Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. دواسازی کھیل نہیں
دواسازی کھیل نہیں

دواسازی کھیل نہیں

  • January 19, 2026
  • 0 Likes
  • 118 Views
  • 0 Comments

دواسازی کھیل نہیں

سیلف میڈیکیشن (خود علاجی) اور اتائیوں کے نسخہ جات کے مہلک اثرات

تحریر: ادارہ طبیب پیڈیا

آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں معلومات کی رسائی آسان ہوئی ہے، وہیں طب جیسے نازک فن کو سوشل میڈیا کے “نیم حکیموں” نے ایک مذاق بنا دیا ہے۔ فیس بک، واٹس ایپ اور یوٹیوب پر روزانہ سینکڑوں ایسے نسخے گردش کرتے ہیں جن کا حقیقت اور طبی اصولوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ عوام الناس ان نسخوں کا اسکرین شاٹ لے کر پنساری کے پاس پہنچ جاتے ہیں، اور پھر جب افاقہ نہیں ہوتا یا الٹا نقصان ہوتا ہے، تو اس کا ملبہ قدیم اور معتبر فنِ طب پر گرا دیا جاتا ہے۔

اس قسم کے طبی ٹوٹکے لوگ بہت پسند کرتے ہیں اور عمل بھی کرتے ہیں، لیکن اکثر ٹوٹکے طبی اصولوں کے خلاف چند یوٹیوبر جیسے ڈاکٹر ابراہیم، ڈاکٹر شرافت، حکیم طارق محمود چغتائی، ڈاکٹر افنان وغیرہ نے ویو لینے کے چکر میں پھیلائے ہوتے ہیں۔ اس وقت ڈاکٹر ابراہیم اور افنان وائرل جا رہے ہیں اور ان کی بنائی ہوئی طبی ویڈیوز لوگوں کو سخت نقصان پہچانے کا باعث بن رہی ہیں۔ حیرت کی بات ہے ان ڈاکٹروں نے اپنا پیشہ چھوڑ کر دوسرا راستہ کیوں اختیار کر لیا ہے۔
اب اس تصویر میں دیکھیں گڑ کے جو فوائد بیان کیے ہیں کچھ ٹھیک ہیں اور کچھ بالکل غلط ہیں۔ ان لوگوں کو چیزوں کے مزاج کا ہی علم نہیں ہوتا بس ادھر ادھر سے سوشل میڈیا پوسٹیں دیکھ کر ویڈیوز بناتے ہیں اور لوگوں کو نا صرف گمراہ بلکہ طبی نقصان پہنچانے کا باعث بھی بنتے ہیں۔

یاد رکھیے! اگر کتابیں پڑھ کر یا سوشل میڈیا دیکھ کر علاج ممکن ہوتا، تو آج دنیا کا ہر شخص “ثانیِ ابن سینا” کہلاتا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

سیلف میڈیکیشن کی تعریف

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق سیلف میڈیکیشن (Self-Medication) وہ عمل ہے جس میں کوئی شخص اپنا علاج خود سے بغیر کسی تربیت یافتہ طبی ماہر کی رہنمائی کے کرتا ہے۔ یہ عمل نسخے کے بغیر دوائیں خریدنے، گھر پر پچھلی بچی ہوئی ادویات استعمال کرنے یا دوسرے افراد کے مشورے پر کوئی دوا لینے پر مشتمل ہو سکتا ہے۔

دواسازی: ایک فن اور مستقل علم

دواسازی محض چند جڑی بوٹیوں کو پیس لینے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مستقل مضمون ہے جسے سیکھنے کے لیے ماہر اساتذہ کی نگرانی میں برسوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔ ایک ماہر دواساز (فارماسسٹ) دوا کی تیاری میں درج ذیل باریکیوں کا خیال رکھتا ہے جو ایک عام آدمی کی نظر سے اوجھل ہوتی ہیں:

1۔ صفائی اور ردی مواد کا اخراج: جڑی بوٹیوں میں اکثر مٹی، کنکر اور دیگر بیکار اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ ایک کلو “تخم اوٹنگن” خریدیں، تو صفائی کے بعد اس میں سے صرف 700 گرام قابلِ استعمال دوا نکلتی ہے اور 300 گرام ردی مواد ہوتا ہے۔ اگر اس کچرے کو نکالے بغیر دوا بنا لی جائے، تو وہ فائدے کے بجائے گردوں اور معدے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

2۔ اجزاء کی درست مقدار (پاؤڈر بنانے کا صحیح طریقہ): عام طور پر لوگ تمام اجزاء پنساری کو دے کر وہیں مشین سے پسوا لیتے ہیں اور پھر اسے چھان کر موٹا چھان پھینک دیتے ہیں۔ یہ عمل دوا کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ قانون یہ ہے کہ ہر جزو کو الگ الگ پیس کر، چھان کر، پھر اس کا وزن کیا جائے اور نسخہ کے مطابق یکجا کیا جائے۔ تبھی دوا اپنی پوری تاثیر کے ساتھ کام کرتی ہے۔

انٹرنیٹ کے نسخوں سے بچاؤ کی پانچ شرائط

اگر آپ انٹرنیٹ پر کوئی نسخہ دیکھتے ہیں، تو اسے استعمال کرنے سے پہلے اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا آپ کو اس دوا کے بارے میں درج ذیل پانچ بنیادی باتوں کا علم ہے؟

  1. ماہیت (Identity): کیا آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ جو جڑی بوٹی آپ دیکھ رہے ہیں وہ وہی ہے جو بتائی گئی ہے؟ اکثر پنساری اصلی کی جگہ نقلی یا ہم شکل بوٹیاں دے دیتے ہیں۔

  2. افعال و خواص (Pharmacology): وہ دوا جسم میں جا کر کیا اثر کرے گی؟ کیا وہ خراش پیدا کرے گی، بلڈ پریشر بڑھائے گی یا سوزش ختم کرے گی؟ اس علم کے بغیر دوا کا استعمال “سیلف میڈیکیشن” کے زمرے میں آتا ہے جو کہ شرعی اور طبی طور پر خطرناک ہے۔

  3. مزاج (Temperament): طب یونانی اور قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کے مطابق علاج “بالضد” ہوتا ہے۔ جب تک آپ کو دوا کے مزاج (گرم، سرد، خشک، تر) اور اس کے درجے کا علم نہ ہو، آپ اپنا ہی نقصان کریں گے۔

  4. مصلح (Corrective): ہر تیز اثر دوا کے کچھ سائیڈ ایفیکٹس ہوتے ہیں۔ مصلح وہ دوسری دوا ہوتی ہے جو ان اثرات کو ختم کرتی ہے۔ مثلاً سنکھیا یا آرسینک جیسی ادویات کا اگر مصلح معلوم نہ ہو، تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔

  5. بدل (Substitute): اگر نسخے کا کوئی خاص جزو مارکیٹ میں دستیاب نہ ہو، تو اس کی جگہ کون سی دوا کام کر سکتی ہے؟ یہ صرف ایک ماہر طبیب ہی جانتا ہے۔

ایک اہم مشورہ: لمبے نسخوں سے پرہیز

بڑے حکماء کا قول ہے کہ “لمبے نسخے عیب دار ہوتے ہیں”۔ ہمیشہ وہ دوا مستحسن ہے جس کے اجزاء کم سے کم ہوں۔ جب آپ دیکھیں کہ کوئی شخص نسخے میں بلاوجہ اجزاء کی بھرمار کر رہا ہے، تو سمجھ جائیں کہ وہ فنِ طب سے ناواقف ہے۔ یاد رکھیں، ہمیشہ مفرد دوا (اکیلی جڑی بوٹی) مرکب دوا سے زیادہ محفوظ اور مؤثر ہوتی ہے۔

حاصلِ کلام

دواسازی ایک ایسا فن ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے:

خود بخود چل کے نہیں یہ طرزِ سخن آیا ہے پاؤں استادوں کے دابے ہیں تو فن آیا ہے

عوام الناس سے گزارش ہے کہ فیس بک کے “کاپی پیسٹ” نسخوں سے اپنی زندگی کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں۔ کسی بھی مرض کی صورت میں مستند معالج اور طبیب پر اعتماد کریں اور اسی کی نگرانی میں تیار شدہ ادویات استعمال کریں۔ آپ کی صحت آپ کا سب سے بڑا اثاثہ ہے، اسے اتائیوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں۔

Important Note

اعلان دستبرداری
اس مضمون کے مندرجات کا مقصد عام صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے ، لہذا اسے آپ کی مخصوص حالت کے لیے مناسب طبی مشورے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس مضمون کا مقصد جڑی بوٹیوں اور کھانوں کے بارے میں تحقیق پر مبنی سائنسی معلومات کو شیئر کرنا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں بیان کردہ کسی بھی تجویز پر عمل کرنے یا اس مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر علاج کے کسی پروٹوکول کو اپنانے سے پہلے ہمیشہ لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ہمیشہ لائسنس یافتہ، تجربہ کار ڈاکٹر اور حکیم سے علاج اور مشورہ لیں۔


Discover more from TabeebPedia

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Discover more from TabeebPedia

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading