
سریش
نام :
عربی میں غری، فارسی میں سریشم، سندھی میں تھنیس۔ہندکو میں سلیش کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Gelatin
Scientific name: Gelatinum
Family:
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مغلظ و مفری ، مولد رطوبات | ہند و پاک | گرم تر | غدی اعصابی | زخموں کے لیے |

تعارف:
سریش جسے انگریزی زبان میں جیلاٹن کہا جاتا ہے، ایک بے رنگ، بے بو اور بے ذائقہ پروٹینی مادہ ہے۔ یہ عموماً شفاف یا ہلکے پیلے رنگ کے باریک دانوں، سفوف یا پتلی چادروں کی شکل میں دستیاب ہوتا ہے۔ طب، غذا سازی اور ادویہ سازی میں اس کا استعمال قدیم زمانے سے ہوتا آ رہا ہے۔ یونانی و قدیم طب میں اسے بعض مرکبات میں باندھنے اور قوام پیدا کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔یہ خشک حالت میں سخت اور ٹوٹنے والا ہوتا ہے، مگر پانی میں بھگونے کے بعد نرم ہو جاتا ہے۔ نیم گرم پانی میں یہ مکمل طور پر حل ہو کر گاڑھا محلول بنا لیتا ہے، جو ٹھنڈا ہونے پر جیلی کی طرح جم جاتا ہے۔ اس میں نہ کوئی خاص خوشبو ہوتی ہے اور نہ ذائقہ، اسی وجہ سے یہ خوراک اور ادویہ دونوں میں آسانی سے شامل کیا جاتا ہے۔
یہ بنیادی طور پر جانوروں کے کولیجن سے تیار کیا جاتا ہے۔ کولیجن وہ قدرتی پروٹین ہے جو جانوروں کے جسم میں کھال، ہڈیوں، کنڈروں اور غضروف میں پایا جاتا ہے۔ عام طور پر سریش گائے اور بھینس کی کھال، گائے اور بھینس کی ہڈیاں، جانوروں کے کنڈرے اور غضروف، کبھی کبھار مچھلی کی کھال اور ہڈیاں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ ان حصوں کو خاص طریقے سے صاف کر کے، ابال کر اور کیمیائی و حرارتی عمل سے گزارا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں کولیجن ٹوٹ کر جیلاٹن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سروالی
یہ بھی پڑھیں: سرمہ
یہ بھی پڑھیں: سرکہ

کیمیاوی و غذائی اجزا:
جیلاٹن (Gelatin) یا سریش بنیادی طور پر جانوروں کے کولیجن (Collagen) کی جزوی ہائیڈرولیسس سے حاصل ہونے والا ایک پروٹین ہے۔ ذرائع کی بنیاد پر جیلاٹن میں پائے جانے والے کیمیاوی اور حیاتیاتی اجزا کی تفصیل درج ذیل ہے۔
فعال کیمیائی و بایو ایکٹو مرکبات
جیلاٹن میں پائے جانے والے بایو ایکٹو پیپٹائڈز اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی مائکروبیل، اینٹی انفلیمینٹری اور اینٹی کینسر خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔
اینٹی آکسیڈنٹ پیپٹائڈز:
پرو-الا-گلائی-ٹائر (Pro-Ala-Gly-Tyr / PAGT)۔ الا-ٹائر (Ala-Tyr)۔ اے وی جی اے ٹی (AVGAT)۔
این ایچ آر وائی ڈی آر (NHRYDR)
بلڈ پریشر کم کرنے والے اجزا (ACE-inhibitory Peptides):
جی اے ایس ایس جی ایم پی جی (GASSGMPG)۔ ایل اے وائی اے (LAYA)۔ جی ایل پی ایل این ایل پی (GLPLNLP)۔
جی پی ایل (GPL)۔
امینو ایسڈز کا پروفائل:
جیلاٹن خشک حالت میں تقریباً اٹھانوے سے ننانوے فیصد پروٹین پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں درج ذیل اہم امینو ایسڈز پائے جاتے ہیں۔
گلائسین (Glycine): تقریباً چھبیس سے چونتیس فیصد۔ پرولین (Proline): تقریباً دس سے اٹھارہ فیصد۔ ہائیڈروکسی پرولین (Hydroxyproline): تقریباً سات سے پندرہ فیصد۔ ایلانین (Alanine): تقریباً آٹھ سے گیارہ فیصد۔ ارجینین (Arginine): تقریباً آٹھ سے نو فیصد۔ ایسپارٹک ایسڈ (Aspartic Acid): تقریباً چھ سے سات فیصد۔ گلوٹامک ایسڈ (Glutamic Acid): تقریباً دس سے بارہ فیصد۔ لائسین (Lysine): ہڈیوں کی مضبوطی اور کیلشیم کے جذب میں مددگار
ساختی کیمیائی اجزا
جیلاٹن ایک قدرتی پالیمر ہے جو پیپٹائڈ بانڈز کے ذریعے جڑے ہوئے امینو ایسڈز کی زنجیروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ کولیجن پیپٹائڈز: ہائیڈرولیسس کے عمل کے دوران پروٹین کے ریشوں کے ٹوٹنے سے بننے والے چھوٹے سالمات
وٹامنز
جیلاٹن میں قدرتی طور پر کوئی نمایاں یا قابلِ ذکر غذائی وٹامنز موجود نہیں ہوتے۔ البتہ یہ مختلف وٹامنز، مثلاً بیٹا کیروٹین، کے لیے ایک مؤثر کیریئر کے طور پر کام کرتا ہے۔
منرلز
پیداواری عمل کے دوران زیادہ تر منرلز الگ کر دیے جاتے ہیں، تاہم معمولی مقدار میں بعض منرلز موجود ہو سکتے ہیں۔
سوڈیم: تقریباً تیرہ اعشاریہ سات ملی گرام فی چمچ۔ فاسفورس: بالخصوص مچھلی سے حاصل شدہ جیلاٹن میں پایا جاتا ہے۔
آئرن: خاص طور پر مچھلی کی جلد سے تیار کردہ جیلاٹن میں رپورٹ کیا گیا ہے۔
کیلشیم: اگرچہ جیلاٹن ہڈیوں سے حاصل کیا جاتا ہے، مگر صاف شدہ جیلاٹن میں اس کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، تاہم یہ جسم میں کیلشیم کے جذب کے عمل میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

اثرات:
سریش غدد میں تحریک، عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تقویت پیدا کرتی ہے، مغلظ و مفری ، مولد رطوبات اثرات رکھتی ہے۔
خواص و فوائد:
سریش شدید چپک جانے والی چیز ہے جو چیزوں کے جوڑنے کے کام آتی ہے،عام طور پر موچی اس سے چمڑے کو جوڑتے ہیں، کتابوں کی جلدیں بنانے میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔مولد رطوبات ہونے کی وجہ سے سرعت انزال کے مریضوں کو کھلائی جاتی ہے۔ پھیپھڑوں کے زخم اور ان سے خون آنے کو روکنے کے لیے مفید ہے۔سریش زخموں کو جوڑنے کے کام بھی آتی ہے، چنانچہ ٹانکے لگانے کی ضرورت نہیں رہتی۔

جدید سائنسی تحقیقات:
غذائی استعمال: جیلاٹن خوراکی صنعت میں ایک اہم قدرتی جز کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ خوراک کو گاڑھا کرنے، جمانے اور ساخت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مٹھائیوں، جیلی، ڈیزرٹس، دہی، مارشمیلو، آئس کریم اور مختلف بیکری مصنوعات میں اسے قوام اور لچک پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی بے ذائقہ اور بے بو خصوصیت اسے غذاؤں میں شامل کرنے کے لیے موزوں بناتی ہے۔
ادویاتی استعمال: ادویہ سازی میں جیلاٹن کا استعمال نہایت وسیع ہے۔ کیپسول بنانے میں یہی بنیادی مادہ ہوتا ہے، کیونکہ یہ جسم میں آسانی سے حل ہو جاتا ہے۔ بعض شربتوں، ٹانکوں اور وٹامن سپلیمنٹس میں بھی اسے بطور بائنڈر اور اسٹیبلائزر شامل کیا جاتا ہے۔ جدید طب میں اسے دواؤں کے مؤثر جذب کے لیے ایک محفوظ ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
طبی و جراحی استعمال: جدید میڈیکل سائنس میں جیلاٹن کو زخموں کی پٹیاں، خون روکنے والے اسفنج، اور سرجری میں عارضی ٹشو سپورٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ پلازما سبسٹیٹیوٹ کے طور پر بھی استعمال ہوا ہے، کیونکہ یہ جسم کے اندر عارضی طور پر سیال کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
کاسمیٹک اور جلدی مصنوعات: کریموں، ماسک، شیمپو اور دیگر کاسمیٹک مصنوعات میں جیلاٹن کو جلد اور بالوں کو مضبوط بنانے والے جز کے طور پر شامل کیا جاتا ہے۔ یہ جلد کو وقتی کھچاؤ اور نرمی فراہم کرتا ہے، اسی لیے اینٹی ایجنگ مصنوعات میں اس کا استعمال عام ہے۔
جوڑوں اور ہڈیوں کی صحت
جدید تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ جیلاٹن میں موجود امینو ایسڈز، خاص طور پر گلائسین اور پرولین، جوڑوں کے کارٹلیج اور ہڈیوں کی ساخت کو سہارا دیتے ہیں۔ باقاعدہ استعمال سے جوڑوں کے درد، اکڑاؤ اور ہڈیوں کی کمزوری میں بہتری دیکھی گئی ہے، خصوصاً عمر رسیدہ افراد میں۔
جلد، بال اور ناخن
سائنسی مطالعات کے مطابق جیلاٹن جلد کی لچک بہتر بنانے، جھریوں کے اثرات کم کرنے اور بالوں و ناخنوں کی مضبوطی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ یہ اثر دراصل کولیجن کی تیاری میں اضافے کی وجہ سے ہوتا ہے، جو جلد کی بنیادی ساختی پروٹین ہے۔
ہاضمہ اور آنتوں کی صحت
جیلاٹن معدے اور آنتوں کی اندرونی جھلی کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔ جدید طبی مشاہدات کے مطابق یہ آنتوں کی حساسیت، بدہضمی اور بعض سوزشی مسائل میں افاقہ فراہم کر سکتا ہے، کیونکہ یہ نظامِ ہضم کے حفاظتی پردے کو سہارا دیتا ہے۔
بلڈ پریشر اور دل کی صحت
جیلاٹن سے حاصل ہونے والے بعض بایو ایکٹو پیپٹائڈز ایسے پائے گئے ہیں جو خون کی نالیوں کو پھیلانے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید تحقیق میں اسے دل کی صحت کے حوالے سے ایک معاون غذائی جز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
زخموں کی شفا اور ٹشو ریپئر
جدید بایومیڈیکل تحقیق میں جیلاٹن کو زخم بھرنے اور ٹشوز کی مرمت کے لیے ایک مؤثر مادہ مانا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے جدید وونڈ ڈریسنگز اور ٹشو انجینئرنگ میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
حوالہ جات:
Joy, J. M., et al. (2024). “A Review on Fish Skin-Derived Gelatin: Elucidating the Gelatin Peptides—Preparation, Bioactivity, Mechanistic Insights, and Strategies for Stability Improvement.” Foods, MDPI. | MDPI |
| Ahmad, M. I., et al. (2024). “Collagen and gelatin: Structure, properties, and applications in food industry.” International Journal of Biological Macromolecules. | International Journal of Biological Macromolecules |
| Mikhailov, O. V. (2023). “Gelatin as It Is: History and Modernity.” International Journal of Molecular Sciences. | International Journal of Biological |
| Ataman Kimya A.Ş. “GELATIN Technical Data and Health Benefits.” | |
| National Library of Medicine (NCBI). “Gelatin – MeSH (Medical Subject Headings).” | NCBI |
| Wikipedia Contributors. “Gelatin: Composition, Properties, and Uses.” | Wikipedia |
| pmc |

مقدار خوراک:
ایک سے دو گرام
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply