
ریٹھہ
نام :
عربی میں ثمار الصابون۔ فارسی میں فندق صابونی۔ سنسکرت میں ارشنا۔ ہندی میں रीठा کہتے ہیں
نام انگلش:
Name: Soap Nut
Scientific name: Sapindus mukorossi
Family: Sapindaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| جالی، لاذع، مخرش، تریاق بچھو، معطس، تریاق خناق | ہند و پاک | تر گرم درجہ دوم | اعصابی غدی | صفراوی امراض و علامات |

تعارف:
ریٹھا ایک معروف درخت ہے جو برصغیر، نیپال، چین اور جنوبی ایشیا کے معتدل علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کا درخت عام طور پر درمیانی سے بڑی جسامت رکھتا ہے۔ قد عموماً چھ سے پندرہ میٹر تک ہوتا ہے۔ تنا سیدھا، مضبوط اور بھورا مائل سرمئی رنگ کا ہوتا ہے۔ چھال نسبتاً کھردری اور باریک دراڑوں والی ہوتی ہے۔ پتے لمبوترے، چمکدار اور سرسبز ہوتے ہیں، جن کی بناوٹ قدرے پتلی لیکن مضبوط ہوتی ہے۔ ہر پتے کے کنارے ہلکے خم کے ساتھ ہموار ہوتے ہیں۔
پھول چھوٹے، سفید یا ہلکے زرد رنگ کے ہوتے ہیں جن میں ہلکی سی مہک پائی جاتی ہے۔ یہ پھول خوشوں کی صورت میں شاخوں پر نمودار ہوتے ہیں۔ پھول جھڑنے کے بعد چھوٹے گول پھل بنتے ہیں جو ابتدا میں سبز ہوتے ہیں لیکن پکنے کے بعد سنہری پیلے یا بھورے رنگ کے ہو جاتے ہیں۔ اندر ایک سخت بیج ہوتا ہے جو سیاہ، چمکدار اور گولائی لیے ہوتا ہے۔ پھل کی بیرونی گوند دار پرت پانی میں جھاگ پیدا کرتی ہے، اسی وجہ سے اسے صابونی پھل بھی کہتے ہیں۔
ریٹھا کے پھل کی بنیادی خاصیت اس کی قدرتی صفائی کی صلاحیت ہے۔ پانی میں رگڑنے سے صابن جیسا جھاگ پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سَیپونِن نامی قدرتی مادہ ہے۔ اسی وجہ سے برصغیر میں قدیم دور سے کپڑے دھونے، زیورات کی صفائی، بالوں کو دھونے اور صابن کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روہیڑا
یہ بھی پڑھیں: روغن ناریل
یہ بھی پڑھیں: روغن مالکنگنی

کیمیاوی و غذائی اجزا:
سَیپونِن (Saponins)
سَیپینڈوسائڈ اے (Sapindoside A) سَیپینڈوسائڈ بی (Sapindoside B)
سَیپینڈوسائڈ سی (Sapindoside C) سَیپینڈوسائڈ ڈی (Sapindoside D)
مکوروسائڈ (Mukoroside)
فلونوائڈز (Flavonoids)
کوریسِیٹن (Quercetin) ایپیجینن (Apigenin) کیمپفیرول (Kaempferol) روٹِن (Rutin)
فیٹی ایسڈز (Fatty Acids)
اوویلیک ایسڈ (Oleic Acid) سٹیرک ایسڈ (Stearic Acid) لینولِک ایسڈ (Linoleic Acid)
لِپڈز (Lipids / Triglycerides)
اولیو‑پالمیٹو‑آراچِڈِن گلائسرائیڈ (Oleo‑palmito‑arachidin glyceride)
اولیو‑ڈی‑آراچِڈِن گلائسرائیڈ (Oleo‑di‑arachidin glyceride)
ڈی‑اولین (Di‑olein)
دیگر ا جز (Minor Bioactive Compounds)
سیسکی ٹیرپینوئڈ گلائیکوسائڈز (Sesquiterpenoid Glycosides)
پولیفینولز (Polyphenols / Phenolic Compounds)
Trypsin inhibitors
2,4‑دی‑ٹیرٹ‑بٹائل فینول (2,4‑di‑tert‑butylphenol)

اثرات:
ریٹھہ محرک اعصاب، محلل غدد اور مسکن عضلات ہوتا ہے، کیمیاوی طور پر خون میں رطوبات کا اضافہ کرتا ہے۔ مولد رطوبات، مخرج صفراء و حرارت، جالی، لاذع، مخرش، تریاق بچھو، معطس، تریاق خناق اثرات رکھتا ہے۔

خواص و فوائد:
ریٹھہ اعصابی اثرات میں بہت تیز اثر رکھتا ہے، عصبی نظام میں ہیجان پیدا کر دیتا ہے۔ مخرش اور لاذع ہونے کی وجہ سے برص اسود، چھائیں اور بہق پر ضماد کرتے ہیں۔ معطس ہونے کی وجہ سے اس کے سفوف کو پانی میں حل کرکے ناک میں ڈالنے سے چھیکیں لاتا ہے۔ غدد کی سوزش دور کرنے، کے لیے بہت مفید ہے۔ بواسیر، تقطیر بول، سوزاک میں بہت فائدہ مند ہے۔ غدی عضلاتی تحریک سے گلے کے غشائے مخاطی متورم ہوتی ہے جسے خناق کہتے ہیں، چونکہ ریٹھا محلل غدد ہے اس لیے خناق کی حالت میں جب مریض کوئی چیز نگلنے سے عاری ہو تو دو تین ریٹھوں کا چھلکا ایک پاو پانی میں جوش دے کر غرارے کرانے سے غلیظ رطوبات خارج ہوتی ہیں، سوز تحلیل ہو جاتی ہے۔چونکہ بچھو کا زہر غدی ہوتا ہے اس لیے عقرب گزیدہ کے لیے بہت مفید ہے، جہاں کاٹا ہو وہاں لگایا جاتا ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات:
ریٹھا (Sapindus mukorossi) کے جدید سائنسی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس کے پھل، بیج اور تیل میں کئی طبی فوائد موجود ہیں۔ سب سے اہم جزو سَیپونِن ہے، جو پانی میں جھاگ پیدا کرتا ہے اور صفائی کے ساتھ ساتھ اینٹی بیکٹیریل اثر بھی رکھتا ہے۔ ریٹھا میں فلونوائڈز اور فینولک مرکبات بھی شامل ہیں جو جسم میں آزاد ریڈیکلز کو کم کر کے اینٹی آکسیڈنٹ اثر دیتے ہیں اور سوزش کو کم کرنے میں مددگار ہیں۔ تحقیق کے مطابق ریٹھا کے استخراج نے جانوروں میں درد اور بخار کو کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا، جبکہ اس کے بیج کے تیل نے زخم بھرنے میں تیزی اور ہڈیوں کی مرمت میں ممکنہ مدد دکھائی۔ مزید یہ کہ ریٹھا کے اجزا جلد کے انفیکشن اور سوزش سے متعلق مسائل کے خلاف بھی مفید ہیں۔ یوں ریٹھا نہ صرف ایک قدرتی صابن کی طرح کام کرتا ہے بلکہ صحت کے لیے بھی کئی اہم فوائد فراہم کرتا ہے۔
حوالہ جات: (ایم ڈی پی آئی)۔ (پی ایم سی)۔ (پب میڈ)۔ (این آئی ایچ)۔
مقدار خوراک:
ایک گرام
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply