
دواسازی کھیل نہیں
سیلف میڈیکیشن (خود علاجی) اور اتائیوں کے نسخہ جات کے مہلک اثرات
تحریر: ادارہ طبیب پیڈیا
آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں معلومات کی رسائی آسان ہوئی ہے، وہیں طب جیسے نازک فن کو سوشل میڈیا کے “نیم حکیموں” نے ایک مذاق بنا دیا ہے۔ فیس بک، واٹس ایپ اور یوٹیوب پر روزانہ سینکڑوں ایسے نسخے گردش کرتے ہیں جن کا حقیقت اور طبی اصولوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ عوام الناس ان نسخوں کا اسکرین شاٹ لے کر پنساری کے پاس پہنچ جاتے ہیں، اور پھر جب افاقہ نہیں ہوتا یا الٹا نقصان ہوتا ہے، تو اس کا ملبہ قدیم اور معتبر فنِ طب پر گرا دیا جاتا ہے۔
یاد رکھیے! اگر کتابیں پڑھ کر یا سوشل میڈیا دیکھ کر علاج ممکن ہوتا، تو آج دنیا کا ہر شخص “ثانیِ ابن سینا” کہلاتا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
سیلف میڈیکیشن کی تعریف
دواسازی: ایک فن اور مستقل علم
دواسازی محض چند جڑی بوٹیوں کو پیس لینے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مستقل مضمون ہے جسے سیکھنے کے لیے ماہر اساتذہ کی نگرانی میں برسوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔ ایک ماہر دواساز (فارماسسٹ) دوا کی تیاری میں درج ذیل باریکیوں کا خیال رکھتا ہے جو ایک عام آدمی کی نظر سے اوجھل ہوتی ہیں:
1۔ صفائی اور ردی مواد کا اخراج: جڑی بوٹیوں میں اکثر مٹی، کنکر اور دیگر بیکار اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ ایک کلو “تخم اوٹنگن” خریدیں، تو صفائی کے بعد اس میں سے صرف 700 گرام قابلِ استعمال دوا نکلتی ہے اور 300 گرام ردی مواد ہوتا ہے۔ اگر اس کچرے کو نکالے بغیر دوا بنا لی جائے، تو وہ فائدے کے بجائے گردوں اور معدے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
2۔ اجزاء کی درست مقدار (پاؤڈر بنانے کا صحیح طریقہ): عام طور پر لوگ تمام اجزاء پنساری کو دے کر وہیں مشین سے پسوا لیتے ہیں اور پھر اسے چھان کر موٹا چھان پھینک دیتے ہیں۔ یہ عمل دوا کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ قانون یہ ہے کہ ہر جزو کو الگ الگ پیس کر، چھان کر، پھر اس کا وزن کیا جائے اور نسخہ کے مطابق یکجا کیا جائے۔ تبھی دوا اپنی پوری تاثیر کے ساتھ کام کرتی ہے۔
انٹرنیٹ کے نسخوں سے بچاؤ کی پانچ شرائط
اگر آپ انٹرنیٹ پر کوئی نسخہ دیکھتے ہیں، تو اسے استعمال کرنے سے پہلے اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا آپ کو اس دوا کے بارے میں درج ذیل پانچ بنیادی باتوں کا علم ہے؟
ماہیت (Identity): کیا آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ جو جڑی بوٹی آپ دیکھ رہے ہیں وہ وہی ہے جو بتائی گئی ہے؟ اکثر پنساری اصلی کی جگہ نقلی یا ہم شکل بوٹیاں دے دیتے ہیں۔
افعال و خواص (Pharmacology): وہ دوا جسم میں جا کر کیا اثر کرے گی؟ کیا وہ خراش پیدا کرے گی، بلڈ پریشر بڑھائے گی یا سوزش ختم کرے گی؟ اس علم کے بغیر دوا کا استعمال “سیلف میڈیکیشن” کے زمرے میں آتا ہے جو کہ شرعی اور طبی طور پر خطرناک ہے۔
مزاج (Temperament): طب یونانی اور قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کے مطابق علاج “بالضد” ہوتا ہے۔ جب تک آپ کو دوا کے مزاج (گرم، سرد، خشک، تر) اور اس کے درجے کا علم نہ ہو، آپ اپنا ہی نقصان کریں گے۔
مصلح (Corrective): ہر تیز اثر دوا کے کچھ سائیڈ ایفیکٹس ہوتے ہیں۔ مصلح وہ دوسری دوا ہوتی ہے جو ان اثرات کو ختم کرتی ہے۔ مثلاً سنکھیا یا آرسینک جیسی ادویات کا اگر مصلح معلوم نہ ہو، تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔
بدل (Substitute): اگر نسخے کا کوئی خاص جزو مارکیٹ میں دستیاب نہ ہو، تو اس کی جگہ کون سی دوا کام کر سکتی ہے؟ یہ صرف ایک ماہر طبیب ہی جانتا ہے۔
ایک اہم مشورہ: لمبے نسخوں سے پرہیز
بڑے حکماء کا قول ہے کہ “لمبے نسخے عیب دار ہوتے ہیں”۔ ہمیشہ وہ دوا مستحسن ہے جس کے اجزاء کم سے کم ہوں۔ جب آپ دیکھیں کہ کوئی شخص نسخے میں بلاوجہ اجزاء کی بھرمار کر رہا ہے، تو سمجھ جائیں کہ وہ فنِ طب سے ناواقف ہے۔ یاد رکھیں، ہمیشہ مفرد دوا (اکیلی جڑی بوٹی) مرکب دوا سے زیادہ محفوظ اور مؤثر ہوتی ہے۔
حاصلِ کلام
دواسازی ایک ایسا فن ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے:
خود بخود چل کے نہیں یہ طرزِ سخن آیا ہے پاؤں استادوں کے دابے ہیں تو فن آیا ہے
عوام الناس سے گزارش ہے کہ فیس بک کے “کاپی پیسٹ” نسخوں سے اپنی زندگی کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں۔ کسی بھی مرض کی صورت میں مستند معالج اور طبیب پر اعتماد کریں اور اسی کی نگرانی میں تیار شدہ ادویات استعمال کریں۔ آپ کی صحت آپ کا سب سے بڑا اثاثہ ہے، اسے اتائیوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں۔
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.



Leave a Reply