Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. سانپ

Table of Contents

سانپ

نام :

عربی میں حیہ، ثعبان ۔ فارسی میں مار۔ ہندی میں ناگ۔ پنجابی میں سپ کہتے ہیں۔

Hakeem Syed Abdulwahab Shah Sherazi

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)

نام انگلش:

Name: Snake

Scientific name:

Family: Colubridae, Viperidae, Elapidae,  Boidae,  Pythonidae,  Atractaspididae

تاثیری نام:
مقام پیدائش:
مزاج  طب یونانی:
مزاج  طب پاکستانی:
نفع خاص:
ہند و پاکتینوں مزاجتینوں مزاج

سانپ Snake Serpentes साँप
سانپ Snake Serpentes साँप

تعارف:

سانپ ایک لمبا، بے ٹانگ، رینگنے والا جانور ہے جس کی شناخت اس کے چھلکوں، دو شاخہ زبان، پلکوں اور بیرونی کانوں کی عدم موجودگی، اور منفرد حرکتی انداز سے ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں اس کی سینکڑوں اقسام پائی جاتی ہیں جن میں زہریلی اور بے ضرر دونوں شامل ہیں۔

سانپ مہرہ دار جانور ہیں یعنی ریڑھ کی ہڈی والے۔ یہ سرد خون والے رینگنے والے جانوروں میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کے جسم پر چھلکے ہوتے ہیں اور یہ عام طور پر انڈے دیتے ہیں، اگرچہ کچھ اقسام بچے بھی جنتی ہیں۔ سانپ کی سب سے نمایاں پہچان اس کا لمبا، باریک اور بے ٹانگ جسم ہے۔ اس کے جسم پر چمکدار چھلکے ہوتے ہیں جو باقاعدہ ترتیب سے جڑے ہوتے ہیں۔ سانپ کے پلکیں نہیں ہوتیں بلکہ آنکھوں پر شفاف جھلی ہوتی ہے جو مستقل کھلی رہتی ہے۔ کانوں کے بیرونی سوراخ نہیں ہوتے، اس لیے یہ آواز کو زمین کی ارتعاش سے محسوس کرتا ہے۔ زبان دو شاخہ ہوتی ہے جو سونگھنے اور ماحول کو پہچاننے میں مدد دیتی ہے۔سانپ کا سر عموماً جسم سے الگ نمایاں ہوتا ہے، خاص طور پر زہریلے سانپوں میں۔ دانت پیچھے کی طرف مڑے ہوتے ہیں تاکہ شکار پھسل کر نکل نہ سکے۔ زہریلے سانپوں میں مخصوص زہریلے دانت پائے جاتے ہیں جن سے زہر خارج ہوتا ہے۔

سانپ زمین پر رینگتے ہوئے حرکت کرتا ہے۔ یہ اپنے جسم کے پٹھوں اور چھلکوں کی مدد سے لہردار انداز میں آگے بڑھتا ہے۔ بعض اقسام درختوں پر چڑھ سکتی ہیں اور کچھ پانی میں بھی تیر سکتی ہیں۔ سانپ دنیا کے تقریباً تمام خطوں میں پائے جاتے ہیں، سوائے انتہائی سرد علاقوں کے۔ یہ جنگلات، صحراؤں، کھیتوں، پہاڑوں اور بعض اوقات انسانی آبادیوں کے قریب بھی رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سالپرنی

یہ بھی پڑھیں: ساگودانہ

یہ بھی پڑھیں: ساگوان

اقسام:

ویسے تو سانپوں کے بے شمار اقسام اور نام ہیں لیکن چند مشہور اقسام اور ان کے نام یہ ہیں:

کوبرا (Cobra)        کنگ کوبرا (King Cobra)    کریٹ (Krait)        کامن کریٹ (Common Krait)

رسل وائپر (Russell’s Viper)             ساکیل وائپر (Saw-scaled Viper)     ریت کا سانپ (Sand Snake)

چوہا سانپ (Rat Snake)        اجگر (Python)      اناکونڈا (Anaconda)            بوآ کنسٹرکٹر (Boa Constrictor)

سبز درختی سانپ (Green Tree Snake)               پانی کا سانپ (Water Snake)                دو منہ والا سانپ (Blind Snake)

کیمیاوی و غذائی  اجزا:

سانپ کے جسم میں سب سے زیادہ بائیو ایکٹو مرکبات اس کے زہر میں پائے جاتے ہیں۔ یہ اجزا مختلف حیاتیاتی اثرات رکھتے ہیں اور جدید سائنسی تحقیق میں ان پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔

پروٹینز (Proteins) پیپٹائیڈز (Peptides)             نیوروٹاکسنز (Neurotoxins)   ہیماٹوکسینز (Hemotoxins)

سائٹوٹاکسنز (Cytotoxins)    کارڈیوٹاکسنز (Cardiotoxins)                               فاسفولیپیز اے ٹو (Phospholipase A2)

میٹالوپروٹی نیریز (Snake Venom Metalloproteases)                   سیرین پروٹی نیریز (Serine Proteases)

تھری فنگر ٹاکسنز (Three Finger Toxins)          ایل امینو ایسڈ آکسیڈیز (L Amino Acid Oxidases)

کونٹز پیپٹائیڈز (Kunitz Peptides)       سی ٹائپ لیکٹنز (C Type Lectins)       ہائیالورونیڈیز (Hyaluronidase)

نیوکلئوٹائیڈز (Nucleotides)                 امینو ایسڈز (Amino Acids)                                لپڈز (Lipids)       میٹل آئنز (Metal Ions)

سانپ Snake Serpentes साँप

اثرات:

یہاں میں اپنی ایک دو سال پہلے کی گئی تحقیق اور مضمون پیش کر رہا ہوں جو انٹر نیٹ پر شائع کیا گیا تھا:

 سانپ کے زہروں کی  تحریک اور مزاج

میں پچھلے کافی عرصے سے اس بات کی تحقیق میں لگا ہوا تھا کہ سانپوں کے زہر کی تحریک اور مزاج کا معلوم کیا جائے، چنانچہ اس مسئلے کے لیے حل کے لیے پہلے کئی مہینوں تک میں نے سانپوں کو سٹڈی کرنا شروع کیا، بے شمار ویڈیوز دیکھیں، سائنسی تحقیقات کا مطالعہ کیا، اور زہروں کے اثرات کے بارے معلومات حاصل کیں۔ اس کام کے لیے اردو میں مواد بہت کم تھا چنانچہ انگلش ویب سائٹس اور ویڈیوز کا سہارا لیا اور کئی مہینے یہ سٹڈی چلتی رہی۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ تھا زہروں کو نظریہ قانون مفرد اعضاء کے مطابق تطبیق دینے کا، چنانچہ اس مسئلے کے لیے ان کے اثرات کا جائزہ لیا اور جدید سہولت اے آئی کا سہارا لیتے ہوئے اینالائسز کیا اور کافی محنت کے نتیجے میں جو نتائج میں نے حاصل کیے انہیں نیچے لکھ رہا ہوں۔ ماہرین نظریہ مفرد اعضاء اپنی آراء مجھے دے سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے اور انسانیت کے لیے نفع رسانی کا ذریعہ بنائے۔ فقط: حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ۔



سانپ کے زہر (Snake Venom) کو عام طور پر تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے، جو اس کے اثرات اور کیمیائی ساخت کی بنیاد پر ہوتی ہیں:

1۔نیوروٹوکسک( Neurotoxic Venom)  زہر کیا ہے؟

نیوروٹوکسک زہر ایک ایسا خطرناک زہر ہوتا ہے جو براہِ راست اعصابی نظام پر حملہ کرتا ہے۔ یہ زہر نہ صرف شدید درد پیدا کرتا ہے بلکہ رفتہ رفتہ جسم کو فالج کی کیفیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس زہر میں موجود مخصوص پروٹینز اعصابی خلیوں پر حملہ آور ہو کر دماغ اور جسم کے درمیان پیغام رسانی کے نظام کو درہم برہم کر دیتے ہیں۔     مثال کے طور پر، اگر آپ نے غلطی سے گرم برتن کا دستہ پکڑ لیا، تو دماغ فوراً ہاتھ کے عضلات کو پیغام بھیجتا ہے کہ وہ اسے چھوڑ دیں۔ لیکن جب نیوروٹوکسک زہر جسم میں موجود ہو، تو یہ پیغام دماغ سے عضلات تک پہنچ ہی نہیں پاتا — جس کے نتیجے میں جسم وقت پر حرکت نہیں کر پاتا۔

 اگر نیوروٹوکسک سانپ کاٹ لے؟

اگر کسی شخص کو ایسے سانپ نے کاٹ لیا جس کا زہر نیوروٹوکسک ہو، تو سب سے پہلے کاٹے کی جگہ پر شدید جلن یا درد محسوس ہو گا، اور اس کے بعد فالج جیسے آثار ظاہر ہونے لگیں گے، جس کی ابتدائی علامات میں:

پلکوں کا بھاری ہو جانا، چہرے پر مسکراہٹ کا نہ آ پانا، زبان کا مفلوج ہو جانا، آواز کا بند ہو جانا

شامل ہو سکتے ہیں۔ جیسے جیسے زہر جسم میں پھیلتا ہے، بازو اور دیگر عضلات بھی بے حس و حرکت ہو جاتے ہیں۔اگر مریض کو فوراً کسی طبی سہولت تک پہنچا دیا جائے تو اسے اینٹی وینم (زہر کا تریاق) دیا جا سکتا ہے، جو زہر کے پھیلاؤ کو روک کر جسم پر ہونے والے نقصان کو کم یا ختم کر سکتا ہے۔

لیکن اگر متاثرہ شخص کسی دور دراز یا دیہی علاقے میں ہو، مثلاً افریقہ کے کسی پسماندہ گاؤں میں، جہاں فوری علاج ممکن نہ ہو، تو نیوروٹوکسک زہر کا سب سے ہولناک اثر ظاہر ہو سکتا ہے: یعنی پھیپھڑوں کا مفلوج ہو جانا۔ جب پھیپھڑے کام کرنا بند کر دیتے ہیں تو مریض سانس لینا بند کر دیتا ہے   اور بالآخر آکسیجن کی کمی سے موت واقع ہو جاتی ہے۔

قانون مفرد اعضاء کے مطابق

نیوروٹاکسن (Neurotoxin)   اعصابی تحریک

یہ زہر دماغ اور مرکزی اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے، سانس کی نالی مفلوج ہو سکتی ہے (respiratory paralysis)، بینائی، بولنے، سننے، یادداشت اور توازن پر اثر، رعشہ، بے ہوشی یا موت واقع ہو سکتی ہے۔

◉ مفرد اعضاء کے لحاظ سے:

تحریک: اعصاب (دماغ، نخاع، حواس خمسہ، نیند، حافظہ، سانس)

تحلیل: غدد (مثلاً جگر، گردہ، طحال میں ضعف یا سکڑاؤ)

تسکین: عضلات (کمزوری، سستی، حرکت میں سستی)

◉ علامات:سانس رک جانا یا مدھم ہو جانا۔ شدید چکر، متلی، کمزوری۔ ہاتھ پاؤں مفلوج، دماغی غنودگی۔ زبان لڑکھڑانا

نیوروٹاکسن ( Neurotoxic Venom) پیدا کرنے والے سانپ

  1. کوبرا (Cobra) بیشتر اقسام
  2. کریٹ (Krait)
  3. کورل سانپ (Coral Snake)
  4. سمندری سانپ (Sea Snakes)
  5. بلیک مامبا (Black Mamba)
  6. ٹائپن (Inland Taipan)

اہم نوٹ: کوبرا کے زہر میں ایک اور اہم اور موثر زہر کارڈیو ٹاکسنز (Cardiotoxins) بھی ہوتا ہے، یہ بائیو ایکٹو اجزا دل کے افعال کو متاثر کرتے ہیں اور دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی پیدا کر سکتے ہیں۔

نمبرشمار
سانپ کی قسم
مختصر تعارف
1
کوبرا (Cobra)
مختلف اقسام کے کوبرا مختلف انداز سے زہر چھوڑتے ہیں، کچھ تھوکتے بھی ہیں۔ زہر سیدھا اعصاب پر اثر انداز ہوتا ہے
2
کریٹ (Krait)
ان کا زہر تیز رفتار اثر رکھتا ہے، رات کو زیادہ فعال ہوتے ہیں، اکثر سوتے ہوئے انسانوں کو کاٹتے ہیں۔
3کورل سانپ (Coral Snake)خوبصورت رنگوں والے سانپ، اکثر دودھ سانپ (Milksnake) سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ان کے جسم پر سرخ اور پیلے رنگ کے بینڈ ہوتے ہیں۔
4سمندری سانپ (Sea Snake)زہر انتہائی طاقتور ہوتا ہے لیکن دانت چھوٹے ہونے کی وجہ سے تھوڑی مقدار ہی خارج ہوتی ہے۔
5بلیک مامبا (Black Mamba)دنیا کے خطرناک ترین سانپوں میں شمار ہوتا ہے، تھوڑی سی مقدار میں بھی مہلک زہر رکھتا ہے۔
6ٹائپن (Inland Taipan)دنیا کا سب سے زہریلا سانپ، آسٹریلیا میں پایا جاتا ہے، ایک کاٹ سے کئی انسانوں کو مارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نیوروٹاکسن ( Neurotoxic Venom) پیدا کرنے والے سانپ


2۔ ہیماٹوکسن (Hemotoxic Venom) زہر کیا ہے؟

ہیماٹوکسک زہر ایک ایسا مہلک زہر ہوتا ہے جو انسانی جسم کے خون اور بافتوں (tissues) کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ زہر خون کے خلیات، شریانوں اور گرد و نواح کے عضلات کو شدید نقصان پہنچاتا ہے، جس کے نتیجے میں خون بہنے، سوجن، گہرے نیل، اور اندرونی تباہی جیسے خطرناک اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔

ہیماٹوکسک زہر میں پائے جانے والے مخصوص خامرے (enzymes) خون کے جمنے کے نظام کو بگاڑ دیتے ہیں، جس سے خون یا تو حد سے زیادہ جمنے لگتا ہے یا بلکل بھی نہیں جمتا ، دونوں صورتیں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ بعض سانپوں کا زہر اس قدر طاقتور ہوتا ہے کہ وہ جسم کے ٹشوز کو گلانا شروع کر دیتا ہے، جس سے زخموں میں گینگرین (gangrene) یا جلد کی تباہی کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

 اگر ہیماٹوکسک سانپ کاٹ لے؟

اگر کسی شخص کو ایسے سانپ نے کاٹ لیا جس کا زہر ہیماٹوکسک ہو، تو علامات فوری طور پر ظاہر ہو سکتی ہیں، جیسے:

  • کاٹے کی جگہ پر شدید درد، سوجن اور لالی
  • چند گھنٹوں میں نیلاہٹ یا سیاہ دھبے
  • جسم کے دیگر حصوں میں خون بہنے یا اندرونی خونریزی کے آثار
  • پیشاب میں خون آنا یا ناک سے خون بہنا
  • دل کی دھڑکن کا تیز یا غیر متوازن ہونا

زہر کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی متاثرہ عضو سوج کر بڑا ہو جاتا ہے اور جلد پر چھالے اور زخم بننے لگتے ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو متاثرہ جگہ کے ٹشوز ختم ہو سکتے ہیں، اور متاثرہ عضو کاٹنے (amputation) تک کی نوبت آ سکتی ہے۔

قانون مفرد اعضاء کے مطابق

ہیوموٹاکسن (Hemotoxin)  عضلاتی تحریک

یہ زہر خون اور اندرونی اعضاء (جگر، گردہ، طحال) کو متاثر کرتا ہے، خون بہنے یا جمنے کے عمل میں رکاوٹ، خون کی نالیوں کا پھٹ جانا، پیشاب میں خون، اندرونی خون ریزی۔

◉ مفرد اعضاء کے لحاظ سے:

تحریک: عضلات (خلیاتی و بافتی تحریک: درد، ورم، کھچاؤ)

تحلیل: اعصاب (اعصابی کمزوری، سن ہونا، تحریک میں کمی)

تسکین: غدد (جگر، طحال، گردے سست ہو جاتے ہیں)

◉ علامات:جسم پر نیل، سوجن۔ پیشاب یا قے میں خون۔جگر یا گردے کی سوجن۔ شدید کمزوری، جلد پیلی۔

ہیماٹوکسن (Hemotoxic Venom)زہر  پیدا کرنے والے سانپ

یہ خون اور خون کی نالیوں کو متاثر کرتے ہیں:

  1. ایسٹرن ڈائمنڈ بیک رِیٹل سنیک (Eastern Diamondback Rattlesnake)
  2. ماساساؤگا (Massasauga)
  3. بوم سلینگ (Boomslang)
  4. کاپرہیڈ (Copperhead)
  5. رسل وائپر (Russell’s Viper)
  6. ساو اسکیلڈ وائپر (Saw-Scaled Viper)
نمبرشمارسانپ کی قسممختصر تعارف
1ایسٹرن ڈائمنڈ بیک ریٹل سنیک

(Eastern Diamondback Rattlesnake)

امریکہ کا سب سے بڑا زہریلا سانپ۔زہر خون کی شریانوں کو تباہ کرتا ہے اور شدید اندرونی خون بہنے کا باعث بنتا ہے۔
2ماساساؤگا

(Massasauga)

شمالی امریکہ میں پایا جانے والا چھوٹا ریٹل سنیک۔زہر خون میں جمنے والے خلیات کو نقصان پہنچاتا ہے۔
3بوم سلینگ

(Boomslang)

افریقہ کا سبز رنگ کا چھوٹا سانپ، دکھنے میں معصوم مگر انتہائی خطرناک۔زہر خاموشی سے خون بہنے کا باعث بنتا ہے، اکثر دیر سے علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
4کاپر ہیڈ

(Copperhead)

کم زہریلا سمجھا جاتا ہے، مگر زخم کی سوجن اور خون کی خرابی کا باعث بنتا ہے۔امریکہ میں پایا جاتا ہے۔
5رسل وائپر

(Russell’s Viper)

جنوبی ایشیا کا مشہور زہریلا سانپ۔زہر خون میں رکاوٹ اور اندرونی سوجن و فالج پیدا کرتا ہے۔
6سا اسکیلڈ وائپر

(Saw-scaled Viper)

جنوبی ایشیا کا مشہور زہریلا سانپ۔چھوٹے قد کا مگر انتہائی خطرناک سانپ۔زہر سے خون کا دباؤ گر جاتا ہے اور جمنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔
2 ہیماٹوکسن (Hemotoxic Venom)زہر پیدا کرنے والے سانپ


3۔ سائٹوٹاکسن (Cytotoxic Venom)  زہر کیا ہے؟

سائٹوٹاکسن زہر ایک ایسا تباہ کن زہر ہوتا ہے جو جسم کے خلیوں (Cells) پر براہِ راست حملہ کرتا ہے۔ یہ زہر نہ صرف جلد اور گوشت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ خلیاتی سطح پر سوزش، گلنے، سوجن، اور ٹشوز کی موت (necrosis) کا باعث بنتا ہے۔ جب یہ زہر انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے جِلد، پٹھوں، اور خون کی باریک رگوں کو نشانہ بناتا ہے، جس سے شدید جلن، سوجن، سیاہ دھبے، چھالے اور گہرے زخم نمودار ہوتے ہیں۔ یہ زہر اس قدر تیزی سے ٹشوز کو کھاتا ہے کہ بعض اوقات متاثرہ جگہ سڑنے لگتی ہے۔

 اگر سائٹوٹاکسن سانپ کاٹ لے؟

اگر کسی شخص کو ایسے سانپ نے کاٹ لیا ہو جس کا زہر سائٹوٹاکسن ہو، تو درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

  • زخم کی جگہ پر شدید درد اور سوزش
  • جلد پر چھالے یا پانی بھرے غبارے بننا
  • متاثرہ حصے کا رنگ نیلا، جامنی یا سیاہ ہونا
  • کچھ گھنٹوں میں جلد اور گوشت گلنے لگنا
  • زخم سے بدبو آنا (اگر انفیکشن ہو جائے)
  • زخم کے اردگرد اعصابی خلیوں کی تباہی، جس سے حصّہ بے حس ہو جاتا ہے۔

زہر صرف خلیاتی تباہی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اگر بروقت علاج نہ ہو تو زخم میں جراثیم داخل ہو کر پورے جسم میں انفیکشن (sepsis) پھیلا سکتے ہیں، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

 خطرناک انجام:

سائٹوٹاکسن زہر سے اگر فوری علاج نہ ہو تو:

  1. متاثرہ جگہ کا گوشت یا پورا عضو کاٹنا پڑ سکتا ہے (Amputation)
  2. شدید جسمانی معذوری یا مستقل بے حسی
  3. انفیکشن کے ذریعے جان کو خطرہ

اسی لیے ایسے زخم کا فوری معائنہ، اینٹی وینم کا استعمال، زخم کی صفائی، اور بروقت سرجری نہایت ضروری ہو جاتی ہے۔

قانون مفرد اعضاء کے مطابق

سائٹو ٹاکسن (Cytotoxin)  غدی تحریک

یہ زہر خلیات (cells) کو تباہ کرتا ہے، جلد سوج جاتی ہے، زخم پڑتے ہیں، بافتیں (tissues) گلنے لگتی ہیں، Necrosis (ناسور) بن جاتا ہے۔

◉ مفرد اعضاء کے لحاظ سے:

تحریک: غدد (جگر، گردہ، طحال، خون کی نالیاں)

تحلیل: عضلات (سستی، لاغری، تھکن، کمزوری)

تسکین: اعصاب (غنودگی، نیند، حواس کی نرمی)

◉ علامات:زخم کا پھیلنا، رنگ بدلنا۔ درد، سوجن، گرمی۔ متاثرہ مقام پر گوشت گلنے لگنا۔ جگہ جگہ پھنسی، پیپ، ناسور۔

سائٹوٹاکسن (Cytotoxic Venom) زہر رکھنے والے سانپ

یہ جلد، پٹھوں اور ٹشوز پر حملہ کرتے ہیں:

  1. پف ایڈر (Puff Adder)
  2. گابون وائپر (Gaboon Viper)
  3. کاٹن ماؤتھ / واٹر موکاسن (Cottonmouth / Water Moccasin)
  4. فیر ڈی لانس (Fer-de-Lance)
  5. ییلو بیلی سی سنیک (Yellow-bellied Sea Snake)
نمبرشمارسانپ کی قسممختصر تعارف
1پف ایڈر

(Puff Adder)

انتہائی زہریلا سانپ جو تیزی سے حملہ کرتا ہے، اس کا ہیماٹاکسن زخم میں شدید سوجن، ٹشوز کی بربادی اور خون جمنے کی خرابی پیدا کرتا ہے۔افریقہ کے بیشتر حصوں میں پایا جاتا ہے۔
2گابون وائپر

(Gaboon Viper)

دنیا کے سب سے وزنی اور بڑے دانتوں والے سانپوں میں شامل، اس کا زہر سست مگر انتہائی تباہ کن ہوتا ہے جو خونی اور عضلاتی بافتوں کو تباہ کرتا ہے۔وسطی اور مغربی افریقہ کے جنگلات میں پایا جاتا ہے۔
3کاٹن ماؤتھ / واٹر موکاسن

Cottonmouth / Water Moccasin

آبی ماحول میں رہنے والا زہریلا سانپ، جس کا زہر انفیکشن، سوجن اور ٹشوز کی خرابی کا باعث بنتا ہے۔جنوبی امریکہ (خصوصاً جنوب مشرقی ریاستوں) میں پایا جاتا ہے۔
4فیر ڈی لانس

(Fer-de-Lance)

انتہائی جارح اور زہریلا سانپ جس کا زہر خون کی نالیوں کو پھاڑ دیتا ہے اور اندرونی خون بہاؤ کا سبب بنتا ہے۔وسطی و جنوبی امریکہ کے برساتی جنگلات میں پایا جاتا ہے۔
5ییلو بیلی سی سنیک

Yellow-bellied Sea Snake

سمندری سانپ، جس کا زہر پٹھوں اور عضلات کو تباہ کرتا ہے، زیادہ تر گرم سمندری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
6موزمبیک سپٹنگ کوبرا

Mozambique Spitting Cobra

یہ افریقہ میں پایا جاتا ہے، دفاعی طور پر زہر تھوکتا ہے، جو آنکھوں میں جا کر عارضی یا مستقل اندھا پن پیدا کر سکتا ہے۔ زہر جلد کو بھی سڑاتا ہے اور شدید جلن اور ناسور پیدا کرتا ہے۔
3 سائٹوٹاکسن (Cytotoxic Venom) زہر پیدا کرنے والے سانپ


4۔مخلوط زہر رکھنے والے سانپ (Mixed Venom Snakes)

  1. موہاوی رِیٹل سنیک۔ Mojave Rattlesnake

اس میں نیوروٹوکسک + ہیماٹوکسک دونوں زہر کی خصوصیات موجود ہوتی ہیں، اس لیے “double dose” سانپ کہلاتا ہے۔

  1. ٹائیگر رِیٹل سنیک۔ Tiger Rattlesnake

اس میں نیوروٹوکسک + سائٹوٹاکسن دونوں زہر کی خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ اعصاب اور عضلات دونوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔

  1. ٹمبر رِیٹل سنیک (بعض اقسام) Timber Rattlesnake (Some Varieties)

اس میں نیوروٹوکسک + ہیماٹوکسک دونوں زہر کی خصوصیات موجود ہوتی ہیں، کچھ اقسام صرف ہیماٹوکسک ہوتی ہیں، جبکہ دیگر میں دونوں اثرات ہوتے ہیں۔

  1. بش ماسٹر۔ Bushmaster

اس میں نیوروٹوکسک + ہیماٹوکسک دونوں زہر کی خصوصیات موجود ہوتی ہیں، لمبے قد اور دوہرا زہریلا اثر رکھنے والا زہریلا سانپ۔

  1. نیوٹراپیکل رِیٹل سنیک۔ Neotropical Rattlesnake

اس میں نیوروٹوکسک + ہیماٹوکسک دونوں زہر کی خصوصیات موجود ہوتی ہیں، پِٹ وائپرز میں منفرد حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ان میں نیوروٹوکسک اثر کم ہوتا ہے۔

  1. سائیڈ ونڈر (Sidewinder)

اس میں ہیماٹوکسک + سائٹوٹاکسن (مخلوط)  زہر ہوتا ہے جو  خلیات کو نقصان پہنچاتا ہے اور ٹشوز کو تباہ کرتا ہے۔یہ ریتیلے علاقوں جیسے کہ امریکی ریگستانوں میں پایا جاتا ہے۔ اپنی مخصوص “سائیڈ وائنڈنگ” حرکت سے مشہور ہے۔ اس کا زہر زخم کو سوجن، جلن اور گلنے سڑنے تک پہنچا سکتا ہے۔

مخلوط زہر پیدا کرنے والے سانپ


غیر زہریلے سانپ  (Non-Venomous Snakes):

غیر زہریلے سانپ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کاٹتے نہیں، بلکہ وہ دفاع میں کاٹ سکتے ہیں مگر ان کی کاٹ انسان کے لیے جان لیوا نہیں ہوتی۔ اور پائتھن وغیرہ تو بہت بڑے بڑے بھی ہوتے ہیں جو انسانوں اور جانوروں کے بچوں کو پورا نگل بھی سکتے ہیں۔غیر زہریلے سانپوں میں زیادہ تر پائتھن سانپ ہوتے ہیں جو سائز میں بہت بڑے اور وزن میں کئی کئی من کے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر زہریلے سانپ اکثر بہت چھوٹے  پتلے اور خوبصورت رنگوں والے بھی ہوتے ہیں۔

  1. ریٹکولیٹڈ پائتھن (Reticulated Python): دنیا کا سب سے لمبا سانپ، شکار کو لپیٹ کر مارتا ہے، جنوب مشرقی ایشیا میں پایا جاتا ہے۔
  2. انڈین راک پائتھن (Indian Rock Python): بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں پایا جاتا ہے، زہریلا نہیں، مگر جسم سے شکار کو دباتا ہے۔
  3. بال پائتھن (Ball Python): افریقہ میں پایا جاتا ہے، عام طور پر پالتو جانور کے طور پر رکھا جاتا ہے، مکمل طور پر بے ضرر۔
  4. ریٹ سنیک (Rat Snake): یہ سانپ چوہے کھاتے ہیں، اس لیے کاشت کار ان کو مفید سمجھتے ہیں۔ زہریلے نہیں ہوتے۔
  5. گارٹر سنیک (Garter Snake): شمالی امریکا میں عام پایا جاتا ہے، معمولی سا زہر ہو سکتا ہے مگر انسان کے لیے خطرناک نہیں۔
  6. بوآ کنسٹرکٹر (Boa Constrictor): جنوبی امریکا میں پایا جاتا ہے، بڑا مگر زہریلا نہیں۔ شکار کو لپیٹ کر دباتا ہے۔
  7. کنگ سنیک (King Snake): زہریلا نہیں، بلکہ بعض اوقات دوسرے زہریلے سانپوں کو بھی کھا جاتا ہے۔
  8. ملک سنیک (Milk Snake): دکھنے میں کورل سنیک جیسا ہوتا ہے مگر زہریلا نہیں، اور بے ضرر ہے۔
  9. ہاؤس سنیک (House Snake): افریقہ میں عام پایا جانے والا چھوٹا، بے ضرر سانپ۔
  10. گرین ٹری پائتھن (Green Tree Python): آسٹریلیا اور پاپوا نیو گنی میں پایا جاتا ہے، خوبصورت اور پالتو جانور کے طور پر مشہور۔
Non-Venomous Snakes غیر زہریلے سانپ

خواص و فوائد:

روائتی طبی نظام میں سانپ کی چربی طلا میں استعمال کی جاتی ہے، اور برص، بہق کے امراض میں بھی مستعمل ہے۔ البتہ یہاں بات جاننا ضروری ہے کہ مفردات کی کتابوں میں سانپ کے زہر کے علاج کے طور پر جو کچھ لکھا گیا ہے وہ صرف ایک مزاج کے زہر میں مفید ہو سکتا ہے تمام زہروں میں نہیں، مثلا ریٹھا ، اور آک وغیرہ کو زہر کا تریاق کہا گیا ہے، لیکن ہمیں اوپر کی تحقیق سے یہ سمجھنا چاہیے کہ سانپ کے زہر بھی تینوں تحریکوں میں اثرانداز ہوتے ہیں، لہذا جب سائٹو ٹاکسن زہر والے سانپ جن کے زہر کا اثر غدی ہوتا ہے مثلا(پف ایڈر ،گابون وائپر ، کاٹن ماؤتھ / واٹر موکاسن ، فیر ڈی لانس ، ییلو بیلی سی سنیک ۔) ان کے زہر میں ریٹھا یا آک مفید ہوسکتے ہیں، باقی کوبرا وغیرہ میں نہیں۔ کسی بھی صورتحال میں سب سے مفید اور بہتر صورت یہ ہے کہ فوری طور پر سرکاری ہسپتال پہنچ کر اینٹی وینم  ویکسین لگا دی جائے۔

اینٹی وینم سانپ Snake Serpentes साँप Antivenom

اینٹی وینم بنانے کا طریقہ Antivenom

ہسپتالوں میں جو اینٹی وینم(Antivenom) ویکسین ہوتی ہے اسے سانپوں کے زہر سے ہی تیار کیا جاتا ہے۔ جس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے سانپ کا زہر لیا جاتا ہے، پھر اس زہر کو ایک مخصوص اور کم مقدار میں گھوڑے کو وقفے وقفے سے کئی بار  لگایا جاتا ہے، جس سے اس کا جسم اینٹی باڈیز پیدا کرتا ہے جو زہر سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اس طرح کچھ عرصہ بعد اس گھوڑے کا خون زہر کا تریاق بن جاتا ہے، پھر اس خون کو نکال کر صاف کرکے اس کے جزو موثر کو ویکسین کی صورت میں محفوظ کرلیا جاتا ہے جو مریضوں کو لگائی جاتی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے تک ہر سانپ کی الگ الگ(Antivenin) ویکسین ہوتی تھی، جو اسی کے زہر سے تیار کی جاتی تھی، بعض اوقات تو مختلف علاقوں کے سانپوں  کی ویکسین اسی علاقے کے لیے مخصوص ہوتی تھی مثلا پنجاب کے سانپوں کی ویکسین پنجاب کے لیے اور سندھ کے سانپوں کی سندھ کے لیے، لیکن اس میں مسئلہ یہ پیش آتا تھا کہ اکثر اوقات مریض کو پتا ہی نہیں ہوتا تھا کہ اسے کس سانپ نے کاٹا ہے، چنانچہ بعض اوقات غلط ویکسین لگنے سے نقصان ہو جاتا تھا، چنانچہ سائنسدانوں نے اس پر مزید محنت اور تحقیق کرکے اب ایسی ویکسین بنا دی ہے جو ایک ہی تمام زہروں میں کام کرتی ہے۔

اینٹی وینم سانپ Snake Serpentes साँप Antivenom

جدید سائنسی تحقیقات:

سانپ خود عام طور پر شکار یا کھانے کے لیے خطرناک ہوتے ہیں، لیکن ان کے زہر اور بایو ایکٹو اجزا کے ذریعے جدید سائنس اور طب میں کئی فوائد دریافت کیے گئے ہیں۔ یہ فوائد زیادہ تر سانپ کے زہر کے تحقیقی مطالعے پر مبنی ہیں۔

  1. درد کش اثر (Analgesic Effects)

سانپ کے زہر میں موجود کچھ پروٹینز اور پیپٹائیڈز اعصاب پر اثر ڈال کر درد کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان پر تحقیق سے نئے درد کش ادویات تیار کرنے میں مدد ملی ہے۔

  1. خون کے امراض میں استعمال (Hematological Applications)

ہیماٹوکسینز اور انزائمز خون کے جمنے اور بہنے کے عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ ان کی بنیاد پر anticoagulant یا thrombolytic دوا سازی کی جاتی ہے، جو دل کے دورے یا فالج کے علاج میں کام آ سکتی ہیں۔

  1. دل کی صحت کے لیے (Cardiovascular Research)

کارڈیو ٹاکسنز اور دیگر peptides دل کے عضلات اور دھڑکن پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ ان کے مطالعے سے دل کی مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے نئی دوا سازی کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

  1. کینسر اور خلیاتی اثرات (Anticancer and Cytotoxic Effects)

سائٹو ٹاکسنز اور مخصوص peptides خلیات پر اثر ڈال کر غیر معمولی خلیوں کی نشوونما روک سکتے ہیں۔ اس کی وجہ سے کچھ سانپ کے زہر کے مرکبات پر کینسر کے خلاف تحقیق ہو رہی ہے۔

  1. انفیکشن اور مدافعتی نظام (Antimicrobial and Immunomodulatory Effects)

سانپ کے زہر میں کچھ peptides بیکٹیریا اور فنگس کے خلاف مؤثر پائے گئے ہیں۔ ان کا استعمال نئے اینٹی بایوٹک مرکبات بنانے میں ممکن ہے۔

  1. اعصابی نظام پر اثر (Neuroprotective Research)

نیوروٹاکسنز کے مخصوص ماڈل اور derivatives سے اعصابی بیماریوں جیسے پارکنسن یا الزائمر پر تحقیق کی جا رہی ہے۔

حوالہ جات:
https://en.wikipedia.org/wiki/Snake_venomوکی پیڈیا
https://www.sciencedirect.com/topics/medicine-and-dentistry/snake-venomسائنس ڈائریکٹ
https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC9185726پی ایم سی
https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/28927001/

پب میڈ

Important Note

اعلان دستبرداری
اس مضمون کے مندرجات کا مقصد عام صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے ، لہذا اسے آپ کی مخصوص حالت کے لیے مناسب طبی مشورے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس مضمون کا مقصد جڑی بوٹیوں اور کھانوں کے بارے میں تحقیق پر مبنی سائنسی معلومات کو شیئر کرنا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں بیان کردہ کسی بھی تجویز پر عمل کرنے یا اس مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر علاج کے کسی پروٹوکول کو اپنانے سے پہلے ہمیشہ لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ہمیشہ لائسنس یافتہ، تجربہ کار ڈاکٹر اور حکیم سے علاج اور مشورہ لیں۔


Discover more from TabeebPedia

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Discover more from TabeebPedia

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading