
ریگ ماہی
نام :
عربی میں سمکۃ الصیدا۔ اردو میں ریت کی مچھلی۔ اور ہندی میں रेत मछली छिपकली کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Sandfish / Skink
Scientific name: Lacerta scincus
Family: Scincidae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| حابس، قابض | ہند و پاک کے صحرا | خشک گرم | عضلاتی غدی | غیرمستند دعوے |

تعارف:
ریگ ماہی حرام جانور ہے جس کا کھانا حرام ہے۔ یہ ایک صحرائی چھپکلی ہے جو ریت میں تیرنے جیسی غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے “ریت کی مچھلی” کہلاتی ہے ۔ اس کا جسم درمیانہ، مضبوط اور لمبوترا ہوتا ہے، لمبائی عموماً 18 سے 22 سینٹی میٹر تک ہوتی ہے، جلد ہموار اور چکنی ہوتی ہے جو ریت میں حرکت آسان بناتی ہے، جبکہ رنگ زرد مائل یا ہلکا سنہری ہوتا ہے جو اسے ریت میں چھپنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کا سر آگے سے نوکیلا، آنکھیں چھوٹی مگر مضبوط پلکوں والی اور ناک کے سوراخ خاص ساخت کے ہوتے ہیں تاکہ ریت اندر نہ جا سکے، یہی خصوصیات اسے شدید گرمی اور خشک صحرائی ماحول میں بقا اور تیز حرکت کے قابل بناتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ریوند چینی / ریوند خطائی
یہ بھی پڑھیں: ریٹھہ
یہ بھی پڑھیں: روہیڑا
کیمیاوی و غذائی اجزا:
سچورَٹیڈ (Saturated) فیٹی ایسڈز:
- پالمِٹِک ایسڈ (Palmitic acid) تقریباً 20.64٪ • اسٹیئرک ایسڈ (Stearic acid) تقریباً 7.17٪
- میرِسٹِک ایسڈ (Myristic acid) تقریباً 0.76٪ • آرَاکِڈِک ایسڈ (Arachidic acid) تقریباً 0.36٪
مونو انسیچوریٹڈ (MUFA) فیٹی ایسڈز:
- اولِئِک ایسڈ (Oleic acid) تقریباً 57.37٪
پولی انسیچوریٹڈ (PUFA) فیٹی ایسڈز:
- لِنولِئِک ایسڈ (Linoleic acid) تقریباً 7.67٪ • الفا-لِنولینِک ایسڈ (α-linolenic acid) تقریباً 0.94٪

اثرات:
ریگ ماہی عضلاتی محرک، غدی مقوی اثرات رکھتی ہے۔ حابس ، قابض اثرات۔
خواص و فوائد:
ریگ ماہی اسلام میں خوردنی طور پر ممنوع ہے، کیونکہ یہ حشرات الارض سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا کھانا حرام ہے، البتہ بوقت ضرورت بیرونی استعمال جائز ہو سکتا ہے۔ لیکن عام طور پر جیسے حکیم اسے کھانے والی ادویات میں شامل کرکے دیتے ہیں یہ ناجائز ہے اور کسی بھی حرام چیز میں اللہ تعالیٰ نے شفاء نہیں رکھی۔ اس لیے جب اس کے متبادل سینکڑوں چیزیں موجود ہیں تو ایک مسلمان کو اسے بطور دوا لینے سے بچنا چاہیے۔
جدید سائنسی تحقیقات:
ریگ ماہی کسی مستند فارماکوپیا (Pharmacopoeia) میں شامل نہیں، کسی WHO یا FDA منظور شدہ دوا میں شامل نہیں، کوئی مضبوط انسانی کلینیکل ٹرائل موجود نہیں۔ بس صرف غیرمستند اشتہار بازی اور سوشل میڈیا پوسٹوں کی حد تک اس کے فوائد کا چرچا ہے۔ فی الحال ایسی کوئی کلینیکل یا انسانی تحقیق موجود نہیں جو اس کے استعمال کو محفوظ اور موثر دوا کے طور پر ثابت کرتی ہو۔
حوالہ جات: (dspace)۔ (innspub)۔

مقدار خوراک:
ممنوع ہے۔
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply