ساگودانہ
نام :
عربی میں الكاسافا / البفرة کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Cassava / Tapioca
Scientific name: Manihot esculenta
Family: Arecaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
دافع حرارت | ہند و پاک | تر سرد | اعصابی عضلاتی | معدہ و آنتوں کے لیے |

تعارف:
ساگودانہ جسے سابودانہ بھی کہا جاتا ہے، دنیا کے گرم اور مرطوب علاقوں کی ایک اہم غذائی فصل ہے۔ اس کا اصل وطن جنوبی امریکہ (برازیل) ہے، لیکن اب یہ افریقہ اور ایشیا کے بہت سے ممالک بشمول بھارت اور تھائی لینڈ میں بڑے پیمانے پر کاشت کیا جاتا ہے۔ غذائی اعتبار سے یہ آلو کے بعد نشاستہ کا تیسرا بڑا ذریعہ ہے، جس سے ساگودانہ (Sabudana) اور ٹیپیوکا کا آٹا تیار کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ساگوان
یہ بھی پڑھیں: زوفا
یہ بھی پڑھیں: زیرہ
سادگودانہ ایک جھاڑی نما پودا ہے جس کی اونچائی عموماً ایک سے تین میٹر تک ہوتی ہے۔ اس کا تنا پتلا، سیدھا اور گرہ دار ہوتا ہے، جس پر پتوں کے گرنے کے نشانات واضح نظر آتے ہیں۔ اس کی سب سے اہم پہچان اس کی زیرِ زمین جڑیں ہیں، جو لمبی، شکرقندی کی طرح اور گچھوں کی صورت میں ہوتی ہیں۔ ان جڑوں کی بیرونی چھال بھوری اور کھردری ہوتی ہے، جبکہ اندرونی گودا سفید یا ہلکا کریمی اور نشاستہ سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کے پتے ہاتھ کی انگلیوں کی طرح پھیلے ہوئے ہوتے ہیں، جو عام طور پر پانچ سے سات حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ پتے گہرے سبز رنگ کے ہوتے ہیں اور ان کی ڈنڈیاں لمبی اور اکثر سرخی مائل ہوتی ہیں۔ اس کے پھول چھوٹے اور سبز مائل زرد ہوتے ہیں جو خوشوں کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔

کیمیاوی و غذائی اجزا:
بنیادی غذائی اجزا
کاربوہائیڈریٹس، نشاستہ، توانائی، پروٹین (نہایت معمولی)، چکنائی (انتہائی کم)، غذائی فائبر (کم مقدار)، قدرتی شکر کی معمولی مقدار۔
منرلز
کیلشیم، لوہا، میگنیشیم، پوٹاشیم، فاسفورس، سوڈیم (نہایت کم)۔
وٹامنز
وٹامن بی گروپ کے اجزا کی معمولی مقدار، پینٹوتھینک ایسڈ، وٹامن بی سکس، فولیٹ (نہایت کم)۔

اثرات:
ساگودانہ غذا ہے اسے بقدر ہضم کھا سکتے ہیں، اعصاب میں تحریک، عضلات میں تقویت اور غدد میں تسکین پیدا کرتا ہے۔ دافع حرارت ہے۔
خواص و فوائد:
ساگودانہ تری کے ساتھ سرد اثرات رکھتا ہے، صفراء کو خارج کرتا ہے، اس لیے معدہ اور آنتوں کی جلن میں مفید ہے، زود ہضم اور نرم غذا ہے۔اس کے استعمال سے گردوں اور آنتوں کے زخم بہتر ہو جاتے ہیں۔
جدید سائنسی تحقیقات:
ساگودانہ یا ٹیپیوکا جو کہ کساوا (Manihot esculenta) کے نشاستے سے تیار ہوتا ہے، جدید سائنسی تحقیق کے مطابق بنیادی طور پر فوری توانائی فراہم کرنے والی غذا ہے۔ اس میں موجود نشاستہ جلد ہضم ہو کر جسم کو توانائی دیتا ہے، اسی وجہ سے یہ کمزوری، بیماری کے بعد نقاہت، روزے کے دوران یا ایسے افراد کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے جنہیں ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذا درکار ہو۔ چونکہ ٹیپیوکا قدرتی طور پر گلوٹین فری ہوتا ہے، اس لیے سلیاک بیماری یا گلوٹین سے حساس افراد اسے بغیر مسئلے کے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کی چکنائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ دل پر اضافی بوجھ نہیں ڈالتا، جبکہ معدے اور آنتوں کے لیے بھی نسبتاً نرم غذا سمجھی جاتی ہے۔ محدود مقدار میں موجود بعض معدنی اجزا جسم کے عمومی افعال میں معمولی معاون کردار ادا کرتے ہیں، اگرچہ غذائیت کے اعتبار سے یہ مکمل غذا نہیں ہے۔
سائنسی طور پر یہ بات بھی تسلیم شدہ ہے کہ کچا یا غلط طریقے سے تیار کیا گیا کساوا نقصان دہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں قدرتی طور پر سائنوجینک گلائیکوسائیڈز پائے جاتے ہیں، جن میں خاص طور پر لینامیرین (Linamarin) اور لوٹاوسٹرالین (Lotaustralin) شامل ہیں۔ یہ مرکبات جسم میں جا کر ہائیڈروجن سائنائیڈ (Hydrogen Cyanide) میں تبدیل ہو سکتے ہیں، جو ایک زہریلا مادہ ہے۔ تاہم مارکیٹ میں دستیاب ساگودانہ عموماً درست صنعتی عمل کے بعد تیار کیا جاتا ہے، جس میں یہ زہریلے اجزا تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے سائنسی اور طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ساگودانہ ہمیشہ معتبر ذریعہ سے اور درست طریقے سے تیار شدہ ہی استعمال کیا جائے، اور اسے متوازن غذا کے ساتھ شامل کیا جائے، نہ کہ واحد غذائی حل کے طور پر۔
حوالہ جات:
Webmd | https://www.webmd.com/diet/tapioca-health-benefits-nutrition-uses |
Healthline | |
Self made health |

مقدار خوراک:
بقدر ہضم
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.



Leave a Reply