
بابچی
نام :
عربی میں بسوراليا۔ گجراتی میں بواچی۔ تامل میں کارپوریشی۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Psoralea
Scientific name: Psoralea corylifolia
Family: Legumes
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مصفی خون، کاسر ریاح | ہندوپاک | خشک گرم | عضلاتی غدی | مصفی خون ، امراض جلد |

تعارف:
اس کا انگریزی نام psoraleos جو دراصل یونانی زبان کا ہے جس کا معنی ہے چنبل یا خارش زدہ۔ ایک موسیمی بوٹی ہے جو دو تین فٹ تک اونچی ہوتی ہے، اس کے ساتھ گچھوں کی صورت میں پھول لگتے ہیں اور پھولوں کے بعد تخم یعنی بیج لگتے ہیں اور یہی بیج بطور دوا استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے بیج مسور یا موٹھ کے برابر اور درمیان سے چپٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ بیجوں کا بیرونی چھلکا سیاہ اور اندر کی گری زرد ہوتی ہے، جبکہ ذائقہ قدرے چرپرا ہوتا ہے۔ پھل میں عام طور پر کوئی بدبو نہیں ہوتی لیکن جب چبایا جاتا ہے تو اس میں تیزابیت پیدا ہوتی ہے۔ پھل کا ذائقہ تلخ، تیز اور ناگوار ہوتا ہے۔ پھولوں کا سائز چھوٹا اور سرخ سہ شاخہ کی طرح ہوتا ہے

یہ بھی پڑھیں: ایلوویرا
یہ بھی پڑھیں: ایشر مول / زراوند
یہ بھی پڑھیں: ایرسہ

کیمیاوی و غذائی اجزا:
جلدی بیماریوں میں فعال اجزا
پسورالن (Psoralen) آئیسوپسورالن (Isopsoralen) پسورالڈین (Psoralidin)
پسورالنوسائڈ (Psoralenoside) آئیسوپسورالنوسائڈ (Isopsoralenoside)
یہ اجزا جلدی بیماریوں میں استعمال ہونے والے فعال جزو ہیں۔

بابچی کے دیگر اجزا
باکوچیل (Bakuchiol) بس باکوچیل اے (Bisbakuchiol A) بس باکوچیل بی (Bisbakuchiol B)
بواواچلن (Bavachalcone) آئسو بواواچلن (Isobavachalcone) بواواچن (Bavachin)
بواواچنن (Bavachinin) کوریلفول (Corylifol) کوریلفولن (Corylifolin) پسوریاکرپین (Psoryacoumarin)
کومیسٹن (Coumestan) آئسوفلیوونز (Isoflavones) فلیوونوئڈز (Flavonoids) چالکونز (Chalcones)
بینزوفیورانز (Benzofurans) ضروری تیل (Essential oils) فیٹی ایسڈز (Fatty acids)
سٹگماسٹرول (Stigmasterol) بیٹا سائٹوسٹرول (Beta-sitosterol)

اثرات:
چونکہ عضلاتی غدی ہے اس لیے عضلات میں تحریک، اعصاب میں تحلیل اور غدد میں تقویت پیدا کرتے ہیں۔ اس میں گندھک پائی جاتی ہے ۔
خواص و فوائد
اس کے بیج مصفی خون ہونے کی وجہ سے خون کو صاف کرتے ہیں،پھوڑے پھنسی، خارش، چنبل، جذام وغیرہ میں مفید ہیں۔ بابچی ملین بھی ہے۔ کاسر ریاح ہونے کی وجہ سے گیسوں کو توڑ دیتی ہے، چونکہ اس میں گندھک بھی پائی جاتی ہے اس لیے یہ سوزش معدہ، اور درد معدہ میں مفید ہے۔۔ قاتل کرم شکم یعنی پیٹ کے کیڑوں کو مار دیتے ہیں۔
جدید سائنسی تحقیقات
بابچی (Psoralea corylifolia) کے جدید سائنسی و طبی فوائد پر موجودہ تحقیق کی روشنی میں اس کے اثرات کو اب روایتی دعووں تک محدود نہیں سمجھا جاتا بلکہ کئی پہلوؤں سے سائنسی طور پر جانچا جا چکا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق بابچی میں پائے جانے والے فوٹو ایکٹو اجزا جلد کے خلیات میں رنگ بنانے والے نظام کو متحرک کرتے ہیں، اسی وجہ سے اسے سفید داغ اور برص میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اجزا جلد کو سورج کی مخصوص شعاعوں کے لیے حساس بنا کر میلانِن کی پیداوار بڑھانے میں مدد دیتے ہیں، جو جلد کی قدرتی رنگت کی بحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
بابچی کے بعض مرکبات مضبوط اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹیریل اثر رکھتے ہیں۔ جدید تجربات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ جلد پر موجود فنگس اور نقصان دہ جراثیم کی افزائش کو روکتے ہیں، اسی لیے داد، خارش، فنگل انفیکشن اور بعض بیکٹیریائی جلدی امراض میں اس کی افادیت دیکھی گئی ہے۔ سائنسی مطالعات یہ بھی بتاتے ہیں کہ بابچی میں اینٹی سوزش خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ جلد کی سوزش، لالی اور جلن کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس کی وجہ سے ایگزیما اور سوزش والی جلدی کیفیتوں میں اس پر تحقیق کی گئی ہے۔
بابچی کے کچھ اجزا طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ اثر رکھتے ہیں جو جلدی خلیات کو آکسیڈیٹو نقصان سے بچاتے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے جلد کی قبل از وقت بڑھاپے کی علامات، خلیاتی کمزوری اور بیرونی ماحولیاتی اثرات سے ہونے والا نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔ جدید طبی تحقیق میں بابچی کے بعض مرکبات کو مہاسوں کے خلاف بھی مؤثر پایا گیا ہے، کیونکہ یہ جلد میں چکنائی کے غیر متوازن اخراج اور جراثیمی سرگرمی کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسی بنیاد پر جدید کاسمیٹک اور ڈرماٹولوجیکل مصنوعات میں بھی اس کے اجزا شامل کیے جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ بابچی کے کچھ اجزا جلدی خلیات کی نشوونما اور مرمت کے عمل کو سہارا دیتے ہیں، جس سے زخموں کے بھرنے اور جلد کی عمومی صحت بہتر ہونے کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔
مجموعی طور پر جدید سائنسی تحقیق بابچی کو ایک ایسا پودا تسلیم کرتی ہے جس میں جلدی بیماریوں، انفیکشن، سوزش اور خلیاتی کمزوری کے خلاف حقیقی حیاتیاتی صلاحیت موجود ہے، تاہم جدید طب میں اس کا استعمال ہمیشہ درست مقدار اور طبی نگرانی کے ساتھ کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔
مقدار خوراک:
سفوف آدھا گرام سے ایک گرام تک۔ دو گرام سے زیادہ منع ہے۔
حوالہ جات:
https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC7167735 | pmc |
https://www.sciencedirect.com/science/article/pii/S0254629922000266 | sciencedirect |
| https://www.florajournal.com/archives/2019/vol7issue4/PartA/7-4-16-315.pdf | florajournal |
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply