ناک کے مسائل
از طرف حکیم فیضان شاہد بلوچ
آج میں ایک مسئلے کی طرف اطباء کی اور حاملین فن کی توجہ دلانا چاہوں گا اکثر لوگوں کو ناک میں زخم ہو جاتے ہیں اور ناک میں زخم ہونے کی وجہ سے ان کو بعض اوقات ناک میں سے خون انا شروع ہو جاتا ہے اس کے علاوہ ان کے ناک کے اندر جھلی بھی سوج جاتی ہے اور اس کے علاوہ ناک کے اندر جھلی کے اندر مسے سے بن جاتے ہیں یہ حالت عموما سردیوں میں بہت زیادہ دیکھی جاتی ہے اور گرم خشک مزاج لوگوں میں یہ کیفیات بہت زیادہ ہوتی ہیں
گرمیوں کے موسم میں اس چیز کے اندر اتنی زیادہ شدت نہیں ہوتی اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو انسان گرمیوں میں کیونکہ پانی بہت زیادہ استعمال کرتا ہے تو جسم میں پانی کی کمی نہیں ہوتی حالانکہ موسم گرمی کا ہوتا ہے دوسرا گرمی کے موسم میں ناک کی اندرونی جھلی نرم رہتی ہے اور اس کے اندر کھچاؤ پیدا نہیں ہوتا سردیوں میں سرد ہوا خصوصا دھند کے دنوں میں ٹھنڈی ہوا کے اندر سانس لینے اور سردی خشکی کی وجہ سے ناک کی جلی کے اندر خشکی بھی پیدا ہو جاتی ہے اور پانی کے استعمال کی کمی کی وجہ سے ناک کی جلی کھچاؤ کا شکار ہو جاتی ہے اور جب وضو وغیرہ کیا جاتا ہے یا کسی اور وقت میں ناک کو صاف کیا جاتا ہے تو ناک سے خون انا شروع ہو جاتا ہے بعض اوقات ناک کے اندر کھرنڈ بھی بن جاتے ہیں
خشک قسم کے چھلکے نما کھرنڈ ہوتے ہیں ان کھرنڈوں کو چھیڑنے سے یا ان کو کریدنے سے ان میں سے خون انا شروع ہو جاتا ہے ناک میں سوزش ہوتی ہے اکثر اوقات ناک میں کھجلی ہوتی ہے بعض دفعہ ناک کی جھلی میں شدت کی سوزش کی وجہ سے ناک کے اندرونی حصے میں بہت زیادہ درد محسوس ہوتا ہے اس کو اکثر لوگ معمولی بات سمجھتے ہیں بات تو واقعی معمولی ہے لیکن بعض اوقات انفیکشن پیدا ہو کر ناک کو نقصان پہنچ سکتا ہے خصوصا ناک کے بانسے کو نقصان پہنچ سکتا ہے اس کا خصوصی علاج یہ ہے کہ ناک کے اندرونی حصے کی سردیوں میں خصوصا حفاظت کی جائے اور ناک کو کسی مناسب تیل ویزلین دیسی گھی یا کسی اور چیز سے ناک کے اندر لبریکیشن کی جائے اس سے ناک کی جھلی نرم رہتی ہے اور ناک میں زخم نہیں بنتے اس کے علاوہ سردیوں میں کیونکہ گرم غذاؤں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے تو سردیوں میں کوشش کریں کہ بہت زیادہ گرم غذائیں نہ کھائیں اس کے ساتھ ساتھ سردیوں میں پانی کا مناسب استعمال بھی جاری رکھیں گرم خشک مزاج والوں کو خصوصا سردیوں میں احتیاط رکھنی چاہیے کہ وہ زیادہ گرم دوائیں یا غذا استعمال نہ کریں کہ جس سے ان کو اس تکلیف کا سامنا کرنا پڑے اس کے علاوہ جب جسم میں خصوصا خون میں تیزابیت کی زیادہ زیادتی ہو جاتی ہے تو اس قسم کی علامات پیدا ہو جاتی ہے اس لیے تیزابی غذاؤں سے پرہیز کرنا بھی بہت ضروری ہوتا ہے
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.



Leave a Reply