
سن
نام :
فارسی میں لادنہ۔ اردو میں پٹ سن۔ سندھی میں سٹی۔ اور ہندی میں पटसन کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Jute plant
Scientific name: Corchorus olitorius / Corchorus capsularis
Family: Malvaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مولد رطوبات | ہند و پاک | تر سرد درجہ دوم | اعصابی عضلاتی | صفراوی امراض |

تعارف:
پٹ سن ایک انتہائی اہم تجارتی پودا ہے جسے اس کی معاشی اہمیت کی وجہ سے “سنہرا ریشہ” بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا بھر میں کپاس کے بعد قدرتی ریشہ حاصل کرنے کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔ یہ پودا زیادہ تر گرم اور مرطوب علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے جہاں پانی کی فراوانی ہو۔ صنعتی طور پر اس کا ریشہ بوریاں، رسیاں اور کپڑا بنانے میں استعمال ہوتا ہے، لیکن اس کی اہمیت صرف صنعت تک محدود نہیں ہے۔
پٹ سن جسے ہم اپنی روزمرہ زندگی میں بوریوں یا رسیوں کی صورت میں دیکھتے ہیں، درحقیقت قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے جو صنعت کے ساتھ ساتھ غذا اور دوا میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ اسے انگریزی میں جیوٹ کہا جاتا ہے اور اس کی دو سب سے اہم اور مشہور اقسام Corchorus capsularis (سفید پٹ سن) اور Corchorus olitorius (ٹوسا پٹ سن) ہیں۔ یہ دونوں پودے اپنی اپنی جگہ انفرادی خصوصیات کے حامل ہیں جنہیں ان کے پھل، ذائقے اور ریشے کی بنیاد پر آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔ پٹ سن کا پودا زیادہ تر ایشیا کے گرم اور مرطوب علاقوں میں اگتا ہے۔ یہ ایک طویل قامت، سیدھا اور ریشہ دار پودا ہے جسے “سنہرا ریشہ” یا گولڈن فائبر بھی کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے سے ہی اسے نہ صرف کپڑے اور ریشے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے بلکہ آیوروید میں بھی اسے ایک بہترین رطوبت بخش دوا مانا گیا ہے۔ اس کے سبز پتے وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عرب ممالک میں اس کے پتوں کا سالن “ملوخیہ” کے نام سے بے حد مقبول ہے جو جسم کو توانائی اور ٹھنڈک فراہم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سمندر سوکھ
یہ بھی پڑھیں: سمندر جھاگ
یہ بھی پڑھیں: سمندر پھل

اگر آپ ان دونوں اقسام کو ایک ساتھ دیکھیں تو چند واضح علامات سے ان میں فرق کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے:
پھل کی شکل (سب سے بڑی پہچان)
ان دونوں پودوں کو پہچاننے کا سب سے مستند طریقہ ان کے بیجوں کی پھلی یا خول کو دیکھنا ہے۔ سفید پٹ سن (C. capsularis) کا پھل بالکل گول اور کھردرا ہوتا ہے، جبکہ ٹوسا پٹ سن (C. olitorius) کا پھل کسی چھوٹی سبزی یا لمبی پھلی کی طرح بیلن نما ہوتا ہے۔ اگر پودے پر پھل موجود ہو تو ایک عام انسان بھی سیکنڈوں میں ان کے درمیان فرق کر سکتا ہے۔
پتوں کا ذائقہ
ایک اور دلچسپ پہچان ان کے پتوں کا ذائقہ ہے۔ سفید پٹ سن کے پتے ذائقے میں کڑوے ہوتے ہیں، اسی لیے اسے “کڑوا جیوٹ” بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ٹوسا پٹ سن کے پتے کڑوے نہیں ہوتے بلکہ ان کا ذائقہ پھیکا یا معمولی شیریں ہوتا ہے، اسی لیے اسے “میٹھا جیوٹ” پکارا جاتا ہے اور کھانے کے لیے اسی قسم کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

ریشے کی رنگت اور مضبوطی
صنعتی اعتبار سے دیکھا جائے تو سفید پٹ سن کا ریشہ دودھیا سفید ہوتا ہے لیکن یہ اتنا مضبوط نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں ٹوسا جیوٹ کا ریشہ سنہرا یا تانبے جیسا چمکدار ہوتا ہے اور یہ سفید پٹ سن سے کہیں زیادہ مضبوط اور نرم ہوتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ٹوسا جیوٹ کو اس کے اعلیٰ معیار کی وجہ سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔
کاشت اور ماحول
ان دونوں کی ایک پہچان ان کے اگنے کی جگہ سے بھی ہوتی ہے۔ سفید پٹ سن ایک سخت جان پودا ہے جو ایسے نشیبی علاقوں میں بھی اگ آتا ہے جہاں پانی کھڑا ہو، یعنی یہ سیلابی پانی کو برداشت کر لیتا ہے۔ جبکہ ٹوسا پٹ سن کو ایسی اونچی زمین چاہیے جہاں پانی کا نکاس اچھا ہو، کیونکہ یہ اپنی جڑوں میں پانی کا کھڑا ہونا بالکل برداشت نہیں کر سکتا۔

کیمیاوی و غذائی اجزا:
پٹ سن کی دونوں اقسام، یعنی سفید پٹ سن (Corchorus capsularis) اور ٹوسا پٹ سن (Corchorus olitorius)، اپنے اندر معدنیات اور شفابخش مرکبات کا ایک وسیع ذخیرہ رکھتی ہیں۔ جدید سائنسی تحقیقات، خاص طور پر پب میڈ (PubMed) اور سائنس ڈائریکٹ (ScienceDirect) کے مقالوں کی روشنی میں ان کے اجزا کی جامع لسٹ درج ذیل ہے:
کیمیائی اجزا (Chemical Components)
- سیلولوز (Cellulose): ریشے کا 60 سے 70 فیصد حصہ، جو اسے صنعتی مضبوطی دیتا ہے۔
- لگنِن (Lignin): پودے کو لکڑی نما سختی فراہم کرنے والا مادہ۔
- ہیمی سیلولوز (Hemicellulose): ریشے کی لچک برقرار رکھنے والا جزو۔
- پیکٹن (Pectin): ایک قدرتی گوند جو خلیات کو آپس میں جوڑ کر رکھتا ہے۔
منرلز (Minerals)
کیلشیم (Calcium) آئرن (Iron) میگنیشیم (Magnesium
حیاتیاتی اجزا (Biological Components)
میوسلیج (Mucilage): یہ پودے کا سب سے اہم حیاتیاتی حصہ ہے جو پانی کے ساتھ مل کر جیل بناتا ہے۔ یہ نظامِ ہاضمہ کی سوزش کے لیے اکسیر ہے۔
پروٹینز (Proteins): پودے کے پتوں میں امینو ایسڈز کی وافر مقدار ہوتی ہے جو جسمانی توانائی کے لیے ضروری ہے۔
ڈائٹری فائبر (Dietary Fiber): آنتوں کی صفائی اور قبض دور کرنے والا بہترین قدرتی ریشہ۔
بایو ایکٹو اجزا (Bioactive Compounds)
- فلیوونائڈز (Quercetin & Kaempferol): یہ طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس ہیں جو جسم کو کینسر اور اندرونی سوجن سے بچاتے ہیں۔
- کارڈیک گلائکوسائیڈز (Corchoroside A & B): یہ خاص طور پر بیجوں اور جڑوں میں پائے جاتے ہیں اور دل کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے زیرِ مطالعہ ہیں۔
- کیپسولرِن (Capsularin): یہ صرف سفید پٹ سن ( capsularis) میں پایا جاتا ہے جو اسے کڑواہٹ اور جراثیم کش خصوصیات دیتا ہے۔
- فینولک ایسڈز: جو خلیات کو ٹوٹ پھوٹ سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
وٹامنز (Vitamins)
وٹامن اے، وٹامن C، وٹامن E، وٹامن B-Complex (B1, B2, B9۔

اثرات:
پٹ سن اعصاب میں تحریک، عضلات میں تقویت اور غدد میں تحلیل پیدا کرتا ہے۔ مولد رطوبات اثرات رکھتا ہے۔
خواص و فوائد:
پٹ سن کے دونوں پودے اپنے مزاج میں سرد تر اثرات رکھتے ہیں۔ ان کے پتوں میں پایا جانے والا قدرتی لعاب معدے کی تیزابیت، آنتوں کی خشکی اور مثانے کی سوزش کو دور کرنے کے لیے ایک لاجواب ٹانک ہے۔ جہاں ٹوسا پٹ سن اپنی غذائیت اور تری کی وجہ سے کمزوری دور کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، وہیں سفید پٹ سن اپنی کڑواہٹ کی وجہ سے خون کی صفائی اور جگر کے افعال کو درست کرنے کے لیے مفید مانا جاتا ہے۔یہ دونوں اقسام قدرت کے توازن کی بہترین مثال ہیں، جہاں ایک صنعت کو مضبوط ریشہ فراہم کرتی ہے تو دوسری انسانی صحت کے لیے بہترین غذا اور دوا کا کام کرتی ہے۔ پٹ سن کے بیجوں کے بارے کہا جاتا ہے انہیں کھانے سے عورت بانچھ ہو جاتی ہے، یہ حیض اور نفاس کا خون بند کردیتے ہیں۔ پٹ سن کے بیجوں کا پانی بال نرم اور لمبے کرتا ہے۔
تاریخی پس منظر
برصغیر میں پٹ سن کا طبی استعمال دو ہزار سال سے زیادہ پرانا ہے۔ اس کا ذکر چھٹی صدی عیسوی کی مشہور کتاب “بریہت سمہیتا” میں “پاترا جوٹا” کے نام سے ملتا ہے، جہاں اسے ٹھنڈک پہنچانے والی دوا کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ قدیم کیرالہ میں معالجین اس کے پتوں کا لیپ جوڑوں کی سوجن ختم کرنے کے لیے لگاتے تھے، جبکہ گجرات کے حکماء اسے دائمی قبض کے لیے استعمال کرتے تھے۔ بنگال میں پٹ سن کا ریشہ تیار کرنے والے مزدوروں نے سب سے پہلے یہ محسوس کیا کہ اس کے پتوں کی چائے پینے سے ان کے ہاضمے اور جلد کی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔ مغلیہ دور میں اسے شاہی باغات میں مدافعتی نظام مضبوط کرنے کے لیے کاشت کیا جاتا تھا۔

جدید سائنسی تحقیقات:
1۔ دل کی صحت اور کارڈیک گلائکوسائیڈز
جدید طب میں سفید پٹ سن کے بیجوں اور پتوں میں موجود کارڈیک گلائکوسائیڈز (جیسے Corchoroside A اور B) پر گہری تحقیق کی گئی ہے۔ سائنسی طور پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ مرکبات دل کے پٹھوں کو مضبوط بنانے اور دھڑکن کو منظم کرنے میں اسی طرح کام کرتے ہیں جیسے کہ ‘ڈیجیٹلس’ (Digitalis) نامی مشہور دوا۔ یہ اجزاء دل کے دورے کے خطرے کو کم کرنے اور خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں معاون پائے گئے ہیں۔
2۔ نظامِ ہاضمہ اور اینٹی السر اثرات
ٹوسا پٹ سن یا ملوخیہ کے پتوں میں پایا جانے والا وافر لعاب (Mucilage) جدید تحقیقات کا مرکز رہا ہے۔ سائنس ڈائریکٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق یہ لعاب معدے اور آنتوں کی دیواروں پر ایک حفاظتی تہہ بنا دیتا ہے، جو تیزابیت اور السر (Gastric Ulcer) سے بچاؤ میں انتہائی مؤثر ہے۔ یہ نہ صرف قبض کشا ہے بلکہ آنتوں کی سوزش (IBS) کو بھی کم کرتا ہے۔
3۔ سوزش اور ورم کا خاتمہ (Anti-inflammatory)
پٹ سن کے پتوں میں موجود کوارسیٹِن (Quercetin) اور کیمفیرول (Kaempferol) جیسے فلیوونائڈز پر ہونے والی ریسرچ بتاتی ہے کہ یہ اجزاء جسم کے مدافعتی خلیات کو متحرک کرتے ہیں اور پرانی سوجن کو ختم کرتے ہیں۔ حیاتیاتی تجربات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ پٹ سن کا عرق جوڑوں کے درد (Arthritis) اور جسمانی دردوں میں 25 فیصد تک کمی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
4۔ ماحولیاتی صفائی (Phytoremediation)
ایک بہت ہی جدید اور دلچسپ تحقیق یہ ہے کہ پٹ سن کا پودا زمین سے زہریلی دھاتوں، جیسے تانبا (Copper)، کیڈمیم اور لیڈ کو جذب کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پودا نہ صرف خود ان زہریلی دھاتوں کو برداشت کر لیتا ہے بلکہ آلودہ زمین کو دوبارہ کاشت کے قابل بنانے کے لیے ایک قدرتی فلٹر کا کام کرتا ہے۔
حوالہ جات:
| esearchgate | esearchgate |
| https://www.sciencedirect.com/topics/agricultural-and-biological-sciences/corchorus-olitorius | sciencedirect |
https://ask-ayurveda.com/wiki/article/4122-corchorus-capsularis | ayurveda |
مقدار خوراک:
ماہر معالج کے مشورے سے۔




Leave Your Comment