
بادیان خطائی
نام :
عربی میں بادیان خطائی۔ سندھی میں وڈف۔ ہندی میں اناس پھل۔ اردو میں بادیان کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Star anise
Scientific name: Illicium verum
Family: Schisandraceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مجفف بلغم، مغلظ خون، مولد سوداء | نیپال، چین، ہندوستان | خشک گرم درجہ دوم | عضلاتی غدی | اینٹی وائرل، اینٹی آکسیڈینٹ، اینٹی انفلوئنزا وائرس |

تعارف:
ایک پودے کا پھل ہے، جو خوشبودار ہوتا ہے ، پھل کے سات پرت ہوتے ہیں ستارے کی مانند ہوتا ہے، ہر پرت دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے، ان پرتوں کے اندر اس کے بیج ہوتے ہیں جو سونف کی طرح ہوتے ہیں۔اسی لیے اس کو بادیان خطائی کہتے ہیں،یعنی سونف اور اس کو پہچاننے میں خطا ہو جاتی ہے۔ بادیان خطائی کے پھل کا رنگ سرخ سیاہی مائل ہوتا ہے اور ذائقہ تیز قدرے میٹھا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بادر نجبویہ
یہ بھی پڑھیں:بادام شیریں
یہ بھی پڑھیں:بادام تلخ

کیمیاوی و غذائی اجزا:
ضروری تیل کے اجزا
انی تھول (Anethole)، اسٹراگول (Estragole)، انیسالڈیہائیڈ (Anisaldehyde)، لیمونین (Limonene)، الفا پائینین (Alpha pinene)، بیٹا پائینین (Beta pinene)، سینیول یا یوکلپٹول (Cineole / Eucalyptol)، لینالول (Linalool)، کیریوفائلین ، (Caryophyllene)، ٹیرپینیول (Terpineol)
فینائل پروپینوئڈ مرکبات
انی تھول کے مشتقات (Anethole derivatives)، میتھائل چاویکول (Methyl chavicol)
ٹرپینوئڈز
مونوٹرپینز (Monoterpenes)، سیسکوٹرپینز (Sesquiterpenes)
فلیونوائڈز
کوارسیٹن (Quercetin)، کیمپفیرول (Kaempferol)، مختلف نباتاتی لگنان مرکبات (Lignans)، فینولک ایسڈز (Phenolic acids)
دیگر اجزا
نامیاتی تیزاب (Organic acids)، معطر مرکبات (Aromatic compounds)، ریزنی مادے (Resins)، چکنائی اور روغنی اجزا (Fixed oils)

اثرات:
محرک قلب، محلل اعصاب اور مقوی جگر ہے۔ کیمیاوی طور پر خون میں غلظت اور سوداویت پیدا کرتا ہے۔

خواص و فوائد
معدہ اور قوت ہاضمہ کو طاقت دیتا ہے، بلغم کو تحلیل کرتا ہے، اسے چائے کی طرح ابال کر بھی پیا جاتا ہے، نزلہ زکام میں فوری اثر کرتا ہے، اور بہت ہی مفید ہے۔ اینٹی وائرل اور اینٹی انفلوئنزا وائرس خصوصیات رکھنے کی وجہ سے وبائی امراض میں مفید ہے جیسے کرونا وغیرہ۔ ستارہ سونف یعنی بادیان خطائی میں ابھی تک 201 کیمیائی اجزاء کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ہندوپاک میں روز مرہ کے مصالحوں کا حصہ ہے، اسے مچھلی کی بو کو دور کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس استعمال زیادہ مقدار میں نہیں کرنا چاہیے، یہ قریب بسم ہے۔
طبی و سائنسی فوائد اور جدید تحقیقات
بادیان خطائی ایک معروف خوشبودار نباتی دوا ہے جو صدیوں سے روایتی طب میں استعمال ہو رہی ہے، جبکہ جدید سائنسی تحقیق نے بھی اس کے کئی طبی اثرات کی تصدیق کی ہے۔ اس کے زیادہ تر فوائد اس میں موجود خوشبودار روغنی اجزا اور نباتاتی کیمیائی مرکبات سے وابستہ ہیں۔
ہاضمہ اور معدہ پر اثرات
جدید سائنسی مطالعات کے مطابق بادیان خطائی کے اجزا معدے کے عضلات کو نرم کرتے ہیں اور گیس کے اخراج میں مدد دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسے بدہضمی، اپھارہ، معدے کے درد اور مروڑ میں مفید قرار دیا گیا ہے۔ اس کے تیل میں موجود انی تھول معدے کی حرکت کو متوازن بنانے میں کردار ادا کرتا ہے، جس سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے۔ یہ اثرات کئی تجرباتی مطالعات میں رپورٹ ہو چکے ہیں۔
جراثیم کش اور اینٹی فنگل خصوصیات
سائنسی تحقیق کے مطابق بادیان خطائی میں طاقتور اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل اثرات پائے جاتے ہیں۔ تجربات میں یہ ثابت ہوا ہے کہ اس کے اجزا مختلف نقصان دہ بیکٹیریا اور فنگس کی افزائش کو روکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر اسے سانس کی نالی کے انفیکشن اور آنتوں کے بعض جراثیمی مسائل میں معاون سمجھا جاتا ہے۔
سانس کے نظام پر فوائد
تحقیقی شواہد کے مطابق بادیان خطائی کھانسی، بلغم اور نزلہ زکام میں مفید ہے۔ اس کے خوشبودار اجزا سانس کی نالی کو کھولنے اور بلغم کے اخراج میں مدد دیتے ہیں۔ روایتی استعمال کے ساتھ ساتھ جدید مطالعات نے بھی اس کے ایکسپیکٹورنٹ اثرات کی نشاندہی کی ہے۔
اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کم کرنے والے اثرات
جدید سائنسی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ بادیان خطائی میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات موجود ہیں، جو جسم میں فری ریڈیکلز کے مضر اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اسی طرح اس کے بعض اجزا سوزش کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے اسے جوڑوں کے درد اور ہلکی نوعیت کی التہابی کیفیت میں مفید سمجھا جاتا ہے۔
اعصابی نظام پر اثرات
کچھ سائنسی مطالعات میں بادیان خطائی کے ہلکے سکون آور اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کا خوشبودار تیل ذہنی دباؤ کم کرنے اور اعصابی تناؤ میں ہلکی سی تسکین پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسی وجہ سے روایتی طب میں اسے بے چینی اور اضطراب کی کیفیت میں بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
وائرل بیماریوں میں تحقیق
جدید دور میں بادیان خطائی کو اس لیے بھی خاص اہمیت حاصل ہوئی کہ یہ ایک اہم دوا میں استعمال ہونے والے خام مال کا قدرتی ذریعہ ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق اس کے بعض اجزا وائرس کے خلاف ادویاتی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں، جس نے اسے عالمی سطح پر طبی تحقیق کا مرکز بنا دیا ہے۔
حوالہ جات:
| https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/38067422/ | pubmed |
| https://www.botanical-online.com/en/botany/star-anise-plant | botanical |
| https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC10648513/ | pmc |
https://www.mdpi.com/1420-3049/27/3/650 | mdpi |

مقدار خوراک:
تین گرام
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply