Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. سنکھ

سنکھ

نام :

عربی میں حلزون، ناقوس۔ فارسی میں سفید مہرہ۔ سندھی میں سمندر جوکوڈ۔ اردو میں گھونگھا۔ ہندی میں शंख کہتے ہیں۔

Hakeem Syed Abdulwahab Shah Sherazi

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)

نام انگلش:

Name: Conch

Scientific name: Aliger gigas

Family: Strombidae

تاثیری نام:
مقام پیدائش:
مزاج  طب یونانی:
مزاج  طب پاکستانی:
نفع خاص:
حابس، قابض، مندمل زخم، مدر حیض، تریاق سگ گزیدہہند و پاکخشک سرد درجہ دومعضلاتی اعصابیکیلشیم کے حصول کا ذریعہ

سنکھ Conch Aliger gigas शंख
سنکھ Conch Aliger gigas शंख

تعارف:

سنکھ دراصل ایک سمندری جاندار کا سخت خول ہوتا ہے جو گرم علاقوں کے سمندروں میں پایا جاتا ہے، خاص طور پر کیریبین (Caribbean) سمندر میں۔ اس کا تعلق نرم بدن رکھنے والے جانداروں (Mollusks) سے ہے، جنہیں گیسٹروپوڈ (Gastropod) کہا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر اس کی ڈھال کو قدیم تہذیبوں میں صور (آواز نکالنے والا آلہ)، زیورات اور برتنوں کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ طبِ یونانی اور آیور وید میں سنکھ کو جلا کر اس کا کشتہ (Sankh Bhasma) تیار کیا جاتا ہے، جو کیلشیم کا ایک بہت بڑا قدرتی ذریعہ مانا جاتا ہے۔ سائنسی طور پر اس کی ڈھال کا بڑا حصہ کیلشیم کاربونیٹ  پر مشتمل ہوتا ہے۔

سنکھ ایک بڑا، بھاری اور مضبوط خول ہوتا ہے جو عام گھونگھے کے خول سے کہیں زیادہ موٹا اور سخت ہوتا ہے۔ اس کی بیرونی سطح کھردری اور گھومتی ہوئی (spiral) ساخت کی حامل ہوتی ہے، جس میں قدرتی ابھار اور لکیریں واضح نظر آتی ہیں۔اس کا رنگ عموماً باہر سے ہلکا بھورا، زردی مائل یا مٹیالا ہوتا ہے جبکہ اندرونی حصہ نہایت خوبصورت گلابی یا ہلکے نارنجی رنگ کا ہوتا ہے، جو اس کی خاص پہچان ہے۔سنکھ کا منہ (opening) چوڑا ہوتا ہے اور اس کا کنارہ قدرے پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ اس کی نوک (apex) تیز اور گھومتی ہوئی شکل میں اوپر کی طرف ہوتی ہے۔یہ عموماً سمندر کی تہہ میں ریت یا کیچڑ میں پایا جاتا ہے اور زندہ حالت میں اس کے اندر ایک نرم جسم والا جاندار موجود ہوتا ہے، جو آہستہ حرکت کرتا ہے۔اس کا سائز کافی بڑا ہو سکتا ہے، بعض اوقات 20 سے 30 سینٹی میٹر یا اس سے بھی زیادہ لمبا ہوتا ہے۔

کیمیاوی و غذائی  اجزا:

1. بنیادی معدنی اجزاء (Major Minerals)

کیلشیم کاربونیٹ (Calcium Carbonate)   اراگونائٹ (Aragonite Crystal Form)

2. نامیاتی اجزاء (Organic Components)

پروٹینز (Proteins)        پولی سیکرائیڈز (Polysaccharides)           لپڈز (Lipids)

3. بایو ایکٹو اجزاء (Bioactive Compounds)

کونکیولن (Conchiolin Protein)        امینو شوگرز (Amino Sugars)    مینوز (Mannose)

4. ٹریس منرلز (Trace Minerals)

کیلشیم (Calcium)         میگنیشیم (Magnesium) سوڈیم (Sodium)         پوٹاشیم (Potassium)

5. ساختی بایو میٹریل (Structural Components)

کراس لیملر اسٹرکچر (Cross-lamellar Structure)  تہہ دار کرسٹل ترتیب (Layered Crystal Arrangement)

سنکھ Conch Aliger gigas शंख

یہ بھی پڑھیں: سنبھالو

یہ بھی پڑھیں: سناء مکی

یہ بھی پڑھیں: سن

اثرات:

سنکھ محرک عضلات، محلل اعصاب، مسکن غدد ہے۔کیمیاوی طور پر خون میں خلط سوداء اور کیلشیم کے اثرات میں اضافہ کرتا ہے۔ حابس، قابض، مندمل زخم، مدر حیض، تریاق سگ گزیدہ اثرات کا حامل ہے۔

سنکھ Conch Aliger gigas शंख

خواص و فوائد:

سنکھ اپنے خشکی والے اثرات کی وجہ سے رطوبات اور ان کے تعفن کو ختم کرتا ہے، ایسے جانور جن کے کاٹنے سے عصبی رطوبات پیدا ہوتی ہیں ان کے لیے بہترین علاج ہے جیسے پاگل کتا وغیرہ، چنانچہ مریض کو جب دورہ پڑے اس حالت میں کشتہ سنکھ ایک ایک ماشہ کی مقدار میں کھلانا نہایت ہی مفید ہے۔ مسکن غدد ہونے کی وجہ سے غدی تحریک کی علامات و امراض کے لیے بھی مفید ہے۔اعصابی زخموں کے بہنے کی صورت میں اس کا سفوف زخم پر لگانے سے زخم کو بند کردیتا ہے۔ مدرحیض ہونے کی وجہ سے بندش حیض میں مفید ہے۔

سنکھ Conch Aliger gigas शंख

جدید سائنسی تحقیقات:

سائنسی طور پر سنکھ ایک ایسا محفوظ معدنی ذریعہ ہے جو نہ صرف ہڈیوں اور معدے کے امراض میں شفا بخش ہے بلکہ اس میں موجود نایاب پروٹینز اور معدنیات کا امتزاج اسے ایک طاقتور حیاتیاتی دوا (Bio-medicine) بناتا ہے۔ سائنسی تحقیقات سے یہ ثابت ہے کہ سنکھ کا خول کیلشیم کاربونیٹ (CaCO3) کا ایک بہترین نامیاتی ذریعہ ہے۔ عام مصنوعی سپلیمنٹس کے مقابلے میں سنکھ سے حاصل ہونے والا کیلشیم انسانی اور حیوانی جسم میں زیادہ تیزی سے جذب ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جب سنکھ کو جلا کر اس کا کشتہ (Calcined powder) تیار کیا جاتا ہے، تو اس میں کیلشیم کی مقدار تقریباً 11.66 فیصد تک بڑھ جاتی ہے، جو ہڈیوں کی کثافت بڑھانے اور بچوں میں کیلشیم کی کمی دور کرنے کے لیے انتہائی مؤثر پایا گیا ہے۔

زخموں کا اندمال اور جراثیم کش اثرات

سنکھ کے خول کے اندر موجود کونچیولن (Conchiolin) نامی پروٹین اور مخصوص پیپٹائڈز میں جراثیم کے خلاف لڑنے کی قوت پائی جاتی ہے۔ یہ پروٹین نہ صرف خلیات کی مرمت کی رفتار کو تیز کرتی ہے بلکہ اندرونی ورم (Inflammation) کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ پب میڈ پر شائع ہونے والی ایک تحقیق جو کشتہ سنکھ کے بارے ہے:
تحقیق کے دوران سنکھ کے پاؤڈر کو دو شکلوں میں استعمال کیا گیا، ایک سادہ پاؤڈر اور دوسرا وہ جسے تیز آنچ پر جلا کر راکھ یا کشتہ (Calcined) کی شکل دی گئی تھی۔ تجربے سے یہ بات سامنے آئی کہ جب سنکھ کے پاؤڈر کو گرم کیا جاتا ہے تو اس میں کیلشیم کی مقدار تقریباً ساڑھے گیارہ فیصد تک بڑھ جاتی ہے اور ساتھ ہی میگنیشیم اور لوہے جیسے دیگر معدنیات میں بھی اضافہ ہوتا ہے، البتہ جست (Zinc) اور تانبے کی مقدار تھوڑی کم ہو جاتی ہے۔

نتائج بتاتے ہیں کہ جن بچھڑوں کو سنکھ کا پاؤڈر دیا گیا انہوں نے عام خوراک لینے والے بچھڑوں کے مقابلے میں زیادہ شوق سے چارہ کھایا۔ اگرچہ ان کے وزن میں اضافے کی رفتار عام بچھڑوں جیسی ہی رہی، لیکن سب سے اہم بات یہ دیکھی گئی کہ سنکھ کے پاؤڈر والے بچھڑوں نے کیلشیم اور فاسفورس کو عام سپلیمنٹس کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے سے ہضم کیا۔ خون کے ٹیسٹ اور جگر کے افعال کی رپورٹ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اس پاؤڈر کے استعمال سے بچھڑوں کی صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا اور ان کا نظامِ جسمانی بالکل نارمل رہا۔

حوالہ جات:

https://en.wikipedia.org/wiki/Aliger_gigas

https://biologyinsights.com/what-are-conch-shells-actually-made-of/
https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/24291423/
https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/38441795/

سنکھ Conch Aliger gigas शंख

مقدار خوراک:

ایک سے دو ماشہ

Important Note

اعلان دستبرداری
اس مضمون کے مندرجات کا مقصد عام صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے ، لہذا اسے آپ کی مخصوص حالت کے لیے مناسب طبی مشورے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس مضمون کا مقصد جڑی بوٹیوں اور کھانوں کے بارے میں تحقیق پر مبنی سائنسی معلومات کو شیئر کرنا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں بیان کردہ کسی بھی تجویز پر عمل کرنے یا اس مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر علاج کے کسی پروٹوکول کو اپنانے سے پہلے ہمیشہ لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ہمیشہ لائسنس یافتہ، تجربہ کار ڈاکٹر اور حکیم سے علاج اور مشورہ لیں۔

Leave Your Comment