
سمندر سوکھ
نام :
سندھی میں کنڑوں۔ پنجابی میں گگلی۔ ہندی میں سمندر پات समुद्र सोख کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Plebeian sage
Scientific name: Salvia plebeia
Family: Lamiaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مسکن قلب، مغلظ منی ، دافع سرعت انزال | ہند و پاک | تر گرم | اعصابی غدی | صفراوی امراض |

تعارف:
سمندر سوکھ ایک چھوٹی اور خود رو جڑی بوٹی ہے جو عام طور پر نمدار زمینوں اور ندی نالوں کے قریب کثرت سے پائی جاتی ہے۔ اس پودے کا اصل حسن اور طبی فائدہ اس کے بیجوں میں چھپا ہے، جنہیں قدیم حکمت اور طبِ پاکستانی (قانون مفرد اعضاء) میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہ پودا ایشیا کے مختلف حصوں بشمول پاکستان اور بھارت میں عام پایا جاتا ہے۔ اس کے بیج اپنی غیر معمولی لعاب دار (Mucilaginous) خصوصیت کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
سمندر سوکھ کے بیجوں کی پہچان بہت سادہ اور دلچسپ ہے۔ یہ بیج حجم میں انتہائی چھوٹے ہوتے ہیں، یہاں تک کہ رائی یا سرسوں کے دانوں سے بھی باریک نظر آتے ہیں۔ ان کا رنگ گہرا بھورا یا سرخی مائل سیاہ ہوتا ہے اور شکل بیضوی ہوتی ہے۔ اگر آپ ان دانوں کو خشک حالت میں دیکھیں تو یہ ریت کے ذروں کی طرح لگیں گے، لیکن ان کی اصل پہچان پانی میں ڈالنے سے ہوتی ہے۔ جیسے ہی انہیں پانی میں ڈالا جائے، یہ سیکنڈوں کے اندر پانی جذب کر کے اپنے گرد ایک شفاف اور گاڑھی جیل (Gel) بنا لیتے ہیں۔ اس جیل کی وجہ سے یہ ایک لوتھڑے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کا ذائقہ پھیکا اور لعاب دار ہوتا ہے، جبکہ ان میں کوئی خاص بو نہیں پائی جاتی۔ مارکیٹ میں اسے اکثر “پھوپھٹ” کہہ کر بھی فروخت کیا جاتا ہے۔
کیمیاوی و غذائی اجزا:
تحقیق کے مطابق اس پودے کی بنیاد ان دو بڑے گروہوں پر ہے:
فلیوونائڈز (Flavonoids) فینولک ایسڈ (Phenolic acid)
بایو ایکٹو اجزا (Bioactive Compounds)
ہوموپلانٹاگینن (Homoplantaginin): یہ اس پودے کا سب سے اہم جزو ہے جو جسم میں نائٹرک آکسائیڈ کو قابو کر کے سوزش اور ورم کو روکتا ہے۔
نیپِٹرِن (Nepitrin): یہ ایک طاقتور فلیوونائڈ ہے جو اس پودے کے عرق میں کافی بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔
ناسانون (Naasanone): یہ ایک بالکل نیا دریافت ہونے والا مادہ (فلیوانون گلائکوسائیڈ) ہے جو اس پودے کی انفرادی پہچان ہے۔
سائینروسائیڈ (Cynaroside): یہ مادہ بھی پودے کی طبی خصوصیات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ہسپِڈولن (Hispidulin): یہ اپنے سوزش کش اور اینٹی آکسیڈنٹ اثرات کے لیے جانا جاتا ہے۔
6-ہائڈروکسی لیوٹیولن 7-او-گلوکوسائیڈ (6-hydroxyluteolin 7-O-glucoside): یہ ایک پیچیدہ حیاتیاتی مرکب ہے جو اس کے فعال اجزا کی لسٹ کو مکمل کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سمندر جھاگ
یہ بھی پڑھیں: سمندر پھل
یہ بھی پڑھیں: سلارس
اثرات:
سمندر سوکھ اعصاب میں تحریک، غدد میں تحلیل، اور عضلات میں تسکین پیدا کرتے ہیں۔کیمیاوی طور پر خون میں رطوبات کے اثرات کو بڑھاتے ہیں۔مسکن قلب، مغلظ منی، دافع سوزش غدی، دافع سرعت انزال اثرات رکھتے ہیں۔

خواص و فوائد:
مسکن قلب ہونے کی وجہ سے خفقان قلب کے لیے بہترین دوا ہے چونکہ رطوبات پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اخراج روکتے ہیں۔ غلظ رطوبات ہونے کی وجہ سے سرعت انزال میں بہت مفید ہے۔ محلل غدد ہونے کی وجہ سے پیشاب کی نالی کی سوزش اور سوزاک کی سوزش رفع کرنے کے لیے بہت موثر ہے۔
جدید سائنسی تحقیقات:
اس پودے کی اصل طبی طاقت اس کے اندر پائے جانے والے خاص قدرتی اجزا ہیں، جنہیں سائنسی طور پر فلیوونائڈز (Flavonoids) اور فینولک ایسڈ کہا جاتا ہے۔ یہ مادے ہی دراصل وہ ‘فعال سپاہی’ ہیں جو انسانی جسم میں جا کر بیماریوں کے خلاف مدافعت پیدا کرتے ہیں۔
ان میں سب سے نمایاں اور اہم مادہ ہوموپلانٹاگینن (Homoplantaginin) ہے، جس کا بنیادی کام جسم میں نائٹرک آکسائیڈ کی مقدار کو متوازن رکھنا ہے۔ اسی خاصیت کی وجہ سے یہ پودا جسم کے اندرونی ورم اور سوجن کو ختم کرنے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں نیپِٹرِن (Nepitrin) اور ایک بالکل نیا دریافت شدہ مادہ ناسانون (Naasanone) بھی شامل ہے، جو اس کی افادیت کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
تحقیق سے یہ دلچسپ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ اگر ہم اس پودے کے عام پتوں کا موازنہ اس کے خاص عرق یا نچوڑ سے کریں، تو اس عرق میں ان شفابخش اجزا کی مقدار پتوں کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طبِ پاکستانی (قانون مفرد اعضاء) میں اس کے عرق یا جوشاندے کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، کیونکہ یہ زیادہ طاقتور ہوتا ہے اور انسانی جسم پر تیزی سے اثر دکھاتا ہے۔ اس میں موجود دیگر چھوٹے اجزا جیسے ہسپِڈولِن بھی مل کر اسے صحت کے لیے ایک مکمل قدرتی پیکج بنا دیتے ہیں۔

حوالہ جات:

مقدار خوراک:
تین سے پانچ گرام



Leave Your Comment