کشتہ سازی کا بنیادی اور ناگزیر اصول
آج کے دور میں کشتہ سازی کے دعوے دار تو بکثرت ہیں، مگر افسوس یہ ہے کہ ان میں سے اکثر حضرات کشتہ سازی کے بنیادی اصول سے ہی ناواقف ہیں۔ محض کسی کتاب میں ایک نسخہ دیکھ لینا یا کسی استاد سے سنی سنائی بات پر عمل کر لینا، بغیر کسی عقلی، سائنسی اور اصولی فہم کے، کشتہ سازی شروع کر دینا نہ صرف غیر علمی طرزِ عمل ہے بلکہ بعض اوقات نقصان دہ بھی ثابت ہوتا ہے۔
کشتہ سازی کا سب سے پہلا، بنیادی اور فیصلہ کن اصول یہ ہے کہ کشتہ تیار کرتے وقت مزاج کا مکمل خیال رکھا جائے۔ جس دوا یا معدن کا کشتہ بنایا جا رہا ہو، اس کے مزاج کے مطابق ہی اسے ایسے مادے میں کشتہ کیا جائے جو اس کے مزاج کو متوازن کرے، نہ کہ اس کی ضد میں ہو۔
اصولی قاعدہ یہ ہے کہ
- اعصابی مزاج کی ادویہ کو عضلاتی اعصابی یا عضلاتی غدی ادویہ میں کشتہ کیا جائے۔
- اسی طرح عضلاتی مزاج کی دوا کو غدی عضلاتی یا غدی اعصابی ادویہ میں کشتہ کرنا چاہیے۔
- اور غدی مزاج کی دوا کو اعصابی غدی یا اعصابی عضلاتی ادویہ میں کشتہ کیا جانا چاہیے۔
جو کشتہ اس اصول کو سامنے رکھ کر تیار کیا جائے گا، وہ نہایت مؤثر، جلد تیار ہونے والا، کم خرچ اور بالکل محفوظ ہوگا، اور اپنے مطلوبہ طبی اثرات پوری قوت کے ساتھ ظاہر کرے گا۔
مثال کے طور پر تانبہ ایک عضلاتی مزاج کا معدن ہے، جبکہ ہڑتال ورقیہ غدی مزاج رکھتی ہے۔ لہٰذا تانبہ کا کشتہ اگر ہڑتال ورقیہ میں تیار کیا جائے تو صرف پندرہ منٹ میں نہایت اعلیٰ معیار کا کشتہ تیار ہو جاتا ہے، اور یہ عمل اصول کے عین مطابق بھی ہے۔ اس کے برعکس اگر تانبہ کا کشتہ پارہ، قلعی، دھتورہ وغیرہ میں تیار کیا جائے جیسا کہ آج کل عام رواج ہے، تو نہ صرف یہ عمل دو دن میں بمشکل مکمل ہوتا ہے بلکہ اس پر خرچ بھی زیادہ آتا ہے اور یہ طریقہ اصولِ مزاج کے بھی خلاف ہے۔
اسی طرح ستیاناسی بوٹی چونکہ غدی عضلاتی مزاج رکھتی ہے، اس لیے اس میں تانبہ، شنگرف اور نیلا توتیا نہایت آسانی سے کشتہ ہو جاتے ہیں، بغیر کسی غیر ضروری مشقت اور نقصان کے۔
لہٰذا کشتہ سازی میں کامیابی، افادیت اور حفاظت کا واحد راستہ یہی ہے کہ اصول، مزاج، عقل اور سائنسی منطق کو بنیاد بنایا جائے، نہ کہ محض تقلید اور روایت پر اکتفا کیا جائے۔ یہی طریقہ اس فن کو زندہ بھی رکھتا ہے اور معتبر بھی بناتا ہے۔
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.



Leave a Reply