
زنگار تانبا
- December 28, 2025
- 0 Likes
- 175 Views
- 0 Comments
زنگار تانبا
نام :
عربی میں زنجار۔ بنگالی میں تامڑ جھنگار کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Subacetate of copper
Scientific name:
Family: carboxylate
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| اکال، مقرح، جالی، دافع عفونت، مقئی | ہند و پاک | خشک گرم درجہ چہارم | عضلاتی غدی | زخموں کے لیے |

تعارف:
زنگار سے مراد تانبے کا زنگار ہے۔ یہ مصنوعی اور قدرتی دونوں طرح کا ہوتا ہے، بہترین وہ ہے جو پانی میں حل ہو جائے۔تانبے کے برادے کو تیز سرکے میں ڈال کر زمین میں دفن کرتے ہیں، تین چار دین بعد برادہ تانبا زنگار بن چکا ہوتا ہے۔ زنگار تانبے اور ایسیٹک تیزاب کے باہمی تعامل سے بننے والا ایک مرکب ہے۔ تاریخی طور پر یہ مادہ اس وقت بنتا دیکھا گیا جب تانبے کو سرکہ یا کھٹی شراب کے سامنے رکھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم یونانی، رومی اور بعد میں یونانی طب اور کیمیا میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ اسے رنگ سازی، دھات کاری اور بعض محدود طبی استعمالات میں جانا جاتا رہا ہے، اگرچہ جدید دور میں اس کے طبی استعمال پر سخت احتیاط برتی جاتی ہے۔
ظاہری طور پر زنگار کا رنگ عموماً نیلا سبز یا سبز مائل نیلا ہوتا ہے۔ یہ ٹھوس شکل میں ہوتا ہے اور اکثر باریک کرسٹل یا سفوف کی صورت میں پایا جاتا ہے۔ اس کی سطح پر نمی لگنے سے اس کا رنگ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ خوشبو کے اعتبار سے اس میں ہلکی سی سرکہ جیسی تیز بو محسوس ہو سکتی ہے، جو اس میں شامل ایسیٹک جز کی علامت ہے۔ ذائقہ سخت کڑوا اور دھاتی نوعیت کا ہوتا ہے، اسی لیے اسے چکھنا یا براہ راست استعمال کرنا خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زرشک / سمبل پھل
یہ بھی پڑھیں: زراوند مدحرج
یہ بھی پڑھیں: زراوند دراز

کیمیاوی و غذائی اجزا:
تانبا (Copper) ایسیٹیٹ گروپ (Acetate) ہائیڈرو آکسائیڈ (Hydroxide)
پانی کے سالمات یا پانی بلوری (Water of crystallization)
اثرات:
زنگار عضلات میں انتہائی تیز تحریک اعصاب میں تحلیل اور غدد میں حرارت پیدا کرتا ہے۔یہ انتہائی تیز زہر ہوتا ہے، شدید اکال، مقرح، جالی، دافع عفونت، مقئی اثرات رکھتا ہے۔
خواص و فوائد:
زنگا تانبا انتہائی شدید اکال اور مقرح ہونے کی وجہ سے خبیث قسم کے زخم، مسے اور پھوڑوں پر استعمال کیا جاتا ہے، اکال ہونے کی وجہ سے مسے اور فالتو گوشت کو کھا جاتا ہے یعنی ختم کردیتا ہے۔جیسے ڈاکٹر بذریعہ سرجری آپریشن کسی عضو کو کاٹ کر علیحدہ کرتے ہیں زنگار تانبا یہی کام کرتا ہے۔چنانچہ اس کا استعمال بھگندر ، بواسیر کے مسوں اور زخموں پر بھی کیا جاتا ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات:
سائنسی تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ سب ایسیٹیٹ آف کاپر(زنگار تانبا) میں جراثیم کش خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ تانبے کے مرکبات بیکٹیریا، فنگس اور بعض خرد نامیوں کی افزائش کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ماضی میں اسے زخموں، جلدی انفیکشنز اور پھپھوندی زدہ حصوں پر بیرونی طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ جدید سائنس بھی تانبے کے ایسے مرکبات کو اینٹی مائیکروبیل خصوصیات کے مطالعے میں شامل کرتی ہے، خاص طور پر بیکٹیریا کی جھلی کو نقصان پہنچانے اور ان کے خامروں کے نظام کو متاثر کرنے کے حوالے سے۔
تحقیقی سطح پر سب ایسیٹیٹ آف کاپر(زنگار تانبا) کو حیاتیاتی تجربات میں آکسیڈیٹو اسٹریس، خلیاتی زہریلے اثرات اور دھاتی آئنز کے اینزائمز پر اثرات سمجھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ تانبے کے نمکیات انسانی اور جرثومی خلیات کے ساتھ کس طرح تعامل کرتے ہیں۔ یہ فائدہ براہ راست علاج سے متعلق نہیں بلکہ سائنسی فہم اور دواؤں کی تیاری کے لیے بالواسطہ اہمیت رکھتا ہے۔
قدیم یونانی اور یورپی طب میں سب ایسیٹیٹ آف کاپر(زنگار تانبا) کو قابض، مجفف اور جراثیم کش مادہ سمجھا جاتا تھا، اور محدود مقدار میں بیرونی استعمال کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم جدید میڈیکل سائنس نے واضح کر دیا ہے کہ اس کا اندرونی استعمال انسانی صحت کے لیے جان لیوا ہے۔
حوالہ جات: (ایم ڈی پی آئی)۔ (پب میڈ)۔
مقدار خوراک:
ممنوع
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply