Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. سرمہ

سرمہ

نام :

عربی میں کحل، اثمد۔ بنگالی میں شرمہ اور ہندی میں انجن کہتے ہیں۔

Hakeem Syed Abdulwahab Shah Sherazi

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)

نام انگلش:

Name: Antimony Sulfide

Scientific name: Stibium sulfuratum

Family: Mineral & Chemical Compounds

 

تاثیری نام:
مقام پیدائش:
مزاج  طب یونانی:
مزاج  طب پاکستانی:
نفع خاص:

قابض، مجفف ، مانع عفونت، حابس خون، مقوی بصارت

ہند و پاک

خشک سرد درجہ دوم

عضلاتی اعصابی

آنکھوں کے لیے

 

سرمہ Antimony Sulfide सुरमा
سرمہ Antimony Sulfide सुरमा

تعارف:

سرمہ ایک قدیم اور معروف معدنی مادہ ہے جو صدیوں سے آنکھوں کی زیبائش اور بعض طبی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ یہ دراصل قدرتی طور پر پائے جانے والے معدنی پتھر سے حاصل کیا جاتا ہے جس کا بنیادی جز اینٹمونی سلفائیڈ ہوتا ہے۔ قدیم عرب، ایرانی، ہندی اور یونانی طب میں سرمہ کو نہ صرف زینت بلکہ آنکھوں کی قوت، صفائی اور بعض امراض میں معاون سمجھا گیا ہے۔ احادیث میں بھی خاص طور پر اثمد سرمہ کا ذکر ملتا ہے، جس کی وجہ سے برصغیر اور عالم اسلام میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔

اصلی سرمہ عموماً سیاہ یا گہرے سرمئی رنگ کا پتھر ہوتا ہے جس میں قدرتی چمک پائی جاتی ہے۔ اس کی ساخت سخت مگر بھربھری سی ہوتی ہے اور رگڑنے پر باریک سیاہ سفوف بن جاتا ہے۔ خالص سرمہ بے بو ہوتا ہے اور اس کا ذائقہ ہلکا سا کسیلا محسوس ہو سکتا ہے۔ جب اسے پتھر یا شیشے پر رگڑا جائے تو یہ گہرا سیاہ نشان چھوڑتا ہے۔ قدرتی سرمہ عام طور پر کانوں یا معدنی علاقوں سے حاصل کیا جاتا ہے، جبکہ بازار میں دستیاب ملاوٹی سرمہ اکثر حد سے زیادہ چمکدار، ہلکا یا کیمیائی بو والا ہو سکتا ہے، جو اصل سرمہ کی علامت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سرکہ

یہ بھی پڑھیں: سرس

یہ بھی پڑھیں: سردا

سرمہ Antimony Sulfide सुरमा

اثمد سرمہ

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تمہارے سرموں میں سب سے بہتر ‘اثمد’ ہے، یہ بینائی کو جلا بخشتا ہے (تیز کرتا ہے) اور بال (پلکیں) اگاتا ہے۔” (جامع ترمذی: 1757، سنن ابوداؤد: 3878)

حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس میں سے آپ ﷺ ہر رات (سونے سے پہلے) تین سلائیاں اس آنکھ میں اور تین سلائیاں اس آنکھ میں لگاتے تھے۔ (شمائل ترمذی)

اثمد ایک خاص قسم کا پتھر ہے جو سیاہی مائل سرخی یا بھورا رنگ رکھتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر اصفہان (ایران) اور مراکش سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ بینائی کو تیز کرتا ہے، پلکوں کے بال اگاتا ہے اور آنکھوں کی سرخی و سوزش کو دور کرتا ہے۔ آج کل مارکیٹ میں عام کوئلے یا سیسے کو پیس کر سرمہ بنا دیا جاتا ہے، اس لیے اصلی اثمد کی پہچان ضروری ہے۔ اصلی اثمد پتھر دیکھنے میں سیاہی مائل سرخی (Dark Reddish Black) یا بھورا ہوتا ہے۔ اس کو توڑنے پر اندر سے چمکدار ریشے نظر آتے ہیں۔یہ پتھر بہت نرم اور زود اثر ہوتا ہے۔ جب اسے پیسا جائے تو یہ آسانی سے باریک ہو جاتا ہے اور اس میں کرچیلا پن (Grittiness) نہیں رہتا۔اصلی اثمد کو اگر پانی میں ڈال کر ہلایا جائے تو یہ بہت جلد نیچے بیٹھ جاتا ہے اور پانی کو زیادہ گدلا نہیں کرتا، جبکہ ملاوٹ شدہ سرمہ پانی میں تیرتا رہ سکتا ہے یا رنگ چھوڑ دیتا ہے۔اصلی اثمد کی چمک قدرتی ہوتی ہے جو دیکھنے میں آنکھوں کو بھلی لگتی ہے، جبکہ نقلی سرموں میں مصنوعی چمک (Glitter) شامل کی جاتی ہے جو آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

کیمیاوی و غذائی  اجزا:

سرمہ کے اجزا

اینٹمونی ٹرائی سلفائیڈ (Antimony Trisulfide) اینٹمونی (Antimony)          سلفر (Sulfur)

بعض روایتی یا غیر خالص سرمہ میں پائے جانے والے ممکنہ اجزا

سیسہ سلفائیڈ (Lead Sulfide)              سیسہ کے دیگر مرکبات (Lead Compounds)      کاربن یا کوئلہ (Carbon / Charcoal)

معدنی راکھ یا ذرات (Mineral Ash / Particles)

یہ بات ذہن میں رہے کہ اصل اور خالص سرمہ (اثمد) کا بنیادی اور حقیقی جز صرف اینٹمونی ٹرائی سلفائیڈ ہوتا ہے، جبکہ باقی اجزا عموماً ملاوٹ یا تجارتی تیاریوں میں پائے جاتے ہیں۔

سرمہ Antimony Sulfide सुरमा

اثرات:

سرمہ محرک عضلات، محلل اعصاب اور مسکن غدد ہوتا ہے۔قابض، مجفف رطوبات، مانع عفونت، حابس خون، مقوی و محافظ بصارت اثرات رکھتا ہے۔

خواص و فوائد:

سرمہ مشہور عام چیز ہے جسے سلائی کے ذریعہ آنکھوں میں لگایا جاتا ہے، جدید دور سے پہلے ناصرف بطور علاج بلکہ بطور بیوٹی بھی اس کا استعمال آنکھوں میں کیا جاتا تھا۔سرمہ آنکھوں سے پانی آنا، آشوب چشم، اور سوزش چشم رفع کرتا ہے۔ سفید موتیا کو روکتا ہے۔ مانع عفونت ہونے کی وجہ سے بہتنے والے زخموں اور پیپ کو روکنے کے لیے بھی مفید ہے، زخموں پر لگانے سے پیپ خون ختم اور زخم مندمل ہو جاتا ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات:

سرمہ صدیوں سے آنکھوں کی زینت اور روایتی علاج کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ روایتی طب میں اسے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے، تھکن کم کرنے اور آنکھ کی صفائی میں معاون سمجھا جاتا ہے۔ بعض سائنسی مشاہدات کے مطابق سرمہ آنکھ کے گرد ایک باریک حفاظتی تہہ بنا سکتا ہے جو تیز روشنی اور ماحولیاتی ذرات کے براہ راست اثر کو کچھ حد تک کم کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم تہذیبوں میں اسے سورج کی تمازت اور گرد و غبار سے تحفظ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ کچھ روایتی مشاہدات یہ بھی بتاتے ہیں کہ سرمہ میں جراثیم کے خلاف ہلکی مزاحمتی صلاحیت ہو سکتی ہے، جس سے آنکھوں میں خارش یا معمولی جلن میں وقتی سکون محسوس ہوتا ہے۔ تاہم یہ تمام فوائد زیادہ تر تجرباتی اور روایتی مشاہدات پر مبنی ہیں، جدید طب میں انہیں مکمل علاج کا درجہ حاصل نہیں۔

بازاری سرمہ کے نقصانات

سائنسی نقطہ نظر سے سرمہ کے استعمال میں احتیاط نہایت ضروری ہے، کیونکہ بازاری سرمہ میں بھاری دھاتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ بعض اقسام میں سیسہ یا اینٹمونی جیسے عناصر پائے جاتے ہیں جو مسلسل یا طویل استعمال کی صورت میں جسم میں جذب ہو سکتے ہیں۔ یہ دھاتیں اعصابی نظام، جگر اور خون پر منفی اثرات ڈال سکتی ہیں، خاص طور پر بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ غیر معیاری یا ملاوٹی سرمہ آنکھوں میں جلن، سوزش، پانی آنا اور انفیکشن کا سبب بھی بن سکتا ہے، البتہ خالص قدرتی سرمہ اعتدال سے لگانا نقصان دہ نہیں ہے۔

حوالہ جات:

 

سرمہ Antimony Sulfide सुरमा

مقدار خوراک:

خوراکی طور پر استعمال نہیں ہوتا۔

Important Note

اعلان دستبرداری
اس مضمون کے مندرجات کا مقصد عام صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے ، لہذا اسے آپ کی مخصوص حالت کے لیے مناسب طبی مشورے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس مضمون کا مقصد جڑی بوٹیوں اور کھانوں کے بارے میں تحقیق پر مبنی سائنسی معلومات کو شیئر کرنا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں بیان کردہ کسی بھی تجویز پر عمل کرنے یا اس مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر علاج کے کسی پروٹوکول کو اپنانے سے پہلے ہمیشہ لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ہمیشہ لائسنس یافتہ، تجربہ کار ڈاکٹر اور حکیم سے علاج اور مشورہ لیں۔


Discover more from TabeebPedia

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Discover more from TabeebPedia

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading