سردا
نام :
عربی میں شمام، / بطیخ اصفر۔ اور ہندی میں मिठास मस्कमेलनکہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Honeydew Melon
Scientific name: Cucumis melo L. (Inodorus Group)
Family: Cucurbitaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مولد رطوبات، مدر بول، مفرح قلب۔ | ہند و پاک | ترسرد | اعصابی عضلاتی | صفراوی امراض میں |

تعارف:
سردا ایک بیل دار پودے کا پھل ہے جو زمین پر پھیلنے والی بیل پر لگتا ہے۔ اس کا پھل عموماً گول یا قدرے بیضوی ہوتا ہے اور جسامت میں بڑا، بعض اوقات تربوز کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اس کا چھلکا ہموار، موٹا اور ہلکا سبز یا زردی مائل ہوتا ہے۔ اندر کا گودا ہلکا سبز یا مائل بہ سفیدی ہوتا ہے جو نہایت نرم، رسیلا اور واضح طور پر میٹھا ہوتا ہے۔ بیج پھل کے وسط میں ایک جھلی دار حصے میں جمع ہوتے ہیں، جو سفید مائل اور چپٹے ہوتے ہیں۔ اس پھل کی خوشبو بہت ہلکی ہوتی ہے، اسی لیے اسے نباتاتی طور پر inodorus یعنی کم خوشبو والی قسم میں رکھا جاتا ہے۔
ہنی ڈیو میلن یعنی سردا دنیا بھر میں ایک معروف میٹھا اور ٹھنڈک دینے والا پھل ہے۔ اس کی اصل وسطی ایشیا اور ایران کے علاقوں کو قرار دیا جاتا ہے، جہاں سے یہ عرب دنیا اور پھر یورپ تک پہنچا۔ یونانی اور مشرقی طب میں اسے مبرد اور مرطب مانا جاتا ہے اور گرمی، پیاس، صفراوی غلبے اور جسمانی حرارت کے توازن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ برصغیر میں اس کے شدید ٹھنڈے اثر کی وجہ سے اسے عرف عام میں “سرد” یا “سردا” کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرپھوکہ
یہ بھی پڑھیں: ستیاناسی
یہ بھی پڑھیں: سرخس (پنکھراج)
کیمیاوی و غذائی اجزا:
غذائی اجزا
پانی، کاربوہائیڈریٹس، قدرتی شکر، غذائی فائبر، پروٹین، چربی پائی جاتی ہے۔
وٹامنز
وٹامن سی، وٹامن بی ایک، وٹامن بی دو، وٹامن بی تین، وٹامن بی پانچ، وٹامن بی چھ، فولیٹ، وٹامن کے، وٹامن اے پائے جاتے ہیں۔
منرلز
پوٹاشیم، میگنیشیم، کیلشیم، فاسفورس، سوڈیئم، آئرن، زنک، کاپر، میگنیز، سیلینیم، پائے جاتے ہیں۔
کیمیائی و حیاتیاتی اجزا
ایسکوربک ایسڈ (Ascorbic acid)، گلوکوز (Glucose)، فروکٹوز (Fructose)، سکروز (Sucrose)، پیکٹن (Pectin)، نامیاتی تیزاب (Organic acids) پائے جاتے ہیں۔
بایو ایکٹو اور فائٹو کیمیکلز
گیلک ایسڈ (Gallic acid)، کیفیک ایسڈ (Caffeic acid)، ہائیڈروکسی بینزوئک ایسڈ (Hydroxybenzoic acid)، کیٹیچن (Catechin)، کوارسیٹن مشتقات (Quercetin derivatives)، وانیلک ایسڈ (Vanillic acid)، ایلجک ایسڈ (Ellagic acid)، پولی فینولز (Polyphenols)، فلیونوئڈز (Flavonoids) پائے جاتے ہیں۔
نوٹ: یہ bioactive compounds زیادہ تر پھل کے بیجوں، چھلکوں یا pulp کے analyses میں پائے گئے ہیں، اور antioxidant activity میں کردار ادا کرتے ہیں۔

اثرات:
سردا اعصاب میں تحریک، غدد میں تحلیل اور عضلات میں تقویت پیدا کرتا ہے۔مولد رطوبات، مدر بول، مفرح قلب۔
خواص و فوائد:
سردا انتہائی زیادہ مولد رطوبات ہے، جسم میں رطوبات کی بارش کردیتا ہے، اور خون میں بھی رطوبات بڑھادیتا ہے، جس سے پیشاب بھی زیادہ آتا ہے اور دودھ بھی زیادہ پیدا ہوتا ہے۔ صفراء اور حرارت کو کم کرتا ہے۔
جدید سائنسی تحقیقات:
سردا پھل (Honeydew Melon) گرمی میں ٹھنڈک پہنچانے، پانی کی کمی دور کرنے اور جسمانی حرارت کو متوازن رکھنے میں بہت مؤثر ہے۔ اس میں وٹامن سی اور پوٹاشیم کی بڑی مقدار ہونے کی وجہ سے یہ دل کی صحت اور خون کے دباؤ کے توازن میں مددگار ہے۔ غذائی فائبر اور پانی کی زیادہ مقدار کے باعث یہ ہاضمہ کو بہتر بنانے اور قبض سے بچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سردا پھل میں موجود فینولک مرکبات اور فلیونوئڈز جسم میں اینٹی آکسیڈنٹ اثر پیدا کرتے ہیں، جو سوزش کو کم کرنے اور خلیاتی صحت بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے میٹھے اور رسیلے گودے میں شامل شکر اور غذائی اجزا جسم کو فوری توانائی فراہم کرتے ہیں، جبکہ معدے پر ہلکا اثر ڈال کر اسے بھاری نہیں بناتے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق سردا پھل کے باقاعدہ استعمال سے گردے کی صحت بہتر رہتی ہے اور پیشاب کی جلن کم ہوتی ہے۔
حوالہ جات:

مقدار خوراک:
حسب منشاء
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.



Leave a Reply