
برہم ڈنڈی
نام :
عربی میں رائی الجمال۔ سندھی میں لبھ۔ بنگالی میں سیال کانٹا کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ)
نام انگلش:
Name: Yellow Thistle
Scientific name: Centaurea solstitialis
Family: Asteraceae

تاثیری نام:
مقام پیدائش:
ہند وپاک
مزاج طب یونانی:
خشک گرم
مزاج طب پاکستانی:
عضلاتی غدی

یہ بھی پڑھیں: برف
یہ بھی پڑھیں: بدہارا / بدھارا
یہ بھی پڑھیں: بداری کند/ بدھاری قند

تعارف:
برہم ڈنڈی ایک سالانہ، سخت جان اور کانٹے دار جنگلی پودا ہے جو عموماً خشک، نیم بنجر اور غیر آباد زمینوں میں خود رو اگتا ہے۔ اس کا تنا سیدھا، شاخ دار اور قدرے سخت ہوتا ہے جس کی اونچائی عموماً ایک سے ڈیڑھ فٹ تک پہنچ جاتی ہے۔ پتے لمبوترے، کناروں سے کٹے ہوئے اور قدرے کھردرے ہوتے ہیں، نچلے پتے نسبتاً چوڑے جبکہ اوپری پتے باریک اور کانٹے دار شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کا پھول گہرے پیلے رنگ کا ہوتا ہے جو ستارے جیسی شکل رکھتا ہے۔ پھول کے گرد سخت اور نوکیلے کانٹے موجود ہوتے ہیں جو اس کی سب سے نمایاں شناخت ہیں۔ یہی کانٹے اسے ہاتھ لگانے میں مشکل اور چرنے والے جانوروں کے لیے ناپسندیدہ بنا دیتے ہیں۔ بیج چھوٹے، سخت اور ہلکے بھورے یا سیاہی مائل رنگ کے ہوتے ہیں۔
ییلو تھسل یعنی برہم ڈنڈی کا شمار اُن پودوں میں ہوتا ہے جو تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اکثر زرعی زمینوں، چراگاہوں اور سڑکوں کے کناروں پر نظر آتے ہیں۔ یہ پودا اصل میں یورپ اور مغربی ایشیا کے علاقوں سے تعلق رکھتا ہے، مگر اب دنیا کے کئی حصوں میں پھیل چکا ہے۔
برہم ڈنڈی کی تیرا اقسام ہیں:

نفع خاص:
مصفی خون، خارش، پھوڑے پھنسی کے لیے۔

کیمیاوی و غذائی اجزا:
برہم ڈنڈی (Centaurea solstitialis) میں بنیادی طور پر سیسکیٹرپین لیکٹونز پائے جاتے ہیں جن میں سولسٹیلیٹن، ریپن، سب لُیوٹیولائیڈ، ایکروپٹیلن، جینیرن، سائناروپیکرِن، سولسٹیٹیولائیڈ اور ایپی سولسٹیٹیولائیڈ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اس پودے میں فینولک مرکبات، فلیونوئیڈز اور مختلف ٹرپینائڈ اجزا بھی موجود ہوتے ہیں، جبکہ اس کے ضروری تیل میں پالمیٹک ایسڈ جیسے فیٹی اجزا کی موجودگی بھی رپورٹ کی گئی ہے۔


اثرات:
محرک عضلات اور مخرج و مسہل بلغم اثرات رکھتی ہے۔گھوڑے اگر کھا لیں تو ایک بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔
برہم ڈنڈی میں جدید ثابت شدہ اثرات

خواص و فوائد
برہم ڈنڈی بلغمی بخاروں اور تپ لرزہ کے لیے مفید ہے۔ بلغمی رطوبات کے متعفن ہونے سے پیدا ہونے والے پھوڑے پھنسیوں اور خارش کے لیے بہترین چیز ہے۔خون کو صاف کرتی ہے۔ بلغم کو خارج کرتی ہے اسی لیے بلغمی کھانسی اور دمہ کے لیے بھی مفید ہے۔ اس کے بیج قے آور ہوتے ہیں، اس لیے قے لانے اور پھیپھڑوں سے بلغم نکالنے کے لیے اس کے بیج استعمال کیے جاتے ہیں۔ پھوڑے، پھنسیوں، خارش، چنبل اور جلد کے امراض کے لیے اندرونی اور بیرونی طور پر بہت مفید ہے۔
جدید سائنسی تحقیقات
برہم ڈنڈی (Centaurea solstitialis) کے پودے کے استخراج سے جدید تحقیقات میں کئی مفید طبی اثرات سامنے آئے ہیں۔ اس کے پھولوں اور پتوں سے حاصل کردہ مواد نے لیبارٹری میں کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو روکنے اور خلیاتی موت پیدا کرنے کی صلاحیت دکھائی ہے، اس کے ساتھ ہی یہ پودا جسم میں سوزش کو کم کرنے اور آکسیڈینٹ مخالف سرگرمی دکھانے میں بھی مؤثر پایا گیا ہے۔ جانوروں پر کیے گئے تجربات میں اس کے استخراج نے درد اور بخار کم کرنے میں مدد دی، اور معدے کے زخم کے خلاف تحفظ بھی فراہم کیا۔ مقامی روایتی طب میں بھی ستیاناسی کو جراثیم کش اور زخموں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مجموعی طور پر یہ پودا قدرتی دواؤں کے طور پر استعمال کے لیے امید افزا خصوصیات رکھتا ہے، البتہ انسانی استعمال سے پہلے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
حوالہ جات:
| https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC10257394 | پی ایم سی |
| https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/32454725/ | پب میڈ |
| https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/15507339/ | این ایل ایم |
| این آئی ایچ |
مقدار خوراک:
تین سے پانچ گرام
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.



Leave a Reply