Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. سانڈہ
سانڈہ

سانڈہ

  • January 11, 2026
  • 0 Likes
  • 127 Views
  • 0 Comments

سانڈہ

نام :

عربی میں ضب۔ فارسی میں سوسمار کہتے ہیں۔

Hakeem Syed Abdulwahab Shah Sherazi

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)

نام انگلش:

Name: Indian Spiny-tailed Lizard

Scientific name: Uromastyx hardwickii

Family: Agamidae

تاثیری نام:
مقام پیدائش:
مزاج  طب یونانی:
مزاج  طب پاکستانی:
نفع خاص:
ملطف، مقوی اعصاب، مسہج باہہند و پاکترگرماعصابی غدی 

سانڈہ Indian Spiny-tailed Lizard Uromastyx hardwickii सांडा छिपकली

تعارف:

سانڈہ ایک مضبوط، بھاری جسم والا صحرائی رینگنے والا جانور ہے۔ اس کی سب سے نمایاں علامت اس کی موٹی اور کانٹوں والی دم ہے، جو سخت چھلکوں پر مشتمل ہوتی ہے اور دفاع کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ جسم کا رنگ عموماً زرد مائل بھورا، خاکی یا سرمئی ہوتا ہے جو صحرائی ریت سے ہم آہنگ رہتا ہے۔ جلد کھردری اور موٹی ہوتی ہے۔ سر قدرے چپٹا، ٹانگیں مضبوط اور پنجے کھدائی کے لیے موزوں ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سانڈا خاص طور پرصحرائے تھر، چولستان، تھرپارکر، بلوچستان کے خشک و نیم صحرائی علاقے اور جنوبی پنجاب کے بعض ریگستانی حصوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ زمین میں گہرے بل بناتا ہے اور زیادہ تر اسی میں رہتا ہے۔سائنسی طور پر یہ ایک خطرے سے دوچار نسل ہے، اس لیے اس کا تجارتی شکار بین الاقوامی قوانین کے تحت ممنوع ہے۔

سانڈا زیادہ تر سبزی خور جانور ہے۔ یہ صحرائی گھاس، پودوں کے پتے، بیج اور بعض جھاڑیوں کو کھاتا ہے۔ شدید گرمی میں بل کے اندر رہتا ہے اور صبح یا شام کے وقت باہر نکلتا ہے۔ سردیوں میں طویل عرصے کے لیے سست یا نیم خوابیدہ حالت میں چلا جاتا ہے۔ پاکستانی سانڈا یعنی Uromastyx hardwickii کا تعلق نہ تو مانیٹر چھپکلی (Varanus) سے ہے اور نہ ہی امریکی Desert Spiny Lizard (Sceloporus magister) سے۔ ان سب کو ایک سمجھنا سائنسی طور پر غلط ہے، مگر عوامی سطح پر یہی غلط فہمی پائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سانپ

یہ بھی پڑھیں: سالپرنی

یہ بھی پڑھیں: ساگودانہ

کیمیاوی و غذائی  اجزا:

سانڈا (Uromastyx hardwickii) ایک رینگنے والا جانور ہے جس کی جسمانی چربی پر محدود مگر مستند سائنسی تحقیق موجود ہے۔ تحقیقی مطالعات کے مطابق اس کی چربی میں بنیادی طور پر فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں، جن میں پالمیٹک ایسڈ، اولیئک ایسڈ، ٹرائی گلسرائیڈز اور بعض سیر شدہ و غیر سیر شدہ چکنائی والے مرکبات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیل کی ساخت سے متعلق فاسفولیپڈز اور توانائی کے ذخیرے سے وابستہ حیاتیاتی اجزا بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ بعض تحقیقی تجزیات میں Uromastyx کی اقسام میں اومیگا سکس اور معمولی مقدار میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی موجودگی بھی بیان کی گئی ہے۔ یہ تمام معلومات جدید سائنسی طریقوں جیسے GC-MS اور بایو کیمیکل پروفائلنگ سے حاصل کی گئی ہیں ۔

سانڈہ Indian Spiny-tailed Lizard Uromastyx hardwickii सांडा छिपकली
سانڈہ Indian Spiny-tailed Lizard Uromastyx hardwickii सांडा छिपकली

اثرات:

سانڈہ کے اجزا اعصاب میں تحریک، غدد میں تحلیل اور عضلات میں تسکین پیدا کرتے ہیں۔ ملطف، مقوی اعصاب، مسہج باہ  اثرات رکھتے ہیں۔

خواص و فوائد:

سانڈہ اسلامی نقطہ نظر میں حرام جانور ہے لہذا اس کا خوراکی طور پر استعمال حرام ہے، البتہ بیرونی طور پر استعمال جائز ہے لیکن جہاں اس کی چربی یا تیل لگایا جائے اس جگہ کو نماز سے پہلے دھونا بھی ضروری ہے۔

سانڈے کی چربی مسکن عضلات ہوتی ہے جس کی وجہ سے عضلات میں رطوبات کا اجتماع ہوتا ہے اور یہ چربی عضلات کو پھلا دیتی ہے، اسی لیے عام طور پر اس کے تیل کو عضو تناسل پر لگایا جاتا ہے، جس سے وہ پھول جاتا ہے، اور اس میں موٹاپا آجاتا ہے۔

سانڈہ Indian Spiny-tailed Lizard Uromastyx hardwickii सांडा छिपकली

جدید سائنسی تحقیقات:

پاکستان کے صحرائی علاقوں میں پایا جانے والا سانڈا (Uromastyx hardwickii) ایک رینگنے والا جانور ہے جس کی جسمانی چربی پر محدود مگر مستند سائنسی تحقیق موجود ہے۔ تحقیقی مطالعات کے مطابق اس کی چربی میں بنیادی طور پر فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں، جن میں پالمیٹک ایسڈ، اولیئک ایسڈ، ٹرائی گلسرائیڈز اور بعض سیر شدہ و غیر سیر شدہ چکنائی والے مرکبات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیل کی ساخت سے متعلق فاسفولیپڈز اور توانائی کے ذخیرے سے وابستہ حیاتیاتی اجزا بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ بعض تحقیقی تجزیات میں Uromastyx کی اقسام میں اومیگا سکس اور معمولی مقدار میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی موجودگی بھی بیان کی گئی ہے۔ یہ تمام معلومات جدید سائنسی طریقوں جیسے GC-MS اور بایو کیمیکل پروفائلنگ سے حاصل کی گئی ہیں، تاہم ان اجزا کی بنیاد پر سانڈے کے تیل کے مشہور طبی یا طاقت سے متعلق دعوے سائنسی طور پر ثابت نہیں ہوتے بلکہ یہ معلومات صرف اس جانور کی حیاتیاتی ساخت کو سمجھنے تک محدود ہیں۔

مقدار خوراک:

ممنوع

حوالہ جات:
https://www.usa-journals.com/wp-content/uploads/2013/11/Ali-Mohamed_Vol112.pdfیوایس اے جرنل
https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/16140030/پب میڈ

https://ijbpas.com/pdf/2019/November/MS_IJBPAS_2019_4860.pdf

ijbpas

Important Note

اعلان دستبرداری
اس مضمون کے مندرجات کا مقصد عام صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے ، لہذا اسے آپ کی مخصوص حالت کے لیے مناسب طبی مشورے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس مضمون کا مقصد جڑی بوٹیوں اور کھانوں کے بارے میں تحقیق پر مبنی سائنسی معلومات کو شیئر کرنا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں بیان کردہ کسی بھی تجویز پر عمل کرنے یا اس مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر علاج کے کسی پروٹوکول کو اپنانے سے پہلے ہمیشہ لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ہمیشہ لائسنس یافتہ، تجربہ کار ڈاکٹر اور حکیم سے علاج اور مشورہ لیں۔


Discover more from TabeebPedia

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Discover more from TabeebPedia

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading