے حوالے سے بھی سیب پر کافی تحقیق ہوئی ہے۔ مشاہداتی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدگی سے سیب کھانے والے افراد میں دل کی بعض بیماریوں کا خطرہ نسبتاً کم دیکھا گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ اس میں موجود فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹ مرکبات ہیں جو خون میں کولیسٹرول کی سطح کو متوازن رکھنے اور خون کی نالیوں کی صحت برقرار رکھنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
جدید تحقیقات یہ بھی بتاتی ہیں کہ سیب میں موجود پولی فینولز خون میں شکر کے اچانک اضافے کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے مناسب مقدار میں سیب کو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی نسبتاً بہتر پھلوں میں شمار کیا جاتا ہے، اگرچہ مریض کو اپنی مجموعی غذائی منصوبہ بندی کے مطابق ہی استعمال کرنا چاہیے۔ مزید برآں، سیب میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور نباتاتی مرکبات جسم کے قدرتی دفاعی نظام کی حمایت کرتے ہیں۔ بعض تحقیقی مطالعات میں یہ اشارے بھی ملے ہیں کہ سیب کا باقاعدہ استعمال پھیپھڑوں کی بہتر کارکردگی، وزن کے اعتدال اور بعض دائمی بیماریوں کے خطرات میں کمی سے وابستہ ہو سکتا ہے۔ تاہم سیب کوئی دوا نہیں بلکہ ایک مفید غذائی جزو ہے، اس لیے اسے متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ استعمال کرنا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔
سیب قلب و معدہ کو تقویت دیتا ہے، ہاضمہ بہتر کرتا ہے، پیاس اور گرمی کی شدت کم کرتا ہے، جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے اور عمومی صحت و تازگی برقرار رکھنے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔ یونانی طب میں اسے خصوصاً مقوی قلب، مفرح اور معدہ کو طاقت دینے والی غذا قرار دیا گیا ہے۔
حوالہ جات:
| https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC7690411 | |
| https://www.mdpi.com/2223-7747/9/11/1408 | |
| https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/14558772/ |

مقدار خوراک:
حسب ضرورت




Leave Your Comment