
سقمونیا
نام :
عربی میں سقمونیا محمودہ۔ سندھی میں محمود ۔ ہندی میں सकमोनिया کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Scammony
Scientific name: Convolvulus scammonia
Family: Convolvulaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
ہند و پاک | تر گرم درجہ سوم | اعصابی غدی | خشکی گرمی کے امراض میں |

تعارف:
سقمونیا دراصل ایک بیل دار پودے سے حاصل ہونے والا مادہ ہے، خود پودا بطور دوا استعمال نہیں ہوتا بلکہ اس کی جڑ سے نکلنے والا دودھیا رس اصل مقصود ہوتا ہے۔ یہ پودا زمین پر پھیلتا ہے یا سہارے کے ساتھ چڑھتا ہے۔ اس کی جڑ موٹی، سفید مائل اور اندر سے دودھ جیسا رس رکھتی ہے۔ جب اس جڑ کو کاٹا جاتا ہے تو جو رس نکلتا ہے، وہ ہوا میں خشک ہو کر سخت ہو جاتا ہے، یہی خشک شدہ مادہ سقمونیا کہلاتا ہے۔ ظاہری طور پر یہ ہلکے سرمئی یا مٹیالے رنگ کا، سخت مگر آسانی سے ٹوٹنے والا ہوتا ہے۔ ذائقہ نہایت تلخ اور اثر تیز ہوتا ہے۔
سقمونیا قدیم یونانی طب کی ایک مشہور مگر نہایت قوی اور خطرناک دوا سمجھی جاتی رہی ہے۔ بقراط، جالینوس اور بعد کے اطباء نے اس کا ذکر ضرور کیا، لیکن ساتھ ہی اس کے استعمال میں شدید احتیاط کی تاکید بھی کی۔ طب یونانی میں اسے ایسی دوا مانا گیا جو جسم پر زور دار اثر ڈالتی ہے، اسی لیے اسے عام نسخوں میں شامل نہیں کیا جاتا تھا بلکہ صرف خاص حالات اور ماہر طبیب کی نگرانی میں استعمال کا تصور تھا۔ جدید سائنسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سقمونیا میں پائے جانے والے بعض کیمیائی اجزا شدید اسہال آور اور مضر اثرات رکھتے ہیں، اسی وجہ سے جدید طب میں اس کا استعمال تقریباً ترک کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سریش
یہ بھی پڑھیں: سروالی
یہ بھی پڑھیں: سرمہ

کیمیاوی و غذائی اجزا:
فعال مرکبات:
ریزن (Resin) سکیمونِن (Scammonin) اسکیمونِن کی ذیلی اقسام (Scammonins I–VIII)
اسکیمونک ایسڈ (Scammonic Acid)
ساختی اور ضمنی اجزاء:
نشاستہ (Starch) گم (Gum) ٹیننز (Tannins) میوسلیج (Mucilage)
شوگرز (Sucrose اور reducing sugars) فائبر (Fibre)
اثرات:
سقمونیہ اعصاب میں تحریک، غدد میں تحلیل اور عضلات میں تسکین پیدا کرتا ہے۔کیمیاوی طور پر خون میں رطوبات میں اضافہ کرتا ہے، اور صفراء کا شدت کے ساتھ اخراج کرتا ہے، رطوبات حارہ کو بذریعہ دست خارج کردیتا ہے۔ شدید اعصابی مسہل، مخرش امعاء، قاتل کرم شکم، بیرونی طور پر جالی، محلل اثرات رکھتا ہے۔
خواص و فوائد:
سقمونیا شدید اعصابی مسہل ہے، نہایت ہی پتلے دست لاکر صفراء کا اخراج کرتا ہے، شدید محلل غدد ناقلہ ہے، اس لیے صفراء سے ہونے والی تمام تکالیف میں مفید ہے، جیسے یرقان اصفر وغیرہ۔ چنونوں کو مار کر خارج کرنے میں بہت مفید ہے۔ غدی اورام اور سوزش میں فوری اثر کرتا ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات:
سقمونیا، جسے انگریزی میں Scammony کہا جاتا ہے، قدیم طب میں ایک تیز اثر دوا کے طور پر معروف رہی ہے جو قبض دور کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ جدید سائنسی تحقیق نے بھی اس کے اثرات اور خطرات کو واضح کیا ہے۔ سقمونیا کے ریزن اور سکیمونِن گلیکوسائیڈز آنتوں کی دیوار پر زور دار اثر ڈال کر آنتوں کی حرکت بڑھاتے ہیں، جس سے قبض ختم ہوتا ہے۔ اس کے اثرات بہت طاقتور ہیں اور زیادہ مقدار میں استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق، سقمونیا کے استعمال سے شدید ڈائیریا، پانی کی کمی، معدے میں درد، الیکٹرولائٹ کی کمی، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور گردے یا جگر کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بچے اور کمزور افراد اس کے استعمال سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے جدید طبی نقطہ نظر سے اسے محفوظ نہیں سمجھا جاتا اور صرف ماہر طبیب کی نگرانی میں ہی چھوٹی مقدار میں استعمال کی سفارش کی جاتی ہے۔
آج کے دور میں سقمونیا کا عملی استعمال بہت کم ہے اور اس کے متبادل کے طور پر محفوظ پوداتی یا مصنوعی یا متبادل قبض کش ادویات جیسے سیننا (Senna)، کاسکارا (Cascara) یا میتھل سیلولوز (Methylcellulose) استعمال کیے جاتی ہیں۔ اگرچہ اس کے اثرات مؤثر ہیں، لیکن خطرات کی وجہ سے جدید سائنس انسانی استعمال کے لیے اسے محفوظ نہیں مانتی۔ اس لیے آج صرف تحقیقی یا تاریخی مطالعے کے لیے اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔
حوالہ جات:
pubmed | |
pubmed | |
wikipedia | |
https://agric4profits.com/20-medicinal-health-benefits-of-convolvulus-scammonia-scammony | agric4profits |
ultimatelexicon |

مقدار خوراک:
دو رتی
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.



Leave a Reply