
باجرہ
نام :
عربی میں جاورس۔ فارسی میں گادرس۔ گجراتی میں باجرو۔ سندھی میں باجھری کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Millet
Scientific name: Pennisetum glaucum
Family: Poaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| قابض، مجفف، مولد سودا | براعظم افریقہ و ایشیاء | خشک سرد | عضلاتی اعصابی | اعصابی اور بلغمی امراض میں |

تعارف:
باجرہ مشہور اناج ہے جس کی روٹی بنائی جاتی ہے اور دلیہ بھی بنایا جاتا ہے۔گندم کے عام ہونے کے بعد باجرہ کی روٹی کا استعمال تقریبا ختم ہو گیا ہے البتہ دلیے کا استعمال اب بھی عام ہے۔ باجرے کا رنگ بھورا، ذائقہ پھیکا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بابونہ / کیمومائل
یہ بھی پڑھیں: بابچی
یہ بھی پڑھیں: ایلوویرا

کیمیاوی و غذائی اجزا:
کیمیائی و حیاتیاتی بایو ایکٹو اجزا
پولی فینولز (Polyphenols)، فلیونوئیڈز (Flavonoids)، فینولک ایسڈز (Phenolic acids)، کنڈینسڈ ٹیننز (Condensed tannins)، ٹرائسن (Tricin)، ایکاسیٹن (Acacetin)، لُیوٹیولین کے مشتقات (Luteolin derivatives)، وانیلیک ایسڈ (Vanillic acid)، سیرنجک ایسڈ (Syringic acid)، پیرا ہائیڈروکسی بینزوئک ایسڈ (Para-hydroxybenzoic acid)، سیلیسیلک ایسڈ (Salicylic acid)، میلولوٹک ایسڈ (Melilotic acid)،۔
غیر سیر شدہ فیٹی ایسڈز (Unsaturated fatty acids)
اولیک ایسڈ (Oleic acid) لینولک ایسڈ (Linoleic acid)۔اومیگا 6 لینولینک ایسڈ (Linolenic acid)۔اومیگا 3
فائیٹو سٹیرولز (Phytosterols)، ٹرائٹرپینز (Triterpenes)، فیٹی امائڈز (Fatty amides)، ہائیڈروکاربنز (Hydrocarbons)

وٹامنز
تھامین، ربوفلیون، نایاسین، پائریڈوکسین، فولیٹ، وٹامن ای، وٹامن کے۔
منرلز
کیلشیم، میگنیشیم، فاسفورس، پوٹاشیم، لوہا، زنک، تانبا، مینگنیز، سیلینیم، سوڈیم۔
باجرا خاص طور پر اپنے آئرن اور میگنیشیم کے اعلیٰ مواد کے لیے جانا جاتا ہے، مزید برآں، یہ فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہے، جو اس کے صحت کے فوائد میں معاون ہے۔

اثرات:
محرک عضلات۔ محلل اعصاب، مسکن جگر ہے۔ مولد سودا اور مولد ریاح ہے۔ قاطع بلغم اور خشک و قابض ہے۔ مجفف رطوبات ہے۔
خواص و فوائد
باجرہ قابض اور دیر ہضم غذا ہے۔ مجفف ہونے کی وجہ سے جسم میں موجود رطوبات کو خشک کرتا ہے۔ایسے دست جن میں غذا کچی، غیر ہضم اخراج پاتی ہوں یا سنگرہنی کی بیماری کی شکایت ہو تو باجرہ بطور غذا اعلیٰ درجے کی غذائے دوا ہے۔ کمزور اعصابی مریضوں کے لیے اس کا دلیہ بہترین چیز ہے۔ مولد سودا ہونے کی وجہ سے ایسے امراض جو بلغمی ہیں جیسے آتشک، کالی کھانسی، چیچک، خسرہ، زکام، چھینکیں آنا، کثرت پیشاب میں مفید ہے۔ مانع اسقاط حمل ہے، خون میں رطوبات کم کرکے غلظت پیدا کرتا ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات
باجرہ ایک غذائیت سے بھرپور اناج ہے جس میں قدرتی طور پر ایسے اجزا پائے جاتے ہیں جو جسم کو اندرونی نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق باجرہ میں موجود اینٹی آکسیڈینٹ مرکبات جسم میں پیدا ہونے والے فاسد مادوں کو کم کرتے ہیں، جس سے خلیات محفوظ رہتے ہیں اور قبل از وقت کمزوری اور تھکن کے امکانات گھٹ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باجرہ کو قوت بخش اور جسمانی توانائی بڑھانے والی غذا سمجھا جاتا ہے۔
باجرہ کے اندر پائے جانے والے بایو ایکٹو اجزا سوزش کم کرنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ مسلسل سوزش بہت سی دائمی بیماریوں کی جڑ بنتی ہے، جبکہ باجرہ کا استعمال جسم کے مدافعتی نظام کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے ایسے افراد کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے جو جوڑوں کے درد، جسمانی اکڑن یا اندرونی سوزش کا شکار ہوں۔
تحقیقی مطالعات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ باجرہ خون میں شوگر کی سطح کو اچانک بڑھنے سے روکتا ہے۔ اس کی وجہ اس میں موجود فائبر اور آہستہ ہضم ہونے والے اجزا ہیں، جو شوگر کو بتدریج خون میں شامل ہونے دیتے ہیں۔ اسی بنا پر باجرہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نسبتاً بہتر غذا تصور کیا جاتا ہے، بشرطیکہ مناسب مقدار میں استعمال کیا جائے۔ باجرہ دل کی صحت کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس میں پائے جانے والے غیر سیر شدہ فیٹی ایسڈز خون میں خراب چکنائی کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور شریانوں کو سخت ہونے سے بچاتے ہیں۔ یہی عمل دل کے دورے اور بلڈ پریشر جیسے مسائل کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ہو سکتا ہے۔
جدید تحقیق نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ باجرہ دماغی صحت پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ اس کے غذائی اجزا اعصابی نظام کو سہارا دیتے ہیں اور ذہنی تھکن، کمزوری اور توجہ کی کمی میں بہتری لا سکتے ہیں۔ اسی لیے دیہی اور محنت کش طبقات میں باجرہ کو دماغ اور جسم دونوں کے لیے طاقت بخش غذا مانا جاتا رہا ہے۔ مجموعی طور پر جدید سائنسی و طبی تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ باجرہ محض ایک روایتی اناج نہیں بلکہ ایک ایسی قدرتی غذا ہے جو جسم کو توانائی، تحفظ اور توازن فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسے فنکشنل فوڈ کے طور پر دوبارہ اہمیت دی جا رہی ہے اور صحت مند طرزِ زندگی میں شامل کرنے کی سفارش کی جا رہی ہے۔
حوالہ جات:
| pmc | |
| https://www.sciencedirect.com/science/article/pii/S2468227622000412 | sciencedirect |
| https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/28888442/ | pubmed |
| https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/39562765/ | Nih |
مقدار خوراک:
بقدر ہضم
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply